- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں تمام کاموں میں استخارہ کرنا ایسے سکھایا کرتے تھے جیسے قرآنِ پاک کی سورت سکھایا کرتے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ دو رکعت نفل پڑھے اور یوں کہے:”اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میں تجھ سے استخارہ کرتا ہوں تیرے علم کے ساتھ اور قدرت طلب کرتا ہوں تیری قدرت کے ساتھ اور تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں اس ليے کہ تو قادر ہے اور میں قادر نہیں اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!اگر تیرے علم میں یہ ہے کہ یہ کام میرے ليے بہتر ہے میرے دین و معیشت اور انجامِ کار میں يا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تُو اس کو میرے ليے مقدر کر دے اور آسان کر پھر میرے ليے اس میں برکت دے اور اگر تو جانتا ہے کہ میرے ليے یہ کام برا ہے میرے دین و معیشت اور انجامِ کار میں یا فرمایا اس وقت اور آئندہ میں تو اس کو مجھ سے پھیر دے اور مجھ کو اس سے پھیر اور میرے ليے خیر کو مقرر فرما جہاں بھی ہو پھر مجھے اس سے راضی کر۔اور اپنی حاجت کا ذکر کرے(خواہ بجائےھٰذَا الْاَمْرکے حاجت کا نام لے یا اس کے بعداپنی حاجت ذکر کرے)۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الْاِسْتِخَارَةَ فيِ الْاُمُوْرِکُلِّہَا كَالسُّوْرَةِ مِنَ الْقُراٰنِ يَقُوْلُ: اِذَا هَمَّ اَحَدُكُمْ بِالْاَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيْضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ:اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَاَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيْم ِفَاِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ.اَللّٰهُمَّ اِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اِنَّ هٰذَاالْاَمْرَ خَيْرٌ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْ قَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاقْدُرْهُ لِيْ وَيَسِّرْهُ لِيْ ثُمَّ بَارِكْ لِيْ فِيْهِ وَاِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ هٰذَاالْاَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ اَمْرِيْ اَوْقَالَ عَاجِلْ اَمْرِيْ وَاٰجِلْهُ فَاصْرِفْهُ عَنِّيْ وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ اَرْضِنِيْ بِه. قَالَ وَيُسَمِّيْ حَاجَتَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 718 ، باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان