Main Icon

باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 859

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِی حَدِيْثِ الْمُسِيْءِ صَلَا تَهُ:اَنَّهُ جَآءَ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ اِلَى النَّبيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَالَ:ارْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَصَلّٰى ثُمَّ جَآءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰى فَعَلَ ذٰلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ فی حديث المسيء صلا ته:انه جاء فصلى ثم جاء الى النبي صلی اللہ علیہ وسلم فسلم عليه فرد عليه السلام فقال:ارجع فصل فانك لم تصل فرجع فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلی اللہ علیہ وسلم حتى فعل ذلك ثلاث مرات.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےنماز میں غلطی کرنے والے کے بارے میں جو حدیث مروی ہے اس میں ہےکہ ایک شخص آیا، نماز پڑھی اورحضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سلام کا جواب دے کر فرمایا: جاؤ! نماز دوبارہ پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ۔وہ گیا،نماز پڑھ کر دوبارہ آیا اورسلام عرض کیا۔( آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جواب دینے کے بعد پھر نماز دہرانے کاحکم دیا )یہاں تک کہ اس نے تین مرتبہ ایسا کیا۔

شرح حدیث

ہر ملاقات پر سلام کیا جائے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث سےمعلوم ہواکہ جب بھی ملاقات ہو سلام کیا جائے اگرچہ پہلے مل چکا ہو اور تھوڑی دیر بعد ہی دوبارہ ملاقات ہو۔ نماز پڑھنا بھی ایک قسم کی جُدائی ہے کہ اس میں بندہ مخلوق سے منقطع ہوکر خالقعَزَّوَجَلَّسے لَو لگا لیتاہے۔ جیسا کہ وہ صحابیٔ رسولرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنمازکے بعدجتنی مرتبہ بھی حاضر ِخدمت ہوئے سلام عرض کیا ۔دو گانہ پڑھ کر مواجہہ شریف پر سلام عرض کرے:یہ واقعہ حضرت سَیِّدُنا خلادبن رافع انصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکےساتھ پیش آیاجوبدری صحابی ہیں۔ انہوں نے جو نماز پڑھی وہتَحِیَّۃُ الْمَسْجِدتھی،جلدی میں تعدیل ارکان کے بغیر پڑھ لی یا کوئی اور کمی رہ گئی تھی اس لئے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔حدیثِ مذکور سے کئی مسائل معلوم ہوئے۔مثلاً مسجد نبوی میں حاضر ہونے والانمازیوں کو عمومی سلام کرے اورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخصوصی طورپر علیحدہ سلام کرے،جیساعُشّاق کا طرز عمل ہے کہ مسجد نبوی شریف میں دورکعتیں پڑھ کرمواجہہ شریف پر حاضر ہوکر سلام عرض کرتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بھی یہ سعادت باربار عطافرمائے ۔نماز میں کوئی واجب بھول کر چھوٹ جائے تو سجدہ سہو سے ازالہ ہوجاتاہے،سجدہ سہونہ کرنے یا جان بوجھ کرواجب چھوڑدینے کی صورت میں نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ نماز میں تعدیل ارکان یعنی اطمینا ن سے نماز پڑھنا واجب ہے، جلدی کی اور کسی رکن کی ادائیگی میں کمی رہ گئی توواجب چھوٹنے کی وجہ سے دوبارہ نماز پڑھی جائے گی۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں پہلی مرتبہ ہی نماز کا طریقہ اس لئے نہ سکھایا تاکہ انہیں یہ واقعہ یاد رہے، مسئلہ خوب یاد ہوجائے کیونکہ جو چیز مشقت وانتظار سے ملتی ہے دل میں بیٹھ جاتی ہے جیسا کہ ایک حدیثِ پاک میں مذکور ہے کہ ایک صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبارگاہِ رسالت میں بغیر سلام کے حاضرہوئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےانہیں واپس جانے اور دوبارہ سلام کرکے آنے کاحکم ارشادفرمایا۔ سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس مبارک عمل میں علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکے لئے طریقہ ٔتبلیغ کی بہترین تعلیم موجود ہے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں وہ صحابی تین مرتبہ حاضر ہوئے اور تینوں مرتبہ ہی سلام کیا۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں نماز کا طریقہ سکھایا۔خیا ل رہے کہ تعدیل ارکان کے ترک پر نماز باطل نہیں ہوتی بلکہ ناقص ہو جاتی ہے جس کا ازالہ اعادہ کے ساتھ ہوجاتا ہے۔مدنی گلدستہ’’نماز ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ہر ملاقات پر سلام کرناچاہیے اگرچہ پہلے مل چکا ہو اورتھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ ملاقات ہو۔
(2) مسجد نبوی میں حاضر ہونے والے زائر کو چاہیے کہ مسجد میں موجود لوگوں کو سلام کرنے کے بعد نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخصوصی طورپر علیحدہ سلام کرے۔
(3) بھول کر نماز کا کوئی واجب چھوڑ دیا اور سجدہ سہو بھی نہ کیا تو نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔
(4) جو چیز مشقت وانتظار سے ملتی ہے دل میں بیٹھ جاتی ہے،عرصہ دراز تک ذہن نشین رہتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام کوعام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 859