Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 287

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُؤْذِي امْرَاَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا اِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِيْنِ:لَا تُؤْذِيْهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوْشِكُ اَنْ يُفَارِقَكِ اِلَيْنَا. ( )

عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ عن النبی صلى الله عليه وسلم قال: لا تؤذي امراة زوجها في الدنيا الا قالت زوجته من الحور العين:لا تؤذيه قاتلك الله فإنما هو عندك دخيل يوشك ان يفارقك الينا. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : “ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جنت میں حُورِ عین میں سے اُس کی بیوی کہتی ہے کہ اِسے تکلیف مت دے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاک کرے ، بے شک وہ تو تیرے پاس مہمان ہے ، عنقریب اُسے تجھ سے جدا ہوکر ہمارے پاس آنا ہے۔ “

شرح حدیث

شوہر کی عزت وعظمت:اِس حدیث پاک میں شوہر کی بڑی عزت وعظمت کا بیان ہے ، نیز اِس بات کا بھی بیان ہے کہ شوہر کو تکلیف دینا اتنا بُرا ہے کہ جب کوئی عورت دنیا میں اپنے نیک شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو جواب میں جنت کی حور اُسے تنبیہ کرتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے نیک شوہر کو تکلیف دینا گویا جنتی مخلوق کو تکلیف دینا ہے۔حُورِعین اور جنتی کو ملنے والی حُوریں:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حُور بنا ہے حُوراء سے بمعنی آنکھ کی تیزسفیدی ، پتلیوں کی تیز سیاہی ، یہ چیز حُسن کا اعلیٰ درجہ ہے۔ عِین جمع ہے عیناء کی جس کا معنیٰ ہے بڑی بڑی آنکھ۔ چونکہ حُوروں کی آنکھیں بڑی اور خوب سفید و سیاہ ہیں اِس لیے اُنہیں

حُورِعِین کہا جاتا ہے۔ ‘‘( ) حضرت سیدناابُوسعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرور ِ کونَین ، دُکھی دِلوں کے چین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’سب سے ادنیٰ جنتی کو اَسی ہزار(80000) خادم اور ۷۲حوریں دی جائیں گی۔ ‘‘( )
مہمان کہنے کی وجہ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’دَخِیْل کا مطلب ہے مہمان ، کہیں سے آنے والا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ تمہارا یہ شوہر دنیا میں تمہارے پاس ایک مہمان کی طرح ہے اور تم در حقیقت اُس کی اہل (گھر والی) نہیں ہو کیونکہ عنقریب وہ تم سے جُدا ہوجائے گااور اُس کے بلند مقام کی وجہ سے تم اُس سے مل نہیں پاؤگی جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ(پ۲۷ ، الطور : ۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اورجو ایمان لائے اوران کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی۔
بےشک ہم اُس کے اہل ہیں اور وہ تم سے جدا ہوکر تمہیں جہنم میں چھوڑ کر ہم سے ملنے والا ہے ہمارے پاس آنے والا ہے۔ ‘‘( )
حدیث پاک سے ماخوذ چند اہم مسائل:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1)ایک یہ کہ حُوریں نورانی ہونے کی وجہ سے جنت میں زمین کے واقعات دیکھتی ہیں ، دیکھو یہ لڑائی کسی گھر کی بند کوٹھڑی میں اور حُور دیکھ رہی ہے۔ (2) یہاں مِرقات نے فرمایا کہ مَلاءِ اعلیٰ دنیا والوں کے ایک ایک عمل پر خبردار ہیں ، دوسرے یہ کہ حُوروں کو لوگوں کے اَنجام کی خبر

ہے کہ فلاں مؤمن متقی مَرے گا۔ (3) تیسرے یہ کہ حُوروں کو لوگوں کے مقام کی خبر ہے کہ بعدِ قیامت یہ جنت کے فلاں درجہ میں رہے گا۔ (4) چوتھے یہ کہ حُوریں آج بھی اپنے خاوند انسانوں کو جانتی پہچانتی ہیں۔ (5)پانچواں یہ کہ آج بھی حُوروں کو ہمارے دُکھ سے دُکھ پہنچتا ہے ، ہمارے مخالف سے ناراض ہوتی ہیں ، جب حُوروں کے عِلم کا یہ حال ہے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو تمام خلق سے بڑےعالِم ہیں اِن کے علم کا کیا پوچھنا؟ آج لوگ حضور کو حاضِر ناظِر ماننا شرک کہتے ہیں۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ حُور حاضِر ناظِر ہے۔ (6) چھٹے یہ کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنت کے حالات حُوروں کے کلام سے خبر دار ہیں جب ہی حُور کا یہ کلام نقل فرمارہے ہیں۔ وہ ہے حُور ، حضور ہیں نُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔ (7) ہر حُور دنیا کے ہر گھر کے ہر حال سے خبردار ہے مگر یہ کلام وہ ہی حُور کرتی ہے جس کا زَوج اُس گھر میں ہو۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جَنَّتِی حُور‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)ہر جنتی کو جنت میں کثیر حُور وغِلمان دیے جائیں گے۔
(2)اسلام میں نیک متقی وپرہیزگار شوہر کی بہت ہی عزت وعظمت کو بیان فرمایا گیا ہے۔
(3)نیک شوہر کو تکلیف دینا گویا جنتی مخلوق کو تکلیف دینا ہے۔
(4)نیک متقی شوہر کو تکلیف دینے والی عورت کے لیے جنتی حُور ہلاکت کی دعا کرتی ہے۔
(5)شوہر کو اَحادیث میں وارد ہونے والے تمام فضائل اُسی وقت حاصِل ہوں گے جبکہ وہ اَحکامِ شَرعِیَّہ کا پابندہو ، اپنے گھروالوں کو شریعت پر چلنے کی تاکید کرتا ہو۔
(6)جنتی حُور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے جنت میں رہتے ہوئے دنیا کے معاملات ملاحظہ کرتی ہے۔
(7)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سےحاضِر ناظِر ہیں ، دنیا والوں

کے تمام اَحوال سے بھی باخبر ہیں اور جنت والوں کے اَحوال سے بھی باخبر ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شَرعِیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی بِلا حساب وکتاب جنت میں داخلہ اور وہاں کے حُور وغلِمان عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 287