Main Icon

باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 584

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُوْرٍ بِالْمَدِيْنَةِ فَاَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَااَهْلَ القُبُوْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ،اَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبور بالمدينة فاقبل عليهم بوجهه فقال: السلام عليكم يااهل القبور، يغفر الله لنا ولكم،انتم سلفنا، ونحن بالاثر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ طیِّبَہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تواُن کی طرف مُتَوجہ ہوکر فرمایا:” اے قبر والو! تم پر سلامتی ہواللّٰہتعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔“

شرح حدیث

قبر کی زیارت کرنے کا طریقہ:حدیثِ پاک میں مذکور ہواکہ حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب قبرستان کے قریب سے گزرے تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں سلام فرمایا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں: ”حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا قبروں کی طرف رُخ کرکے انہیں سلام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی شخص اہلِ قبور کو سلام پیش کرے تو اس کے لیے مُسْتَحَب ہے کہ اس وقت اس کا چہرہ میت کے چہرے کے سامنے ہو اور اسی طرح جب دعا کرے تو میت کے سامنے بیٹھے یا کھڑا ہو۔“ علامہ مظہررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ” صاحبِ قبر کی زیارت کرنا ایسا ہی ہے جیسے زندگی میں اس کی زیارت کرنا لہٰذا جب قبر پر جائے تو اپنے چہرے کا رُخ میت کی جانب رکھے اور جس طرح زندگی میں اس کے ادب و آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتا تھا اب بھی اسی طرح کا معاملہ رکھے یعنی اگر زندگی میں اس کی قدر و منزلت کی وجہ سے اس سے دور بیٹھتا تھا تو اب بھی قبر سے دور بیٹھے اور اگر زندگی میں اس کے قریب بیٹھتا تھا تو اب بھی قبر کے قریب بیٹھے۔‘‘ اور جب قبر کی زیارت کرے تو سورۂ فاتحہ پڑھے، تین بار سورۂ اخلاص پڑھے اور میت کے لیے دعا کرے اور قبر کو نہ ہاتھ لگائے اور نہ بوسہ دے۔زیارتِ قبور سے متعلق13مدنی پھول:(1)زیارتِ قبور مستحب ہے ہر ہفتہ میں ایک دن زیارت کرے،جمعہ یا جمعرات یا ہفتہ یا پیر کے دن مناسب ہے، سب میں افضل روزِ جمعہ وقتِ صبح ہے۔ اولیائے کرام کے مزاراتِ طیبہ پر سفر کر کے جانا جائز ہے، وہ اپنے زائرکو نفع پہنچاتے ہیں۔(2)مُتَبَرَّک راتوں میں زیارتِ قبور افضل ہے، مثلاً شبِ براءت، شبِ قدر، اسی طرح عیدین کے دن اور عشرۂ ذی الحجہ میں بھی بہتر ہے۔(3)قبر کی زیارت کو جانا چاہے تو مستحب یہ ہے کہ پہلے اپنے مکان میں دورَکعت نماز نفل پڑھے، ہر رکعت میں بعدِ فاتحہآیَۃُ الْکُرْسِیایک بار اورقُلْ ھُوَا اللّٰہتین بار پڑھے اور اس نماز کا ثواب میت کو پہنچائے،اللّٰہتعالیٰ میت کی قبرمیں نور پید ا کریگا اوراس شخص کو بہت بڑا ثواب عطا فرمائے گا، اب قبرستان کو جائے راستے میں لایعنی (فضول) باتوں میں مشغول نہ ہو جب قبرستان پہنچے جوتیاں اُتار دے اور قبر کے سامنے اس طرح کھڑا ہو کہ قبلہ کو پیٹھ ہو اور میت کے چہرہ کی طرف منہ اور اس کے بعد یہ کہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللّٰہ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَنَحْنُ بِالْاَثَراورسورۂ فاتحہ وآیَۃُ الْکُرْسِیوسورۂاِذَا زُلْزِلَتْواَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرپڑھے،سورۂ ملک اور دوسری سورتیں بھی پڑھ سکتا ہے۔(4) قبرکو ہاتھ نہ لگائیں، نہ ہی بوسہ دیں۔علماء فرماتے ہیں کہ مزارِ ا کابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑے ہوں۔(5) شبِ براء ت میں یا کسی بھی حاضِری کے موقع پر بعض لوگ اپنے عزیز کی قبر پر بِلا مقصد ِصحیح محض رسمی طور پر پانی چِھڑکتے ہیں یہ اِسراف و ناجائز ہے، اور اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے میت کی قبر میں ٹھنڈک ہوگی تو اسراف کے ساتھ ساتھ نری جہالت بھی ہے،ہاں میت کی تدفین کے بعد چھڑکنے میں حرج نہیں بلکہ بہتر ہے۔ اِسی طرح اگرقبر پر پودے وغیرہ ہیں اس لیے پانی ڈالا جب بھی حرج نہیں۔(6)قبر پر پھول ڈالنا مستحب ہے کہ جب تک تَر رہیں گےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح کرتے رہیں گے اور میت کا دل بہلاتے رہیں گے۔(7)رات کو تنہا قبرستان نہ جانا چاہیے۔(8) قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔ (9) قبرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیت ہو توکفر ہے۔(10)قبر کے اوپر ”اگر بتّی“ نہ جلائی جائے کہ اس میں بے ادبی و بد فالی ہے اور اس سے میت کو تکلیف ہوتی ہے، ہاں اگر حاضرین کو خوشبو پہنچانے کے لیے لگانا چاہیں تو قبر کے پاس خالی جگہ ہو وہاں لگائیں کہ خوشبو پہنچانا مَحبوب یعنی پسندیدہ ہے۔