- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- حدیث نمبر 283
عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 283
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْاَمِيْرُ رَاعٍ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَي اَهْلِ بَيْتِهِ وَالْمَرْاَةُ رَاعِيَةٌ عَلَي بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. “ ( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلي الله عليه وسلم قال كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته والامير راع والرجل راع علي اهل بيته والمراة راعية علي بيت زوجها وولده فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته. “ ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’تم سب نگران ہو اور تم میں ہر ایک سے اُس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا ، امیر نگران ہے ، مرد اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اُس کی اولاد پر نگران ہےاورتم سب نگران ہو اور تم سے تمہارے ماتحتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ‘‘
شرح حدیث
لفظ’’راعی‘‘کے معانی:مذکورہ حدیث میں لفظ ’’رَاعٍ‘‘آیا ہے۔ اس کا مطلب اور معنیٰ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’راعی کے لغوی معنی ہیں چرواہا ، اصطلاح میں ہر محافظ اور حاکم کو راعی کہہ دیتے ہیں کہ جیسے چرواہا ساری بکریوں کا ذمہ دارہوتا ہے کہ اگر ایک بکری بھی ضائع ہوگئی تو بکری والا اُس سے مطالبہ کرتا ہے ، ایسے ہی رب تعالیٰ اُس سے ماتحت بندوں کے متعلق سوال فرمائے گا : )αقُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا((پ۲۸ ، التحریم : ۶) (ترجمۂ کنزالایمان : ’’اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ۔ ‘‘)مثلاً والد سے سوال ہوگا کہ تم نے اپنی بیوی بچوں کو رزق کیوں نہ پہنچایا؟یہ بھی سوال ہوگا کہ اُنہیں نیک کیوں نہ بنایا؟‘‘( )
مَرد کی ذمہ داری:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ذُو الاَمر سے مُراد صاحب اِقتدار ہیں خواہ بڑا حاکم ہو یا چھوٹا سب اِس میں شامل ہیں کہ سب اپنے ماتحتوں پر نگران ہیں اور اُن پر لازم ہے کہ اپنی رعایا کے معاملات پر نظر رکھیں ، اُن کے مسائل حل کریں اور اُن کی پریشانیوں کو دُور کریں۔ اِسی طرح مَرد اپنے گھر والوں پر نگران ہےاور اپنی حیثیت کے مطابق اُن کی کفالت کرے گاکہ متوسط طبقے کا ہے تو متوسط اور اگر غنی ہے تو اُس طبقے کے لحاظ سے اور اُنہیں نیکی کا حکم دے ، بُرے کاموں سے روکے اور وہ شرعی اَحکامات سکھائے جن کی اُنہیں ضرورت ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مَرد سے سوال ہوگا کہ تو نے اپنی بیوی بچوں کے شرعی حقوق ادا کیے یا نہیں؟جن کا خرچہ تیرے ذمے تھا انہیں خرچ دیا یا نہیں؟ اور جن کی تعلیم تجھ پر لازم تھی انہیں تعلیم دی یا نہیں؟‘‘( )عورت کی ذمہ داری:مذکورہ حدیث پاک میں عورت کو بھی اپنے شوہر کے گھر اور اولاد کی ذمہ دار فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’عورت اپنے شوہر کے گھر کی چور ، اُچکوں سے حفاظت کرے اور (گھر کے کھڑکی دروازے بند رکھ کر) چوہے بلیوں جیسے دیگر نقصان پہنچانے والے جانوروں سےحفاظت کرے جو کہ گھروں میں گھس جاتے ہیں یونہی شوہر کے مال سے ایسا صدقہ نہ کرے جس پر شوہر راضی نہ ہو۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اور عورت سے سوال ہوگا کہ تونے اپنے خاوند کی خدمت کی یا نہیں؟خاوند کے مال اور اولاد کی خیر خواہی کی یا
