Main Icon

باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 961

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الصَّحَابَةِ اَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا اَرْبَعُمِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوْشِ اَرْبَعَةُ اٰلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اِثْنَا عَشَرَ اَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ.

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خير الصحابة اربعة، وخير السرايا اربعمائة، وخير الجيوش اربعة الاف، ولن يغلب اثنا عشر الفا من قلة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”بہترین ساتھی چارافراد ہیں اور بہترین سَرِیّہ (فوجی دستہ) وہ ہے جس میں چار سو افرادہوں،بہترین لشکر وہ ہے جو چار ہزار افراد پرمشتمل ہو اور بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم ہونے کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتا۔“

شرح حدیث

سفر میں چار اَفراد کا فائدہ:مرآۃ المناجیح میں ہے:( چارافراد بہترین ساتھی ہیں)”یہاں ساتھی سے مراد سفر کے ساتھی ہیں۔ چار ہم سفر ساتھیوں کو اس لیے افضل فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے ایک راستہ میں فوت ہو جائے اور ان بقیہ میں سے ایک کو اپنا وصی و منتظم کرجائے تو باقی دو اس وصیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔ بعض شارحین نے کہا کہ پانچ ساتھی چار سے افضل ہیں بلکہ جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔ جیسے جماعتِ نماز میں جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اسی قدر اچھا۔“ امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”(یہاں) چار میں حصر کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہے اور جو فائدہ بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مسافر کو ایک ایسے شخص کی حاجت ہوتی ہے جو اَسباب اور مال کی حفاظت کرے اور دوسرے اُس شخص کی جو بوقت حاجت اِدھر اُدھر جائے تو اگر قافلہ میں کل تین آدمی ہوں تو حاجت کے لیے اِدھر اُدھر جانے والا اکیلا ہی جائے گا اور سفر میں اُس کے ساتھ کوئی رفیق نہیں ہوگا اور رفیق نہ ہونے کی وجہ سے اس کا دِل گھبرائے گا اور خطرہ درپیش ہوگا اور اگر دو جائیں تو سامان کی حفاظت کرنے والا اکیلا رہ جائے گا اور یہ بھی خطرہ و گھبراہٹ سے خالی نہیں، لہٰذا چار سے کم تعداد میں مقصد پورا نہیں ہوتا۔“بارہ ہزار کا لشکر کبھی مغلوب نہیں ہوتا:مرآۃ المناجیح میں ہے:(بہترین سَرِیّہ چار سوافراد ہیں)”سَرِیّہ چھوٹے لشکر کوبھی کہتے ہیں اور اس فوج کو بھی جس میں حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمتشریف نہ لے جائیں یہاں پہلے معنی میں ہے کیونکہ اس کے مقابل جُیوش آرہا ہے۔“(چارہزار افرادبہترین لشکرہے)”یعنی بہتر یہ ہے کہ لشکرِ جرار چار ہزار سے کم نہ ہو زیادہ ہو تو بہتر ہے۔“(بارہ ہزار کا لشکر کبھی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا)”یعنی بارہ ہزار کا لشکر جرار کبھی کمی تعداد کی وجہ سے دشمن کے مقابل شکست نہیں کھائے گا کسی اور وجہ سے شکست کھا جائے جیسے آپس کے جھگڑے، امیر کی نافرمانی، بے صبری، مال غنیمت کی رغبت وغیرہ۔“مدنی گلدستہ”اجمیر“ کے5 حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بِلا عُذر ویران راستوں،جنگلوں اورخطر ناک علاقوں میں اکیلےسفرنہیں کرنا چاہیے بالخصوص رات کو تواکیلا بندہ ہر گزایسا سفر نہ کرے ۔
(2) جب راستہ پُرامن ہو اور کسی ضرر ، چور، ڈاکو وغیرہ کا خوف نہ ہوتو رات میں تنہا سفر کرنے کی اجازت ہے مگر پھر بھی کوئی ساتھ ہو تو زیادہ مناسب ہے ۔
(3) چار ہمسفر ہوں تو مسافروں کو کافی سہولت رہتی ہے اوروہ کئی آفتوں سے بچ سکتےہیں ۔
(4) رات کوشیاطین پھیل جاتے ہیں اور مختلف ڈراؤنی شکلوں میں انسان کو ڈراتے اور دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔
(5) بارہ ہزار کا لشکر کبھی ا پنی کمی کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوتا ہاں !اپنی کسی غلطی سے مغلوب ہوجائے تو اور بات ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بلاعذر اکیلے سفرکرنے سے بچائے اور سفرکرتے ہوئے شرعی حکمتوں اورمصلحتوں کو مدنظررکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 961