Main Icon

باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 860

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا لَقِيَ اَحَدُكُمْ اَخَاهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَاِنْ حَالَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ اَوْجِدَارٌاَوْحَجَرٌ ثُمَّ لَقِيَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:اذا لقي احدكم اخاه فليسلم عليه فان حالت بينهما شجرة اوجداراوحجر ثم لقيه فليسلم عليه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:” جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سےملے تواسے سلام کرے۔اگردرمیان میں کوئی درخت، دیواریا پتھر وغیرہ حائل ہوجائے توملنے پر دوبارہ سلام کرے ۔

شرح حدیث

فیض القدیرمیں ہے:اپنے مسلمان بھائی کو ملاقات کے وقت سلام کرنااور درخت ،دیوار یا پتھر وغیرہ حائل ہو نے پردوبارہ سلام کرنا مستحب ہے اگرچہ ایسا بار بار ہو ۔حدیثِ مذکور میں اس بات کی ترغیب ہے کہ ہر ملاقات پر سلام کیا جائے اگرچہ تغیرِ حال کی وجہ سے بار بار کرنا پڑے۔سلام عام کرکےبہت کم محنت کےذریعے کینہ دور اورمعمولی تحفے کے ذریعے اخوت وبھائی چارے کا حصول ہوسکتا ہے۔حکمی غائب ہونے کے بعد بھی سلام سنت ہے:مرآۃالمناجیح میں ہے:(مذکورہ حدیث میں) بھائی سے مراداسلامی بھائی ہے خواہ اپنا عزیز ہویا اجنبی۔ بھائی فرماکر اشارۃً فرمایا کہ اجنبی عورت کو سلام نہ کرے۔ملاقات کا سلام غائب ہونے کے بعد ملنے پر ہوگا۔ غائب ہونا اگرچہ معمولی ہی ہو ذرا سی آڑ درمیان میں آگئی غائب ہونا پایا گیا، اب ملنا ملاقات ہے سلام کرو۔بلکہ حکمی غائب ہونے کے بعد بھی سلام سنت ہے اس لیے نماز ختم ہونے پر سلام کیا جاتا ہے۔اس سلام میں نمازی ایک دوسرے کی نیت کریں کیونکہ نمازی بحالتِ نماز ایک دوسرے سے حکمًا غائب تھے اب عالَم بالا کی سیرکرکے آرہے ہیں لہٰذا سلام کرتے ہیں۔بعد نمازِ فجر بعض لوگ مصافحہ کرتے ہیں اس کی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ مصافحہ بوقت ملاقات ہوتا ہے اور یہ بھی وقت ملاقات ہے۔خیال رہے کہ یہاں وہ حالات مراد ہیں جن میں سلام ممنوع نہ ہو لہٰذا جو پیشاب پاخانہ میں مشغول ہو یا سو رہا ہو،اونگھ رہا ہو یا نماز یا اذان میں مشغول ہو یا غسل خانہ میں ہو ،کھانا کھا رہا ہو لقمہ منہ میں ہویا تلاوت قرآن کررہا ہو یا دینی درس دے رہا ہو یا سن رہا ہو اسے سلام نہ کرے۔اگر کرے گا تو اس کا جواب دینا لازم نہ ہوگا۔یوں ہی جمعہ کے دن خطبہ کے وقت سلام ممنوع ہے۔“مدنی گلدستہ’’اہل صفہ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) ملاقات کا سلام غائب ہونے کے بعد ملنے پر ہوگا غائب ہونا اگرچہ معمولی ہی ہو مثلاًذرا سی آڑ درمیان میں آگئی تو غائب ہونا پایا گیا اب ملنا ملاقات ہے دوبارہ سلام کیاجائے ۔
(2) سلام کو عام کر نے سے کینہ جیسی بُری خصلت دُور ہوجاتی ہے ۔
(3) نماز سے پہلے ملاقات ہوئی اور سلام کیا اب نماز ختم ہونے کے بعد ملاقات پر دوبارہ سلام کیا جائے کہ یہ نئی ملاقات ہے کیونکہ نماز میں بندہ حکمی طور پر لوگوں سے جد اا ورغائب ہو تاہے ۔
(4) اجنبی عورت کو سلام نہ کیا جائے۔
(5) جہاں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم ہے وہاں وہ حالات مراد ہیں جہاں سلام کی ممانعت نہ ہو جہاں سلام کرنا منع ہے وہاں سلام نہ کیا جائے ۔
(6) جو پیشاب ،پاخانہ میں مشغول ہو ، سورہا ہو ،اونگھ رہا ہے ، نماز پڑھ رہا ہو،قران کی تلاوت کر رہا ہو، خطبہ جمعہ یا دینی درس دے یا سُن رہا ہو، کھانا کھا رہا ہو اور لقمہ منہ میں ہو تو ایسوں کو سلام نہ کیا جائے اگر سلام کیا تو ان پر جواب دینا لازم نہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام میں پہل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 860