Main Icon

باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 958

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ اَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُوْنَ مِنَ الْوَحْدَةِ مَا اَعْلَمُ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ.

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو ان الناس يعلمون من الوحدة ما اعلم، ما سار راكب بليل وحده.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسےمَروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے نقصانات کے بارے میں وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا۔“

شرح حدیث

تنہاسفرکرنے کے نقصانات:حدیثِ مذکور میں تنہا سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ تنہا سفر کرنے کے دِینی ودُنیاوی کئی طرح کے نقصانات ہیں۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”(تنہا سفر کرنےمیں )دِینی و دُنیاوی دونوں نقصان ہیں:*دِینی نقصان تو یہ کہ اکیلا آدمی سفر میں جماعت نہیں کرسکتا۔ دُنیاوی نقصان یہ کہ*اکیلے میں وَحشت بھی ہوتی ہے،*سفر کے ضروریات بھی پورے نہیں ہوتے، *بیماری میں تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے، *اگر موت واقع ہوجائے تو کوئی وطن میں خبر پہنچانے والا بھی نہیں ہوتا۔“اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:” رات کو تنہا سفر کرنا اس لیے منع ہے کہ*رات میں خطرہ اور شر بہت ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل،اہلِ عرب کارات کے بارے میں یہ محاورہ مشہور ہے:اَللَّيْلُ اَخْفٰى لِلْوَيْلِیعنی رات اپنے دامن میں بہت سی مصیبتوں کو چھپائے ہوئے ہے۔*جب رات میں اندھیرا زیادہ ہو تو ہلاکت خیزیاں اور بڑھ جاتی ہیں۔* سواری رات کے اندھیرے میں کسی چیز سے ڈر کر بھاگ سکتی ہے، *گڑھے یا کھائی میں گرنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے نقصانات ہیں، ہاں !جب کئی لوگ ساتھ ہوں تو اس طرح کی پریشانیاں نہیں ہوتیں ۔“
علامہ
مُہَلِّب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اکیلے انسان کو سفر کرنے سے اس لیے منع فرمایا کہ اکیلے شخص پر شیاطین کے حملے کا خطرہ زیادہ ہوتاہے، کیونکہ رات کا وقت شیاطین کے پھیلنے کا وقت ہوتا ہے، وہ اس وقت انسانوں کو اَذِیَّت پہنچاتے ہیں اور مختلف شکلوں سے انہیں خوف زدہ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وسوسے ڈالتے ہیں، اسی وجہ سے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ رات کے اندھیرے میں اپنے بچوں کو گھروں میں روک کر رکھیں باہر نہ جانے دیں۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدتنہاسفرکرنے کی صورتیں:حدیثِ مذکور میں حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اگر لوگ تنہا سفر کرنے کے نقصانات کے بارے میں وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات کو تنہا سفر نہ کرتا ۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی اگر اکیلے سفرکرنے کے نقصانکَمَا حَقُّہمعلوم ہوں تو پیدل تو کیا سوار بھی اکیلے سفر کرنے کی جرأت نہ کرے۔ خیال رہے کہ اُس زمانہ میں راستے پُر امن نہ تھے اکیلے سفر نہایت خطرناک تھا اب ریل ہوائی جہاز موٹروں کی وجہ سے وہ خطرے نہیں ہیں لہٰذا اب اَحکام نرم ہوں گے نیز رات کا اکیلے سفر اُس زمانہ میں زیادہ خطرناک تھا وہاں یہ مثل مشہور تھی: ”اَللَّيْلُ اَخْفَى بِالْوَيْلِ“(یعنی رات اپنے دامن میں بہت سی مصیبتوں کو چھپائے ہوئے ہے۔)اس لیے خصوصیت سے رات ہی میں سفر کا ذکر ہوا۔“ شارحِ بخاری علامہ سیدمحموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مطلبِ حدیث یہ ہے کہ راستہ پُر امن ہو تو ایسی صورت میں اکیلے سفر کرنا جائز ہے اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ دُشمن یا درندے یا چور ڈاکو نقصان پہنچائیں گے تو پھر رات کیا دن میں بھی اکیلے سفرکرنا مناسب نہیں ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 958