Main Icon

باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 718

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَةَ فيِ الْاُمُوْرِکُلِّہَا كَالسُّوْرَةِ مِنَ الْقُراٰنِ يَقُوْلُ: اِذَا هَمَّ اَحَدُكُمْ بِالْاَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيْضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ:اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْم ِفَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ.اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اِنَّ هٰذَاالْاَمْرَ خَيْرٌ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْ قَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاقْدُرْهُ لِيْ وَيَسِّرْهُ لِيْ ثُمَّ بَارِكْ لِيْ فِيْهِ وَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَاالْاَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْقَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ اَرْضِنِيْ بِه. قَالَ وَيُسَمِّيْ حَاجَتَهُ.

عن جابر رضی اللہ عنہ قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الامورکلہا كالسورة من القران يقول: اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل:اللهم اني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك واسئلك من فضلك العظيم فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب.اللهم ان كنت تعلم ان هذاالامر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري او قال عاجل امري واجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وان كنت تعلم ان هذاالامر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري اوقال عاجل امري واجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم ارضني به. قال ويسمي حاجته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنا ایسے سکھایا کرتے تھے جیسے قرآنِ پاک کی سورت سکھایا کرتے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ دو رکعت نفل پڑھے اور یوں کہے:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میں تجھ سے استخارہ کرتا ہوں تیرے علم کے ساتھ اور قدرت طلب کرتا ہوں تیری قدرت کے ساتھ اور تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں اس ليے کہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!اگر تیرے علم میں یہ ہے کہ یہ کام میرے ليے بہتر ہے میرے دین و معیشت اور انجامِ کار میں يا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تُو اس کو میرے ليے مقدر کر دے اور آسان کر پھر میرے ليے اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ میرے ليے یہ کام برا ہے میرے دین و معیشت اور انجامِ کار میں یا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تو اس کو مجھ سے پھیر دے اور مجھ کو اس سے پھیر اور میرے ليے خیر کو مقرر فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اس سے راضی کر۔اور اپنی حاجت کا ذکر کرے(خواہ بجائےھٰذَا الْاَمْرکے حاجت کا نام لے یا اس کے بعداپنی حاجت ذکر کرے)۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شرح حدیث

نمازِ استخارہ کا طریقہ:جب کوئی شخص کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ دو رکعت نفل پڑھے پھر یہ دعا مانگے:’’اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْم ِفَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ.اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اِنَّ هٰذَاالْاَمْرَ خَيْرٌ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْ قَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاقْدُرْهُ لِيْ وَيَسِّرْهُ لِيْ ثُمَّ بَارِكْ لِيْ فِيْهِ وَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اِنَّ هٰذَاالْاَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْقَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ اَرْضِنِيْ بِه.‘‘علامہ ابنِ عابدین شامیقُدِّسَ سرُّہُ السّامیفرماتے ہیں: حدیث میں وار ِد اس دعامیں ”ھٰذَا الْاَمْرَ“کی جگہ اگر وہ چاہے تو اپنی حاجت کا نام لے۔یعنی اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنے کام کا نام لےمثلاًھٰذَا السَّفْرَ یا ھٰذَا النِّکَاحَ یا ہٰذِہِ التِّجَارَۃَ یا ہٰذَا الْبَیْعَکہے اور اگر عربی نہیں جانتا تو”ھٰذَا الْاَمْرَ“ ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کیلئے استخارہ کررہاہے۔اِشارہ کیسے ملے گا؟بعض مشائخِ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامسے منقول ہے کہ دُعائے مذکور پڑھ کر باطہارت قبلہ رُو سو رہے اگر خواب میں سفیدی یا سبزی دیکھے تو وہ کام بہتر ہے اور سیاہی یا سُرخی دیکھے تو بُرا ہے اس سے بچے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس استخارہ کے بعد پھر جدھر دل متوجہ ہو وہ کرےاِنْ شَآءَ اللّٰہکامیابی ہوگی۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگرسوتے وَقت دو رَکعتیں پڑھ کر یہ دعاپڑھے پھر با وضو قبلہ رُو ہو جائے تو اگر خواب میں سبزی یا سفید جاری پانی یا روشنی دیکھے تو کامیابی کی علامت ہے اور اگر سیاہی یا گدلا پانی یا اندھیرا دیکھے تو ناکامی اور نامُرادی کی علامت ہے۔سات روز یہ عمل کرےاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاِس دوران میں خواب میں اِشارہ ہو جائے گا۔نمازِ اِستخارہ میں کونسی سورتیں پڑھی جائیں؟مُستحب یہ ہے کہ دُعا ئے استخارہ کے اوّلاَلْحَمْدُ لِلّٰهِاور دُرود شریف پڑھے۔نفل کی پہلی رَکعت میں﴿قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْن﴾دوسری میں﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ﴾پڑھے۔بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ پہلی میں﴿وَرَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُؕ-مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۶۸) وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(۶۹)﴾(پ۲۰،القصص:۶۸،۶۹)اوردوسری میں﴿ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) ﴾(پ۲۲،الاحزاب:۳۶)پڑھے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمختصر اِستخارہ:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اگر کسی پر نماز ِاستخارہ پڑھنا دشوار ہوجائے تو وہ دُعا ئے استخارہ کے ذریعے اِستخارہ کر لے ۔
مرآۃ المناجیح میں ہے:جسے بہت جلدی ہے تو وہ صرف یہ کہہ لے:”
اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْ لِیْ وَاجْعَلْ لِّیَ الْخَیْراِنْ شَآءَاللّٰہاس کام میں خیرو برکت ہوگی۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی”مرقاۃ المفاتیح“ میں فرماتے ہیں:جسے کام میں جلدی ہو تو وہ صرف یہ کہہ لے: α اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَاجْعَلْ لِیَ الْخِیَرَۃَ(اے α اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میرا کام بہتر کردے اورمیرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرماکر (اس میں )میرے لیے بہتری رکھ دے)یایہ کہے: α اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی اِخْتِیَارِیْ(اے α اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میرا کام بہتر کردے اور میرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرما اور مجھے میری پسند کے حوالے نہ فرما۔)بزرگانِ دِین∞رَحِمَہُمُ اللّٰہ المُبِینسے اِستخارہ کرنے کے اور بھی کئی طریقے اور وظائف منقول ہیں مثلاً تسبیح کے ذریعے اِستخارہ کرنا جوقلیل وَقت میں مکمل ہوجاتا ہے ۔اس کام کا مکمل اِرادہ نہ کیا ہو:اِستخارہ کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اِستخارہ ایسے کام کے متعلق کیا جائے جس کے کرنے کے بارے میں طبیعت کا کسی طرف مَیلان نہ ہو کیونکہ اگر کسی ایک طرف رَغبت پیدا ہوچکی ہوگی تو پھر اِستخارہ کی مدد سے صحیح صورتِ حال کا واضح ہونا بہت مشکل ہوجائےگا ۔صَدرُالشَّریعہ،بدرُالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:استخارہ کا وَقت اس وَقت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جَم نہ چکی ہو۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ بھی ضَروری ہے کہ اس کام کا پورا اِرادہ نہ کیا ہو صِرف خیال ہو،جیسے کوئی کارو بار ،شادی بیاہ، مکان کی تعمیر وغیرہ کا معمولی اِرادہ ہو اور تردّدہو کہ نہ معلوم اس میں بھلائی ہو گی یا نہیں تو استخارہ کرے۔اِستخارہ کرنے کا فائدہ اور نہ کرنے کا نقصان:*حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جو اِستخارہ کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا ،جو مشورے سے کام کرے وہ پشیمان نہ ہوگا اور جس نے میانہ رَوِی اختیار کی وہ محتاج نہ ہوگا۔‘‘*رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’ بندے کی بَدبختی میں سے ہے کہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اِستخارہ کرنا چھوڑ دے۔