Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 284

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ عَلِی طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَاتِهِ وَاِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ. ( )

عن ابی علی طلق بن علي رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اذا دعا الرجل زوجته لحاجته فلتاته وان كانت على التنور. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلق بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جب آدمی بیوی کواپنی حاجت کے لیے بلائے تو اسے چاہیے کہ فوراً چلی جائے اگرچہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو۔ “

شرح حدیث

تنور کے ذکر کی خصوصیت:اِس حدیث میں اِس باب کی پہلی حدیث کی طرح عورت کو شوہر کی حاجت پوری کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ جب اُس کا شوہر اُسے آواز دے تو بلا تاخیر اُس کے پاس جائے دیر نہ کرے چاہے وہ تنور پر روٹی بنا رہی ہو۔ تنور پرروٹی بناتے وقت کا ہی ذکر کیوں کیا اِس کی وجہ علامہ طیبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی شرح میں کچھ یوں بیان فرمائی ہے کہ : ’’تنور پر روٹی پکانے کا ذکر اِس لیے کیا کہ یہ اُن کاموں میں سے ایک کام ہے جس کے کرتے وقت عورت کسی اور کام کی طرف توجہ نہیں کرتی ، یہاں تک کہ روٹی پکانے سے فارغ نہ ہو جائے۔ “ ( )ضروری کام میں مصروفیت ہو تب بھی جائے:شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی اگر کسی ضروری کام میں مشغول ہو اور مال کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہو ، تب بھی شوہر بلائے تو چلی جائے مثلاً اس نے تندور میں روٹیاں لگائیں ہوئی ہوں اور شوہر اسے آواز دے۔ ‘‘( ) “ مرآۃ المناجیح “ اور “ مرقاۃ المفاتیح “ میں ہے : “ حاجت سے مراد صحبت ہے۔ “ ( )
ایک مسئلے کی وضاحت:یہاں عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نے ایک مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ ’’شوہر کے بلانے پر جانے کا یہ حکم اُسی صورت میں ہے جب کہ روٹیاں شوہر کی ہوں کیونکہ جب وہ اُسے ا ِس حالت میں بلائے گا تو وہ اپنے مال کے ضائع ہونے پر راضی ہوگا۔ ‘‘( ) اور مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے فرمایا : ’’اگر روٹیاں کسی دوسرے کی ہوں تو نہ جائے ، اگر گئی اور روٹیاں ضائع ہو گئیں تواس کا تاوان دینا ہوگا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)شوہر کے بلانے کی صورت میں اُس کی اطاعت کرنا بہت ضروری ہے۔
(2)شوہر بلائے اور بیوی کسی ضروری کام میں مشغول ہو تب بھی اُس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔
(3)جب بیوی شوہر ہی کے کسی کام میں مصروف ہو اور شوہر بلائے تو اُس کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہماری خواتین کو اپنے شوہروں کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 284