Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 286

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:اَيُّمَا امْرَاَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الجَنَّةَ. ( )

عن ام سلمۃ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:ايما امراة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمّ سَلَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے ، فرماتی ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جو بھی عورت اِس حال میں اِس دنیا سے گئی کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ “

شرح حدیث

شوہر کی رضا طلب کرنا واجب ہے:امام ذہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’بیوی پر اپنے شوہر کی رضا طلب کرنا اور اُس کی ناراضی سے بچنا واجب ہے اور شوہر جب اُسے بلائے تو اُسے منع نہ کرے کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی زوجہ کو اپنے بستر پر بلائےتو وہ جائے اگرچہ تنور پر ہو۔ ‘‘( )کس شوہر کی رضا، دُخولِ جنت کا سبب ہے؟مذکورہ حدیث پاک سے بھی شوہر کی رضا و ناراضی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ جس عورت سے اُس کا شوہر راضی ہو اور خوش ہو اور اُسی حالت میں اُس کا انتقال ہوجائے تو وہ جنت میں داخل ہوگی لیکن وہ کونسا شوہر ہے جس کی رضا عورت کو جنت میں لے جائے گی؟مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہاں خاوند سے مراد مسلمان عالِم متقی خاوند ہے۔ ‘‘ یہ قیود بہت ہی مناسب ہیں ، بعض بے دِین خاوند تو عورت کی نماز سے ناراض ہوتے ہیں اُس کے گانے بجانے ، سنیما جانے ، بے پردہ پھرنے سے راضی ہوتے ہیں یہ رضا بے ایمانی ہے۔ ‘‘( )جنت میں داخلے کا معنی:حدیث پاک میں اِس بات کو بیان فرمایا گیا کہ جس عورت کا شوہر اُس سے راضی ہو اور اُس کا انتقال ہو تو وہ جنت میں جائے گی۔ ‘‘ جنت میں داخلے کا کیا معنی ہے۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت

مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی مَرتے ہی رُوحانی طور پر یا بعدِ قیامت جسمانی طور پر ، کیونکہ اُس نیک بی بی نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حقوق بھی ادا کیے بندے یعنی شوہرکے حقوق بھی۔ ‘‘( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ ابتداءً وہ کامیاب لوگوں کے ساتھ ہوجائے گی ، ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا اور اُس سے تمام حقوق والےراضی ہوجائیں گے۔ ‘‘( )حدیثِ پاک میں ہے : ’’اگر عورت پانچوں نمازیں پڑھے ، رمضان المبارک کے روزے رکھے ، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو اُس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جَنَّت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)بیوی پر شوہر کی رضا طلب کرنا اور اُس کی ناراضی سے بچنا واجب ہے۔
(2)شوہر جب بھی بلائے بیوی کو چاہیے کہ اُس کے حکم کی تعمیل میں اُس کے پاس چلی جائے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِس کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔
(3)اگر بیوی اپنے نیک متقی شوہر کی اِطاعت کرے اور وہ اُس سے راضی ہو تو ایسی بیوی وصال کے بعد جنت میں داخل ہوگی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہماری خواتین کو اپنے شوہروں کی رضا طلب کرنے اور اُن کی ناراضی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور ہمیں جنت میں بلا حساب وکتاب داخلہ نصیب فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 286