‘‘*بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کہ ایک حدیث میں ہے: ”اے اَنس! جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے ربعَزَّوَجَلَّسے اس میں سات بار استخارہ کر پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گزرا کہ بیشک اُسی میں خیر ہے۔“اشارہ نہ ہواتو :اِستخارہ کرنے کے بعداگر خواب میں کوئی اشارہ نہ ہو تو اپنے دل کی طرف دھیان کرنا چاہیے، اگر دل میں کوئی پختہ اِرادہ جم جائے یا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں از خود رُجحان بدل جائے اسی کو استخارہ کا نتیجہ سمجھنا چاہیے اور طبیعت کے غالِب رُجحان پر عمل کرنا چاہیے۔اگر اِستخارے کے بعدنقصان ہوتو؟بعض اوقات انساناللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے استخارہ کرتا ہے کہ جس کام میں میرے لیے بہتری ہو وہ ہوجائے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے لیے وہ کام عطا کرتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے لیکن ظاہِری اعتبار سے وہ کام اس شخص کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے جی میں آتا ہے کہ میں نے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے یہ چاہا تھا کہ مجھے وہ کام ملے جو میرے لئے بہتر ہو لیکن جو کام ملا وہ تو مجھے اچھا نظر نہیں آرہا ہے،اس میں میرے لیے تکلیف اور پریشانی ہے،لیکن کچھ عرصے بعد جب اَنجام سامنے آتا ہے تب اس کو پتا چلتا ہے کہ حقیقت میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے لئے جو فیصلہ کیا تھا وہی اس کے حق میں بہتر تھا۔حضرتِ سیِّدُنامکحول اَزدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیبیان کرتے ہیں:میں نے حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو فرماتے سنا کہ آدمیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے استخارہ کرتا ہے پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے لیے کوئی کام پسند فرماتا ہے تو وہ آدمی اپنے رب سے ناراض ہوجاتا ہے لیکن جب وہ آدمی اس کے اَنجام میں نظر کرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے۔
اس کی مثال یوں سمجھیں بخار میں تپنے ولا بچہ ماں باپ کے سامنے مچل رہا ہے کہ فلاں چیز کھاؤں گا اور ماں باپ جانتے ہیں کہ اس وَقت یہ چیز کھانا بچے کے لیے نقصان دہ اور مُہْلِک ہے ، چنانچہ ماں باپ بچے کو وہ چیز نہیں دیتے بلکہ کڑوی دوائی کھلاتے ہیں، اب بچہ اپنی نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھ پر ظُلْم کیا ،میں جو چیز مانگ رہا تھا وہ مجھے نہیں دی اور اس کے بدلے میں مجھے کڑوی کڑوی دوا کھلا رہے ہیں ، اب وہ بچہ اس دوا کو اپنے حق میں خیر نہیں سمجھ رہا ہے لیکن بڑا ہونے کے بعد جب اسے عَقْل وشعور کی نعمت ملے گی تو اس کو سمجھ آئے گی کہ میں تو اپنے لیے موت مانگ رہا تھا اور میرے ماں باپ میرے لیے زندگی اور صحت کا راستہ تلاش کررہے تھے ۔ہمارا ربّ
عَزَّ وَجَلَّتو اپنے بندوں پر ماں باپ سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، اس لیےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّایک مسلمان کو وہی شے عطا فرماتا ہے جو اَنجام کے اعتبار سے اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس کا بہتر ہونا دنیا میں پتا چل جاتا ہے اور بعض کا آخِرت میں معلوم ہوگا۔
مشورے اور مشاورت کی اہمیت وتفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب فیضانِ فاروق اعظم جلددوم، ص186کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’اِستخارہ ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو ہر کام سے پہلے استخارہ کرنے کی ترغیب دیا کرتے ۔(2) ∞دُعا ئے استخارہ کے اوّلاَلْحَمْدُ لِلّٰہاور دُرود شریف پڑھنا مستحب ہے۔(3) ∞اِستخارہ ایسے کام کے متعلق کیا جائے جس کے کرنے کے بارے میں طبیعت کا کسی طرف مَیلان نہ ہو۔
(4) استخارہ کا وَقت اس وَقت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جَم نہ چکی ہو۔
(5) بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے۔
(6) مشورے کی اہمیت کے لئے یہی کافی ہے کہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے پیارے محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مشورہ کرنے کا حکم دیا۔
(7) جن کاموں کے بارے میں شریعت نے واضح اَحکام بیان کردئیے ہیں اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان میں استخارہ نہیں ہوتا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کی پیروی کرتے ہوئے استخارہ کرنے اور مشاورت سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 718