Main Icon

باب:لباس میں میانہ روی کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 803

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللهَ يُحِبُّ اَنْ يَرٰى اَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ.

عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الله يحب ان يرى اثر نعمته على عبده.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عَمرو بن شعیبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھنا پسند فرماتا ہے۔“

شرح حدیث

نعمت کو پوشیدہ رکھنا جائز نہیں:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ پسند فرماتا ہے کہ اس بندے کے اَحوال میں اس کا اثر ظاہر ہو، اس طرح کہ وہ مبالغہ اور فضول خرچی کیے بغیر حالات اور قدرت کے مطابق اچھے، پاک صاف اور نئے کپڑے پہنے اور اس کی نیت نعمت کا ظاہر کرنا اور اس کا شکریہ ادا کرنا ہو،تاکہ لوگوں کو معلوم ہو اور حاجت مند زکوٰۃ اور صدقات حاصل کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کریں، تکبر اور غرور مقصود نہ ہو۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ نعمت کا مخفی اور پوشیدہ رکھنا جائز نہیں، نعمت کو چھپانا گویا نعمت کی ناشکری ہے، اسی طرحاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے جو کسی انسان کو علم و فضل عطا کیا ہو اُسے ظاہر کرنا چاہیے تاکہ لوگ پہچانیں اور اس سے استفادہ کریں اور وہ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)﴾(پ۱،البقرۃ:۳)(ترجمہ ٔکنزالایمان :اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں) کے مصداق میں داخل ہو۔“اخلاص سےنعمت کا اظہار بھی شکر ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس نے بندے کو جو نعمتیں عطا فرمائیں ہیں وہ اس کا اظہار کرے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے جسے اچھا لباس پہننے کی قدرت عطا کی ہے اُسے چاہیے کہ اچھی نیت کے ساتھ عمدہ لباس پہنے کیونکہ ”اللّٰہکی نعمت کا اِظہار اِخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے اور اس لیے آدمی کو اپنی حیثیت کے لائق جائز لباسوں میں بہتر پہننا مستحب ہے۔“ حضرت سَیِّدُنَا ابو الاحوصرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی وہ فرماتے ہیں: ”میںرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا اور مجھ پر معمولی کپڑا تھا، حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“میں نے عرض کی: ہاں ہے۔ پوچھا:”کس قسم کا مال ہے؟“میں نے عرض کی: خدا کا دیا ہوا ہر قسم کا مال ہے۔ اونٹ، گائے، بکریاں، گھوڑے، غلام۔ فرمایا:”جب خدا نے تمہیں مال دیا ہے تو اس کی نعمت اوراس کی بخشش کا اثر تم پر دکھائی دینا چاہیے۔“ یعنی قیمتی اور صاف کپڑے پہنو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم پراللّٰہکا فضل ہے یہ بھیاللّٰہکا شکر یہ ہے۔ شکر کے لیے اچھا لباس پہنے فخر کے لیے نہ پہنے، کبھی اچھا لباس پہنے شکر کے لیے کبھی معمولی پہنے انکسار کے طور پر۔ اپنے کو اچھے کھانے اچھے لباس کا عادی نہ بنائے کہ کبھی معمولی کھا پی نہ سکے۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”جسے رب تعالیٰ نے مال دیا ہے تو وہ بخل کی بنا پر بہت ہلکے کپڑے نہ پہنے بلکہ کبھی اچھے کپڑے پہنے تاکہاللّٰہتعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہو اور فقرا اسے غنی سمجھ کر اس سے کچھ مانگ بھی سکیں، اگراللّٰہنے عالِمِ دِین بنایا ہے تو عالمانہ لباس پہنے تاکہ حاجتمند لوگ اس سے مسئلے پوچھ سکیں، ربّ کی نعمت کا اظہار بھی شکر ہے اس کی نعمت چھپانا کفران ہے۔ یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ معمولی کپڑے پہننا ایمان سے ہے۔ وہاں تکبر تکلف کی ممانعت تھی یہاں شکر اور اظہارِنعمت الٰہی کا حکم ہے، ایک ہی چیز ایک نیت سے بُری ہوتی ہے دوسری نیت سے اچھی۔“مدنی گلدستہ’’غارِثور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
اللّٰہتعالیٰ اس بات کو پسندفرماتا ہے کہ بندے کے اَحوال سے نعمت کا اظہار ہو۔
(2) قدرت ہوتو تکبر و غرور اور اِسراف کیے بغیر اچھی نیت کے ساتھ پاک صاف اور نئے کپڑے پہنیں۔
(3) نعمت کا مخفی اور پوشیدہ رکھنا جائز نہیں، نعمت کو چھپانا گویا نعمت کی ناشکری ہے۔
(4) آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق جائز لباس پہننا مستحب ہے۔
(5) کبھی اچھا لباس پہنے،کبھی معمولی،فقط اچھے کھانے اچھے لباس کا عادی نہ بنائے۔
(6) جسے ربّ تعالیٰ نے مال دیا ہے وہ بخل کی بنا پر بہت ہلکے کپڑے نہ پہنے بلکہ کبھی اچھے کپڑے پہنے تاکہ
اللّٰہتعالیٰ کی نعمت کا اظہار ہو اور فقرا اسے غنی سمجھ کر اس سے کچھ مانگ سکیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نعمتوں کا جائز طریقے سے اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ناشکری کی آفت سےمحفوظ فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 803