باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرتِ سَیِّدُنا بُریدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”میں نےتمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھااب تم ان کی زیارت کیا کرو۔“

عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:کُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 581 ، باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:جس رات رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ہاں قیام فرماتے تو رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے مؤمن قوم کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، تمہارے پاس وہ چیز آچکی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، تمہیں (مقررہ وقت تک) مہلت دی گئی اوراِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، اےاللّٰہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ اِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَ اَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِاَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 582 ، باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا بُرَیْدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو کہیں:’’اےمؤمنوں اورمسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو،اِنْ شَآءَ اللّٰہہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، ہماللّٰہتعالیٰ سےاپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔‘‘

عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُهُمْ اِذَا خَرَجُوْا اِلَى الْمَقَابِرِ اَنْ يَّقُوْلَ قَائِلُهُمْ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَ اِنَّآ اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ، اَسْاَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 583 ، باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ طیِّبَہ کی قبروں کے پاس سے گزرے تواُن کی طرف مُتَوجہ ہوکر فرمایا:” اے قبر والو! تم پر سلامتی ہواللّٰہتعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُوْرٍ بِالْمَدِيْنَةِ فَاَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَااَهْلَ القُبُوْرِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ،اَنْتُمْ سَلَفُنَا، وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 584 ، باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان