حدیث مبارکہ
عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:کُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا.
عن بريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:کنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا بُریدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”میں نےتمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھااب تم ان کی زیارت کیا کرو۔“
شرح حدیث
زیارتِ قبور سنت ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:’’تمام اُمَّت کا اس پر اتفاق ہے کہ زیارتِ قبور سنت ہے کیونکہ اس سے زائرکو اپنی موت یاد آتی ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہوکر آخرت کی طرف توجہ اور دنیا سے بے توجہی حاصل ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور میں زائرکوبھی فائدے ہیں اور میت کوبھی۔زائِرکو ثواب، آخرت کی یاد، دنیا سے بے رغبتی حاصل ہوتی ہے اور میت کو زائر سے اُنس اور اُس کے اِیصالِ ثواب سے نفع میسر ہوتا ہے۔‘‘پہلےقبرو ں کی زیارت کیوں منع تھی؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”شروعِ اسلام میں زیارتِ قبور مسلمان مَردوں عورتوں کو منع تھی کیونکہ لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے،اندیشہ تھا کہ بُت پرستی کے عادی ہونے کی وجہ سے اب قبر پرستی شروع کردیں،جب اُن میں اِسلام راسخ ہوگیا تو یہ ممانعت منسوخ ہوگئی،جیسے جب شراب حرام ہوئی تو شراب کے برتن استعمال کرنابھی ممنوع ہوگیا تاکہ لوگ برتن دیکھ کر پھر شراب یاد نہ کرلیں،جب لوگ ترک ِشراب کے عادی ہوگئے تو برتنوں کے استعمال کی ممانعت منسوخ ہوگئی۔“فِکرِ آخرت پیدا کرنےکا ذریعہ:قبروں کی زیارت دنیا سے بے رغبتی اور فکر آخرت پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’قبروں کی زیارت کیا کرو کہ وہ دنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے۔“حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے قبروں کی زیارت کا حکم اس لیے دیا تاکہ فکر آخرت پیدا ہو اور عبرت حاصل کی جائے۔ زیارتِ قبور کا حکم باہم فخر کرنے اور مقابلہ کرنے کے لیے نہیں دیا اور نہ ہی اس لیے دیا گیا ہے کہ وہاں جاکر نوحہ خوانی اور ماتم کیا جائے جیساکہ حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”قبروں کی زیارت کرو اور کوئی بےہودہ بات نہ کہو۔“زیارتِ قبورکےلیےعورتوں کو جانامنع ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبروں کی زیارت کرنے کا حکم دیا ہے، یہ حکم مردو عورت دونوں کے لیے تھا لیکن اِس زمانے میں جبکہ بے حیائی عام ہوچکی، فتنہ فساد عروج پر ہے اور معاشرے میں عورت کے لیے اپنی عِفَّت و پارسائی کی حفاظت کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے ایسے حالات میں عورتوں کو زیارتِ قبور کے لیے گھروں سے نکلنے سے روکا جائے گا نیز جب عورتیں قبروں پر حاضر ہوں گی تو اس بات کا اندیشہ رہے گا کہ وہاں رونا پیٹنا کریں گی یا تعظیم میں حد سے بڑھ جائیں گی اور یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں۔ ہاں البتہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روضہ ٔاَطہر کی زیارت کرنا عورتوں کیلئے ممنوع نہیں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”( اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو)یہ اَمر اَستحبابی ہے، حق یہ ہے کہ اس حکم میں عورتیں بھی شامل ہیں کہ انہیں بھی زیارتِ قبور کی اجازت دی گئی، لیکن اب عورتوں کو زیارتِ قبور سے روکا جائے یعنی گھر سے زیارتِ قبور کے لیے نہ نکلیں،سوائے روضہ ٔاَطہرحضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر اَنور کے کسی قبرکی زیارت کو نہ جائیں، ہاں اگر کہیں جارہی ہوں اور راستہ میں قبر واقع ہو تو زیارت کرلیں جیساکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے (اپنے بھائی) حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمٰن کی قبر کی زیارت کی اور اگر کسی گھر میں ہی اتفاقًا قبر واقع ہو تو زیارت کرسکتی ہیں۔ اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکے گھر میں حضور اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر شریف تھی جہاں آپ مجاورہ منتظمہ تھیں۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”عورتوں کے ليے بعض علماء نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا، درمختار میں یہی قول اختیار کیا، مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی تو جزع و فزع (یعنی رونا پیٹنا) کریں گی، لہٰذا ممنوع ہے اور صالحین کی قبور پر برکت کے ليے جائیں تو بوڑھیوں کے ليے حرج نہیں اور جوانوں کے ليے ممنوع اور اَسلم(یعنی مناسب) یہ ہے کہ عورتیں مطلقاً منع کی جائیں کہ اپنوں کی قبور کی زیارت میں تو وہی جزع و فزع ہے اور صالحین کی قبور پر یا تعظیم میں حد سے گزر جائیں گی یا بے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔“نفس وشیطان کے بعض ہتھیار:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کے اس پُر فتن دور میں مسلمانوں کی ایک بھاری اکثریت اس فانی دنیا کے حصول میں حددرجہ منہمک ہونے کی وجہ سے قبرستان کی حاضری سے محروم ہے جبکہ ہوٹلوں، پارکوں، شاپنگ سینڑوں اور سینما گھروں میں مسلمانوں کا ایک جم غفیر دکھائی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنی عاقبت سے بےخوف ہو کر طرح طرح کے لایعنی کاموں میں مشغول ہوکر اپنی آخرت کو تباہ کرنے میں مصروف عمل ہیں، ایسے میں نفس وشیطان کے بہکاوے میں آکر بعض لوگ مسلمانوں کو بزرگانِ دین و اولیاء کاملین کے مزارات پر حاضری سے منع کرتے ہیں نیز اناللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندوں کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنا کر ربّ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں، منتیں اور مُرادیں مانگنے والوں کی راہ میں شدید رُکاوٹ بنتے ہیں۔ایسے لوگ اپنے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جُہَلاء کی طرف سے بیان کی جانے والی اِن خرافات کا سہارا لیتے ہیں کہ مزارات پرفلاں فلاں ناجائز کام ہوتے ہیں لہٰذا درگاہوں اور مزارات پر حاضری نہیں دینی چاہیے۔ تمام مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے اور ان کی اسلام کے خلاف ایسی بے ہودہ باتوں پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیے کیونکہ حضور نبی کریم ،رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعلیمات تو یہ ہیں کہ قبروں پر حاضری دی جائے تاکہ فکر آخرت پیدا ہو اور دنیا سے بے رغبتی ہواور خاص طور پراولیاء اللّٰہکے مزارات پر حاضری دی جائے کہ ان نُفُوسِ قُدْسیَّہ کے مَقَابِر دینی اور دُنیاوی برکتوں کا سَرچَشْمَہ ہیں اور قبولیت دعا کا ایک خاص مقام ہیں کہ یہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔چنانچہ،مَزارات پردعائیں قبول ہوتی ہیں:اشعۃ اللمعات میں ہے:حضرت سَیِّدُنا امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکَافِیفرماتے ہیں: ”حضرت مُوسیٰ کاظِمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی قبر قبولیتِ دعا کے لیے مُجَرَّب تِریَاق ہے۔“حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”جن بزرگوں سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے ان سے بعد وفات بھی مدد مانگنا جائز ہے۔“ایک بزرگ فرماتے ہیں: ”میں نے چار مشائخ کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکو دیکھا ہے کہ وہ اپنی قبور سے دنیا میں اس طرح تصرف کرتے ہیں جس طرح اپنی زندگی میں تصرف کرتے تھے یا اس سے زیادہ۔ حضرت سیدنا معروف کرخی اور حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جیلانیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاانہیں میں سے ہیں۔‘‘اور ان چار میں حصر مقصود نہیں جو کچھ ان بزرگ نے خود دیکھا اور پایا اس کا بیان کر دیا۔“ناجائزکام کو روکو، نیک کام کو ترک نہ کرو:نیز جہاں تک جاہل لوگوں کی طرف سے مزارات پر کئے جانے والی غیر شرعی افعال کا معاملہ ہے تو یہ بات یاد رکھیے کہ کسی ناجائز کام کی وجہ سے نیک اور جائز کام کو ترک نہیں کیا جاتا بلکہ اس ناجائز کام کی روک تھام کی جاتی ہے۔مثلاً کسی کا بیٹا گھر میں شراب نوشی وغیرہ ناجائز کام کرتا ہے تو یقیناً وہ شخص اپنا گھر نہیں چھوڑے گا بلکہ اپنے بیٹے کی اصلاح کی کوشش کرے گا، مساجد میں بعض اوقات چپل یا دیگر سامان وغیرہ چوری ہوجاتا ہے، موبائل فونز میں میوزک ٹونز بجتی رہتی ہیں تو کوئی بھی شخص مسجد جانا نہیں چھوڑے گا بلکہ ایسے قبیح افعال کا سدِّ باب کرے گا، نکاح جیسی عظیم سنت میں آج کل ہمارے یہاں کیا کیا خرافات نہیں ہوتیں تو کیا نکاح کرنا چھوڑ دیا جائے؟ ہرگز نہیں !بلکہ اِن خرافات کو بند کیا جائے۔اِسی طرح اگر مزارات پر جہلاء غیر شرعی افعال کے مُرتکب ہوتے ہیں تو اُن جُہَلاء کو غیر شرعی اَفعال کے اِرتکاب سے روکا جائے گانہ کہ لوگوں کو مزارات کی حاضری سے۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”خیال رہے کہزُوْرُوْا(یعنی زیارت کرو) مطلق امر ہے لہٰذا مسلمانوں کو زیارتِ قبر کے لیے سفربھی جائز ہے۔جب ہسپتالوں اور حکیموں کے پاس سفرکرکے جاسکتے ہیں تو مزاراتِ اولیاء پربھی سفرکرکے جاسکتے ہیں کہ ان کی قبور روحانی ہسپتال ہیں،نیز اگر کہیں قبر پر لوگ ناجائز حرکتیں کرتے ہوں تو اس سے زیارت قبور نہ چھوڑے،ہوسکے تو ان حرکتوں کو بندکرے کیونکہزُوْرُوْا(یعنی زیارت کرو)مطلق ہے، دیکھو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہجرت سے پہلے بُتوں کی وجہ سے کعبہ نہ چھوڑا بلکہ جب موقع ملا تو بُت نکال دیئے۔ آج بھی نکاح میں لوگ ناجائز حرکتیں کرتے ہیں مگر اس کی وجہ سے نہ نکاح بند کئے جاتے ہیں نہ وہاں کی شرکت۔نکاح بھی سنت مطلقہ ہے اور زیارت قبور بھی سنت مطلقہ۔ نکاح و زیارت قبور دونوں کے لیے سفربھی درست ہے اور ناجائز اُمُور کی وجہ سے ان میں شرکت ممنوع نہیں۔“البتہ خود ان ناجائز کاموں میں حصہ نہ لے۔مدنی گلدستہ’’غوث پاک ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) زیارتِ قبورسنت ہے نیز قبروں کی زیارت کرنے سے فکر آخرت پیدا ہوتی اور دنیا سے بے رغبتی حاصل ہوتی ہے۔
(2) قبر پرستی کے خدشے کی وجہ سے شروع اسلام میں قبروں کی زیارت کرنا ممنوع تھا لیکن جب اسلام لوگوں کے دلوں میں راسخ ہوگیا تو اس کی اجازت دے دی گئی۔
(3) عورتوں کو زیارتِ قبور کے لیے گھر سے نکلنا منع ہے، ہاں اگر کہیں جاتے ہوئے راستے میں کسی عزیز کی قبر ہے یا کسی کے گھر میں ہی قبر ہے تو اس کی زیارت کرنے کی اجازت ہے۔
(4) بزرگانِ دِین کے مَزارات پر دعائیں قبول ہوتی ہیں، نیز جن بزرگوں سے زندگی میں مدد مانگ سکتے ہیں ان سے بعد وفات بھی مدد مانگنا جائز ہے۔
(5) اگر کسی نیک کام میں ناجائز امور خلط ہو جائیں تو ان نیک کاموں کو ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ ناجائز اُمُور کی روک تھام کی جائے گی۔
(6) خاص زیارتِ قبور کے لیے سفر کرنا بھی جائز ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے نیک بندوں کے مزارات کی حاضری نصیب فرمائے اور دنیا سے بے رغبتی وفکرِ آخرت حاصل کرنے نیزمسلمانوں کو اِیصالِ ثواب کرنے کی غرض سے قبروں کی زیارت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 581