Main Icon

باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 960

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ وَ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِیْ سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوْا اَحَدَهُمْ.

عن ابي سعيد و ابي هريرة رضی اللہ عنہما قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اذا خرج ثلاثة فی سفر فليؤمروا احدهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید اور حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”جب تین اَفراد سفر کے لیے روانہ ہوں تو انہیں چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں۔“

شرح حدیث

امیر کی اہمیت:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اگر مسافر تین یا زیادہ ہوں تو انتظام قائم رکھنے کے لیے اپنے میں سے ایک افضل اور تجربہ کار کو اپنا سردار بنائیں جو ہر چیز کا انتظام رکھے اور باقی ساتھی اُس کے مشورہ پرعمل کریں اس میں برکت بھی ہوگی اور سفر میں آسانی بھی اس سردار کو چاہیے کہ اپنے کو اُن ساتھیوں کا حاکم نہ سمجھے بلکہ خادِم تصور کرے، نماز بھی وہ ہی پڑھائے جیساکہ بزاز نے بروایت حضرت ابوہریرہ مرفوعًا روایت کی کہ جب تم چند آدمی سفرکرو تم میں سے بڑا قاری (عالِم) تمہاری امامت کرے اور جب وہ تمہاری اِمامت کرے تو وہ ہی تمہارا امیروسردار ہے۔“شیخ عبدالحق مُحدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”(دورانِ سفر ایک شخص کو امیر بنانے کا حکم دیا گیا ہے) تاکہ اترنے، سوار ہونے اور ایسے ہی دوسرے معاملات میں اختلاف اور جھگڑا نہ ہو۔ امیر کو چاہیے کہ ساتھیوں کے ساتھ خیر خواہی، نرمی اور امداد کا رویہ اختیار کرے اور ان کا خادم بنے، جیساکہ حدیث شریف میں ہے ”سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ“قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔ “عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُ الرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”امیر ایسے شخص کو بنانا چاہیے جو اُن میں سب سےزیادہ زُہد رکھتا ہو، سب سے زیادہ متقی ہو، مُروَّت و سخاوت کے اعتبار سے کامل ہو اور سب سے بڑھ کر شفقت کرنے والا ہو۔“امیر ہو تو ایسا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ سفر پر روانہ ہوتے ہوئے ایک شخص کو امیر بنا لیا جائے، امیر ایسے شخص کو بنائیں جو نہایت بُردباراورحُسنِ اَخلاق کا پیکر ہو اور جسے امیر بنایا جائے اُسے چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کا خیال رکھے، انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچنے دے اگر کسی چیز میں کمی کا سامنا ہو تو ایثار کرتے ہوئے اپنی ذات پر انہیں ترجیح دے، خود تکلیف برداشت کرکے اپنے رفقا کو راحت پہنچائے۔ ہمارے اسلاف کا بھی یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ خودمشقت برداشت کر کے اپنے رفقا کو راحت پہنچاتے تھے۔چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو علی رباطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینے حضرت سیِّدُناعبداللّٰہمَروَزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِیکی صحبت اختیار کی توانہوں نے فرمایا:’’اس شرط پر میں تمہیں اپنی صحبت میں رکھوں گا کہ ہم دونوں میں سے ایک امیر ہوگا۔‘‘حضرت سیِّدُناابو علی رباطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینے کہا:’’آپ ہی امیر ہیں۔‘‘تو حضرت سیِّدُناعبداللّٰہمَروَزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِیاپنا اوران کاسامان اپنی پیٹھ پر اٹھائے پھرتے رہے، ایک رات تیز بارش ہوئی تو حضرت سیِّدُناعبداللّٰہمَروَزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِیساری رات ایک چادر اپنے رفیق کے سر پر پھیلائے کھڑے ان سے بارش روکتے رہے،حضر ت سیِّدُناابو علی رباطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیجب بھی ان سے کہتے کہ’’ایسا مت کیجئے!‘‘توآپ فرماتے:’’ کیا تم نے مجھے امیر تسلیم نہیں کیا؟مجھ پر حکم نہ چلاؤاور اپنے قول سے نہ پھرو۔‘‘ حضرت سیِّدُناابو علی رباطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِینے کہا:’’ کاش!میں مرجاتا اوریہ نہ کہتا کہ آپ ہی امیر ہیں۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 960