نہیں؟بچوں کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ، اس لیے ماں پر لازم ہے کہ ان کی پرورش اور تربیت اچھی کرے ، ماں خاتون جنت سیدتنا فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجیسی پرہیزگار بنے تاکہ اس کی اولاد جنتی نوجوانوں کے سردار سیدنا امام حُسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُ جیسی ہونہار ہو ۔ اسی لیے اچھی لڑکیوں سے نکاح کرنا اچھا ہے کہ زمین اچھی ہو تو پیداوار بھی اچھی ہوتی ہے۔ ‘‘( )بیوی کی دو اہم ذمہ داریاں:دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۳۹۳ صفحات پر مشتمل کتاب احیاء العلوم جلد2 صفحہ218 پر ہے : ’’بیوی کے ذمہ شوہر کے کئی حقوق ہیں لیکن دو اُمور زیادہ اہمیت کے حامل ہیں : (1) حفاظت و پردہ کرنا (کہ جہاں تک ہوسکے خود کو غیر محرموں کی نظروں سے بچائے اور اُن سے پردہ کرے۔ )۔ (2) غیر ضروری چیزوں کا مطالبہ کرنے سے بچنا اور اگر شوہر کی کمائی حرام ہو تو اُس سے بھی بچے۔ ‘‘گزشتہ زمانے میں عورتوں کی یہی عادت تھی کہ مرد گھر سے نکلنے لگتا تو اس کی بیوی یا بیٹی اس سے کہتی : ’’حرام کمائی سے بچتے رہنا ، ہم بھوک و تکلیف تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جہنم کی آگ برداشت نہیں کر سکتے۔ ‘‘ہرشخص اپنا بھی نگران ہے:یہاں ایک سوال ہوتا ہے کہ جس کے پاس کوئی اِقتدار نہ ہو اور نہ ہی اُس کے بیوی بچے ہوں وہ تو کسی پر نگران نہیں تو کیا اُس سے کوئی سوال جواب نہ ہوگا؟ اِس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ایسا انسان اپنے آپ پر نگران ہے۔ یعنی وہ اپنے اعضاء و جوارح کا ذمہ دار ہےلہٰذا اسے چاہیے کہ وہ نیک کام کرے ، بُرے کاموں سے بچے ، قولی طور پر بھی عملی اور اعتقادی طور پر بھی۔ اِس کے اَعضاء و جوارِح اِس کی رعایا ہیں لہٰذا ہر شخص سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ جس کا کرنا اور جس کام سے بچنا اُس پر لازم تھا کیا وہ اُس پر قائم رہا یا نہیں؟‘‘( )
مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ ہرشخص خود اپنے نفس اور اپنے اَعضاء کا راعی و ذمہ دار ہے کہ اُس سے اپنے اَوقات ، اپنے حالات ، اپنے خیالات ، آنکھ ناک کان وغیرہ کا حساب ہوگا کہ کہاں استعمال کیے؟اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے : )مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)( (پ۲۶ ، ق : ۱۸) (ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔ )غرض یہ کہ ہر ایک سے اُس کی ذمہ داریوں کے متعلق پُرسش ہوگی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہم گنہگاروں کا بیڑا پار لگائے ، پردے رکھے ، لغزشیں مُعاف کرے۔ ( )مدنی گلدستہ
امام ’’ حسین‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)قیامت کے دن ہر شخص سے اُس کے ماتحت کے بارے میں سوال ہوگا ، حاکم سے اُس کی رعایا کے بارے میں ، مرد سے اُس کے بیوی بچوں کے بارے میں ، عورت سے اُس کے شوہر کے گھرکی حفاظت اور اولاد کی پرورش کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(2)بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے ، اِس لیے ماں پر لازم ہے کہ بچوں کی اچھی تربیت کرے۔
(3)اچھی اور نیک سیرت لڑکی سے نکاح کرنا چاہیے تاکہ اولاد کی تربیت اچھی ہو۔
(4)اِنسان سے اُس کے اَعضاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ ہاتھوں کو کہاں استعمال کیا؟ پیروں سے چل کر کہاں کہاں گئے؟ زبان سے کیسی گفتگو کی ؟وغیرہ وغیرہ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے ماتحتوں کے حقوق کا خیال رکھنے ، اُن کی اچھی تربیت کرنے اور ہمیں اپنے اعضاء کو صحیح جگہ استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 283