Main Icon

عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 283

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْاَمِيْرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَي اَهْلِ بَيْتِهِ وَالْمَرْاَةُ رَاعِيَةٌ عَلَي بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. “ ( )

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلي الله عليه وسلم قال كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته والامير راع والرجل راع علي اهل بيته والمراة راعية علي بيت زوجها وولده فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته. “ ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’تم سب نگران ہو اور تم میں ہر ایک سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا ، امیر نگران ہے ، مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کی اولاد پر نگران ہےاورتم سب نگران ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

لفظ’’راعی‘‘کے معانی:مذکورہ حدیث میں لفظ ’’رَاعٍ‘‘آیا ہے۔ اس کا مطلب اور معنیٰ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’راعی کے لغوی معنی ہیں چرواہا ، اصطلاح میں ہر محافظ اور حاکم کو راعی کہہ دیتے ہیں کہ جیسے چرواہا ساری بکریوں کا ذمہ دارہوتا ہے کہ اگر ایک بکری بھی ضائع ہوگئی تو بکری والا اُس سے مطالبہ کرتا ہے ، ایسے ہی رب تعالیٰ اُس سے ماتحت بندوں کے متعلق سوال فرمائے گا : )αقُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا((پ۲۸ ، التحریم : ۶) (ترجمۂ کنزالایمان : ’’اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ۔ ‘‘)مثلاً والد سے سوال ہوگا کہ تم نے اپنی بیوی بچوں کو رزق کیوں نہ پہنچایا؟یہ بھی سوال ہوگا کہ اُنہیں نیک کیوں نہ بنایا؟‘‘( )
مَرد کی ذمہ داری:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ذُو الاَمر سے مُراد صاحب اِقتدار ہیں خواہ بڑا حاکم ہو یا چھوٹا سب اِس میں شامل ہیں کہ سب اپنے ماتحتوں پر نگران ہیں اور اُن پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کے معاملات پر نظر رکھیں ، اُن کے مسائل حل کریں اور اُن کی پریشانیوں کو دُور کریں۔ اِسی طرح مَرد اپنے گھر والوں پر نگران ہےاور اپنی حیثیت کے مطابق اُن کی کفالت کرے گاکہ متوسط طبقے کا ہے تو متوسط اور اگر غنی ہے تو اُس طبقے کے لحاظ سے اور اُنہیں نیکی کا حکم دے ، بُرے کاموں سے روکے اور وہ شرعی اَحکامات سکھائے جن کی اُنہیں ضرورت ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مَرد سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنی بیوی بچوں کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں؟جن کا خرچہ تیرے ذمے تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں؟ اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں؟‘‘( )
عورت کی ذمہ داری:مذکورہ حدیث پاک میں عورت کو بھی اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی ذمہ دار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’عورت اپنے شوہر کے گھر کی چور ، اُچکوں سے حفاظت کرے اور (گھر کے کھڑکی دروازے بند رکھ کر) چوہے بلیوں جیسے دیگر نقصان پہنچانے والے جانوروں سےحفاظت کرے جو کہ گھروں میں گھس جاتے ہیں یونہی شوہر کے مال سے ایسا صدقہ نہ کرے جس پر شوہر راضی نہ ہو۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اور عورت سے سوال ہوگا کہ تونے اپنے خاوند کی خدمت کی یا نہیں؟خاوند کے مال اور اولاد کی خیر خواہی کی یا

نہیں؟بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ، اس لیے ماں پر لازم ہے کہ ان کی پرورش اور تربیت اچھی کرے ، ماں خاتون جنت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجیسی پرہیزگار بنے تاکہ اس کی اولاد جنتی نوجوانوں کے سردار سیدنا امام حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ جیسی ہونہار ہو ۔ اسی لیے اچھی لڑکیوں سے نکاح کرنا اچھا ہے کہ زمین اچھی ہو تو پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔ ‘‘( )
بیوی کی دو اہم ذمہ داریاں:دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۳ صفحات پر مشتمل کتاب احیاء العلوم جلد2 صفحہ218 پر ہے : ’’بیوی کے ذمہ شوہر کے کئی حقوق ہیں لیکن دو اُمور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں : (1) حفاظت و پردہ کرنا (کہ جہاں تک ہوسکے خود کو غیر محرموں کی نظروں سے بچائے اور اُن سے پردہ کرے۔ )۔ (2) غیر ضروری چیزوں کا مطالبہ کرنے سے بچنا اور اگر شوہر کی کمائی حرام ہو تو اُس سے بھی بچے۔ ‘‘گزشتہ زمانے میں عورتوں کی یہی عادت تھی کہ مرد گھر سے نکلنے لگتا تو اس کی بیوی یا بیٹی اس سے کہتی : ’’حرام کمائی سے بچتے رہنا ، ہم بھوک و تکلیف تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جہنم کی آگ برداشت نہیں کر سکتے۔ ‘‘ہرشخص اپنا بھی نگران ہے:یہاں ایک سوال ہوتا ہے کہ جس کے پاس کوئی اِقتدار نہ ہو اور نہ ہی اُس کے بیوی بچے ہوں وہ تو کسی پر نگران نہیں تو کیا اُس سے کوئی سوال جواب نہ ہوگا؟ اِس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ایسا انسان اپنے آپ پر نگران ہے۔ یعنی وہ اپنے اعضاء و جوارح کا ذمہ دار ہےلہٰذا اسے چاہیے کہ وہ نیک کام کرے ، بُرے کاموں سے بچے ، قولی طور پر بھی عملی اور اعتقادی طور پر بھی۔ اِس کے اَعضاء و جوارِح اِس کی رعایا ہیں لہٰذا ہر شخص سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ جس کا کرنا اور جس کام سے بچنا اُس پر لازم تھا کیا وہ اُس پر قائم رہا یا نہیں؟‘‘( )

مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اَعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اُس سے اپنے اَوقات ، اپنے حالات ، اپنے خیالات ، آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کیے؟اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے : )
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)( (پ۲۶ ، ق : ۱۸) (ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔ )غرض یہ کہ ہر ایک سے اُس کی ذمہ داریوں کے متعلق پُرسش ہوگی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے ، پردے رکھے ، لغزشیں مُعاف کرے۔ ( )مدنی گلدستہ
امام ’’ حسین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)قیامت کے دن ہر شخص سے اُس کے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم سے اُس کی رعایا کے بارے میں ، مرد سے اُس کے بیوی بچوں کے بارے میں ، عورت سے اُس کے شوہر کے گھرکی حفاظت اور اولاد کی پرورش کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(2)بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے ، اِس لیے ماں پر لازم ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت کرے۔
(3)اچھی اور نیک سیرت لڑکی سے نکاح کرنا چاہیے تاکہ اولاد کی تربیت اچھی ہو۔
(4)اِنسان سے اُس کے اَعضاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ ہاتھوں کو کہاں استعمال کیا؟ پیروں سے چل کر کہاں کہاں گئے؟ زبان سے کیسی گفتگو کی ؟وغیرہ وغیرہ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ماتحتوں کے حقوق کا خیال رکھنے ، اُن کی اچھی تربیت کرنے اور ہمیں اپنے اعضاء کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 283