(11)قبر پر چراغ یا جلتی موم بتّی وغیرہ نہ رکھے کہ یہ آگ ہے، اور قبر پر آگ رکھنے سے میت کو اَذِیَّت ہوتی ہے، ہاں اگر آپ کے پاس چارجِنگ ٹارچ یا ٹارچ والا موبائل فون نہ ہو،گورنمنٹ کی بتیاں بھی نہ ہوں یا بندہوں اور رات کے اندھیرے میں راہ چلنے یا دیکھ کر تِلاوت کرنے کے لیے روشنی مقصود ہو، تو قبر کے ایک جانب خالی زمین پر موم بتّی یاچَراغ رکھ سکتے ہیں،جبکہ وہ خالی جگہ ایسی نہ ہو کہ جہاں پہلے قبرتھی اب مِٹ چکی ہے۔(12)بزرگانِ دین اولیا وصالحین کے مزاراتِ طیبہ پر غلاف ڈالنا جائز ہے، جبکہ یہ مقصود ہو کہ صاحبِ مزار کی وقعت نظرِ عوام میں پیدا ہو،ان کا ادب کریں ان کے برکات حاصل کریں۔(13)جس قبر کا یہ بھی حال معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی، اُس کی زیارت کرنی، فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں کہ قبرِمسلمان کی زیارت سنت ہے اور فاتحہ مستحب ، اور قبرِ کافر کی زیارت حرام ہے اور اسے ایصالِ ثواب کاقصدکفر۔قبورِشہدائے اُحدکی زیارت:اس باب میں بیان کی گئی اَحادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت کے لیے پابندی سے جاتے رہنا چاہیے۔ انسان پر اس کے والدین و اَقارب کا حق ہے کہ ان کی قبور پر جایا جائے لہٰذا والدین و اَعِزَّا کی قبروں پر جائیے اور ان کے لیے ایصالِ ثواب کیجئے تاکہ انہیں قبر میں راحت نصیب ہو۔ بزرگانِ دِین واولیاء اللّٰہکے مزارات پر حاضری کا بھی معمول بنا لیجئے۔ ہر سالاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں کے عرس کے موقع پر ان کے مزارات پر حاضری دیجئے۔ خود حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشُہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے ا ور آپ کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق و حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا بھی یہی عمل رہا۔ ایک مرتبہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہداءِ اُحد کی قبروں پر تشریف لے گئے تو ارشاد فرمایا: ”یااللّٰہ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے، پھر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی ان شہیدوں کی قبروں پر زیارت کے لیے آئے گا اور ان کو سلام کرے گا تو یہ شہداءِ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْاس کے سلام کا جواب دیں گے۔“شہید کی قبر سے سلام کا جواب:چنانچہ حضرت فاطمہ خُزَاعِیَّہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِاکا بیان ہے کہ میں ایک دن اُحد کے میدان سے گزر رہی تھی حضرت سَیِّدُنا حمزہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی قبر کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا:”اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَاعَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہ“(اےرسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا !آپ پر سلام ہو) تو میرے کان میں یہ آواز آئیوَعَلَیْکِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ ا اللّٰہ وَبَرَکَاتُہٗ(یعنی تم پر بھی سلامتی اوراللّٰہکی رحمت اور برکتیں ہوں)۔مدنی گلدستہ’’ سَیِّدُالشُّھَدَاء ‘‘کے10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) اہلِ قبور کو سلام کرتے ہوئے ان کی طرف چہرہ کرنا مستحب ہے۔
(2) قبر والے کا ادب و اِحترام اسی طرح کرے جس طرح اس کی زندگی میں کرتا تھا ۔
(3) زیاراتِ قبور کے وقت قبر کو ہاتھ لگانے اور بوسہ دینے سے بچنا چاہیے۔
(4) جمعہ کے دن صبح کے وقت، شبِ براءت اور عیدَین میں زیارتِ قبورمستحب ہے۔
(5) کافر کی قبر کی زیارت کرنا حرام ہے اورکافر کو اِیصالِ ثواب کرنا کفر ہے۔
(6) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضراتشَیْخَیْنِ کرِیْمَیْنرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاشہداءِ اُحد کی قبروں پر جایا کرتے اورانہیں سلام کر کے دعاؤں سے نوازا کرتے تھے۔
(7) جس قبر کا معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمان کی ہے یا کافر کی، اُس کی زیارت کرنی، فاتحہ دینی ہرگز جائز نہیں ۔
(8) قبرکو سجدۂ تعظیمی کرناحرام ہے اور اگر عبادت کی نیت ہو توکفر ہے۔
(9) قبر پر پھول یا کوئی تر چیز ٹہنی یا کوئی اور سبزہ ڈالیں کہ جب تک تَر رہیں گے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی تسبیح کرتے رہیں گے اور میت کا دل بہلاتے رہیں گے۔
(10) رات کو تنہا قبرستان نہیں جانا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں شرعی طریقے کے مطابق قبرستان جانے کی اور قبروالوں کو اِِیصالِ ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 584