Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 285

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ كُنْتُ اٰمِرًا اَحَدًا اَنْ يَسْجُدَ لِاَحَدٍ

لَاَمَرْتُ الْمَرْاَةَ اَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا. ( )

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: لو كنت امرا احدا ان يسجد لاحد

لامرت المراة ان تسجد لزوجها. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر میں کسی شخص کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

شوہر کی حددرجہ تعظیم کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِِس حدیث پاک سے شوہر کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے کہ شوہر کا مقام اتنا بلند ہے کہ اگر کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو عورت کو اجازت ہوتی کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے لیکن ہماری شریعت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا جائز نہیں ، اس لیے شوہر کو سجدہ کرنے کا حکم ارشاد نہ فرمایا۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا کہ میں عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ عورت پر شوہر کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اُس کےاِحسانات کا شکریہ ادا کرنے سے عاجز ہے اور یہ حد درجہ کا مبالغہ ہے تاکہ پتہ چلے کہ عورت پر اپنے شوہر کی اِطاعت کس قدر واجب و لازم ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا جائز نہیں لیکن اگر جائز ہوتا تو صِرف اور صِرف شوہر کو سجدہ جائز ہوتا۔ ‘‘( )سجدے کی دو اَقسام اور اُن کا حکم:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : “ ہماری شریعت میں غیر خدا کو سجدہ حرام ہے ، سجدۂ عبادت کفر ہے ، سجدہ تعظیم حرام۔ دوسری شریعتوں میں بندوں کو سجدۂ تعظیم جائز تھا۔ اِس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالکِ اَحکام ہیں کہ فرماتے ہیں : اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا۔ یہاں حکم سے مُراد وُجُوبی حکم

ہے یا اِستحبابی یا اِباحت کا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خاوند کی اِطاعت و تعظیم اَشد ضروری ہے اِس کی ہر جائز تعظیم کی جائے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’قرآن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اِسلام میں شوہر کی حد درجہ تعظیم اور اِطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)عورت پر شوہر کے بہت اِحسانات ہوتے ہیں ، اگر وہ اُس کے حُقُوق کو کما حَقُّہ ادا کرنا چاہے تو بھی ادا نہ کرسکتی ، اِس لیے اِسے چاہیے کہ شوہر کی ہردَم اِطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلے۔
(3)اِسلام میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو بھی سجدہ کرنا جائز نہیں ہے ، غیرُاللہ کو سجدہ عبادت کرنا کفر ہے اور سجدہ تعظیمی کرنا حرام ۔
(4)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مالکِ احکام ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو اس بات کا اختیار عطا فرمایا ہے کہ جس کے لیے جو حکم چاہیں خاص فرمادیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اِخلاص کے ساتھ شرعی اَحکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 285