عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت نہ آئے ، پھر اُس کا شوہر ناراضی کی حالت میں رات گزارے تو فرشتے صبح ہونے تک اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ‘‘ صحیحین کی روایت میں ہے : ’’جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدہ رات گزارے تو صبح تک فرشتے اُس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے

سے انکار کردے تو آسمان والوں کا مالک یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس عورت سے اُس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی نہ ہوجائے۔ ‘‘

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَعَا الرَّجُلُ اِمْرَاَتَہُ اِلَی فِرَاشِہِ فَلَمْ تَاْتِہِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَیْھَا لَعَنَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ.( )وَفِی رِوَایَۃٍ لَھُمَا اِذَا بَاتَتِ الْمَرْاَۃُ ھَاجِرَۃً فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ حَتَّی تُصْبِحَ.( )وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُو امْرَاَتَہُ اِلَی فِرَاشِہِ فَتَاْبَی عَلَیْہِ اِلَّا کَانَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ سَاخِطاً عَلَیْھَا حَتَّی یَرْضَی عَنْھَا.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 281 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : “ کسی عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی روزہ) رکھےاور کسی کو اس کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر نہ آنے دے ۔ “

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَيْضًا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: لاَ يَحِلُّ لِلْمَرْاَةِ اَنْ تَصُوْمَ

وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ اِلَّا بِاِذْنِهِ وَلاَ تَاْذَنَ فِى بَيْتِهِ اِلَّا بِاِذْنِهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 282 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’تم سب نگران ہو اور تم میں ہر ایک سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا ، امیر نگران ہے ، مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کی اولاد پر نگران ہےاورتم سب نگران ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْاَمِيْرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَي اَهْلِ بَيْتِهِ وَالْمَرْاَةُ رَاعِيَةٌ عَلَي بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. “ ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 283 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلق بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جب آدمی بیوی کواپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ فوراً چلی جائے اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ “

عَنْ اَبِیْ عَلِی طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَاتِهِ وَاِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 284 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر میں کسی شخص کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ كُنْتُ اٰمِرًا اَحَدًا اَنْ يَسْجُدَ لِاَحَدٍ

لَاَمَرْتُ الْمَرْاَةَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 285 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سَلَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے ، فرماتی ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جو بھی عورت اِس حال میں اِس دنیا سے گئی کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ “

عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:اَيُّمَا امْرَاَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 286 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : “ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جنت میں حُورِ عین میں سے اُس کی بیوی کہتی ہے کہ اِسے تکلیف مت دے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاک کرے ، بے شک وہ تو تیرے پاس مہمان ہے ، عنقریب اُسے تجھ سے جدا ہوکر ہمارے پاس آنا ہے۔ “

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُؤْذِي امْرَاَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِيْنِ:لَا تُؤْذِيْهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوْشِكُ اَنْ يُفَارِقَكِ اِلَيْنَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 287 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنااُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ میں نے اپنے بعد مَردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دِہ فتنہ نہیں چھوڑا۔ “سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم

عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَا تَرَکْتُ بَعْدِی فِتْنَۃً ھِیَ اَضَرُّ عَلَی الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ. )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 288 ، عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان