Main Icon

باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 583

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُهُمْ اِذَا خَرَجُوْا اِلَى الْمَقَابِرِ اَنْ يَّقُوْلَ قَائِلُهُمْ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَ اِنَّآ اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ، اَسْاَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

عن بريدة رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم یعلمهم اذا خرجوا الى المقابر ان يقول قائلهم:السلام عليكم اهل الديار من المؤمنين والمسلمين و انا ان شاء الله بكم للاحقون، اسال الله لنا ولكم العافية.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا بُرَیْدہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو کہیں:’’اےمؤمنوں اورمسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو،اِنْ شَآءَ اللّٰہہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، ہماللّٰہتعالیٰ سےاپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

اہل قبور سلام کاجواب دیتے ہیں:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو دعا سکھائی کہ جب تم قبرستان جاؤ تو یہ کہو: ”اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ وَ اِنَّآ اِنْ شَآءَ اللّٰہ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ، اَسْاَلُ اللّٰہ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”درست بات یہ ہے کہ میت بھی اہل خطاب میں سے ہے کیونکہ رُوح اگرچہاَعْلٰی عِلِّیِّیْن(یعنی سب سے اعلیٰ جنت) میں ہو تب بھی اُس کا تعلق قبر کے ساتھ رہتا ہے اور وہ اس بات کو جانتی ہے کہ اس کی قبر پر کون آتا ہے اور کون نہیں آتا۔“ جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ ”جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی قبر سے گزرے جسے وہ دنیا میں جانتا ہو تو اسے سلام کرے کہ وہ قبر والا اسے پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔“مُردہ قبرپرآنےوالےکودیکھتااورپہچانتاہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قبرستان میں جاکر پہلے سلام کرنا پھر یہ عرض کرنا (یعنی اوپرذکر کی گئی دعا پڑھنا) سنت ہے،اس کے بعد اہلِ قبور کو اِیصالِ ثواب کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مُردے باہر والوں کود یکھتے پہچانتے ہیں اور ان کا کلام سنتے ہیں ورنہ انہیں سلام جائز نہ ہوتا کیونکہ جو سنتا نہ ہو یا سلام کا جواب نہ دے سکتا ہو اسے سلام کرنا جائز نہیں،دیکھو سونے والے اور نماز پڑھنے والے کو سلام نہیں کرسکتے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینًا اہل قبور اپنی قبر پر آنے والے کو دیکھتے بھی ہیں، پہچانتے بھی ہیں اور ان کے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الرَّزَاقسے منقول ہے، بعض نے کہاہے کہ ابنِ مُوَفّقرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”میں اپنے والد صاحب کی قبر کی اکثر زیارت کیا کرتا تھا، ایک دن میں ایک جنازہ کے ہمراہ اس قبرستان کی طرف گیا جس میں میرے والد مدفون تھے، مجھے کوئی کا م تھا جس کی وجہ سے میں نے واپسی میں جلدی کی اور اپنے والد کی قبر کی زیا ر ت نہ کر سکا، رات خواب میں والد صاحب کو دیکھا، انہوں نے فرمایا:”اے میرے بیٹے! کل تو قبرستان آیا تھا لیکن میرے پاس نہ آیا۔“میں نے کہا:”اباجان! کیاآپ جانتے ہیں کہ میں آپ کے پاس آیا تھا؟“توانہوں نے فرمایا:”جی ہاں!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! تو میرے پاس آتا ہے تو میں تجھے لگاتار دیکھتا رہتا ہوں یہاں تک کہ تو راستے میں آنےوالا پُل پار کرکے میرے پاس پہنچتا ہے اور میرے پا س بیٹھتا ہے، پھر کھڑا ہوتا ہے توواپسی میں بھی میں تمہیں دیکھتا رہتا ہوں یہاں تک کہ تو پُل پار کر جاتا ہے۔‘‘فوت شدہ والدین واَقارِب کو ہمیشہ یادرکھیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت سے ان لوگوں کو درسِ عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ جو اپنے والدین و عزیز و اَقارِب کی قبروں پر نہیں جاتے۔ ابن مُوفِّقرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے والد صاحب کی قبر پر اکثر حاضری دیا کرتے تھے لیکن ایک بار اس قبرستان میں آنے کے باوجود کسی مجبوری کے تحت والد صاحب کی قبر پر نہ جاسکے تو والد صاحب نے خواب میں آکر آپ سے اس بات کا گِلہ کیا کہ تم قبرستان میں آنے کے باوجود میری قبرپر نہیں آئے۔ لیکن اب تو حالات بہت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں، کئی لوگ ایسے ہیں جنہیں اپنے والدین بہن بھائیوں اور عزیز و اَقارب کو دفن کرنے کے بعد ان کا کچھ خیال ہی نہیں رہتا، نہ ان کی قبروں کی زیارت کے لیے کبھی قبرستان میں قدم رکھتے ہیں، نہ کبھی دعائے مغفرت کرتے ہیں، نہ صدقہ و خیرات اور نیاز وفاتحہ کے ذریعے کبھی ایصال ثواب کرتے ہیں، نہ ان کے لیے کبھی قرآن خوانی کراتے ہیں، نہ محتاجوں کو کھانا کھلا کر اور کپڑا پہنا کر ان کی روحوں کو ثواب پہنچاتے ہیں، نہ چہلم نہ ششماہی نہ برسی پر انہیں یاد رکھ کر ان کی فاتحہ دلاتے ہیں۔ بلکہ اب تو بعض بدمذہب اور بے دین لوگوں نے یہ غضب ڈھایا کہ زیارتِ قبور اور نیاز و فاتحہ کو قبر پرستی اور بدعت قرار دے کر مسلمانوں کا اپنے مُردہ عزیزوں سے بالکل ہی رشتہ و تعلق کاٹ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اپنے ماں باپ اور بزرگوں کو اس طرح بھول گئے کہ کبھی بھولے سے بھی ان کو یاد نہیں کرتے۔ اِحسان فراموشی اور مطلب پرستی کی اس سے زیادہ گھناؤنی مثال اور کیا ہوگی کہ ماں باپ اور بھائیوں بہنوں کے وارث بن کر ان کی جائیدادوں پر تو قابض ہو کر مزے اُڑا رہے ہیں مگر ان بزرگوں اور عزیزوں کو کبھی یاد کرکے ان کی روحوں کو کسی قسم کا ثواب نہیں پہنچاتے۔کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارے باپ داداؤں نے کتنی محنت و مشقت اٹھا کر ان مکانوں اور جائیدادوں کو بنایا ہوگا جو ہمیں مُفت میں دے کر دنیا سے چلے گئے تو ہم ان کا شکریہ اس طرح ادا کرتے رہیں کہ ان کی قبروں پر حاضر ہو کر کبھی کبھی فاتحہ پڑھتے اور دعائے مغفرت کرتے رہیں۔ قرآنِ مجید میں خداوند قدوس کا فرمان ہے:هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)(پ۲۷،الرحمن:۶۰) ترجمہ: یعنی احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہے۔
ماں باپ اور بزرگوں کا احسان تو یہ ہوا کہ انہوں نے ہم کو پالا پھر وہ ہم کو مکان و جائیداد دے گئے تو ہمیں بھی لازم ہے کہ اُن کے اِحسانوں کا بدلہ دیں کہ اُن کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھیں اور ان کے لیے دعا و استغفار کرتے رہیں اور فاتحہ کے ذریعے ان کو اِیصالِ ثواب اور ان کی روحوں کو ثواب پہنچاتے رہیں۔ بہر حال ہر مسلمان کا یہ لازمی کارنامہ ہونا ہی چاہیے کہ وہ اپنے ماں ، باپ ، دادی، دادااور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور کبھی بھی اُن کی قبروں کی زیارت اور اُن کی فاتحہ و ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت و استغفار سے ہرگز ہرگز غافل نہ رہیں۔
مُردہ ایصالِ ثواب کامنتظررہتا ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح والدین کی زندگی میں ان کی زیارت کرنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ایسے ہی ان کی وفات کے بعد ان کی قبروں پر حاضری دینے کا معمول بنا لیجئے کہ جس طرح انسان اپنی حیات میں عزیز و اَقارب سے ملاقات کرنے اور ان کے تحائف کا خواہاں ہوتا ہے ایسے ہی بعدِ وفات قبر میں بھی اپنے پیاروں کے دیدار اور ایصالِ ثواب کا منتظر رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ ”قبر میں میت ڈوبنے والے فریاد کرنے والے آدمی کی طرح ہے، مُردوں کو قبر میں ہر وقت اپنے والد یا والدہ یا بھائیوں یا دوستوں کی طرف سے ہدیہ (یعنی فاتحہ اور ایصالِ ثواب) کا انتظار رہتا ہے اور جب ہدیہ آجاتا ہے تو اس کو دنیابھرکی نعمت پا جانے سے بڑھ کرخوشی حاصل ہوتی ہے۔“اور بالخصوص اپنے والدین کی قبر پر حاضری دیجئے کہ یہ مغفرت اور بھلائی کا پیش خیمہ ہے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:”جو اپنے والدین دونوں یا ایک کی قبر کی ہر جمعہ کے دن زیارت کرےگا اُس کی مغفِرت ہوجائے گی اور وہ نیکو کار لکھا جائے گا۔“والدین کی وفات کے بعدتین کام کرو:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”بہتر ہے کہ ہر جمعہ کے دن والدین کی قبور کی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسر نہ ہو جیسے کہ یہ فقیر اب پاکستان میں ہے اور میرے والدین کی قبریں ہندوستان میں۔ تو ہر جمعہ کو ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا کرے۔ علماء فرماتے ہیں کہ والدین کی وفات کے بعد تین کام کرو: (1)ایک یہ کہ ہر جمعہ کو ان کی قبروں کی زیارت کرو،ان کے لیے دعاختم وغیرہ پڑھو۔(2)دوسرے یہ کہ ان کے قرض ادا کرو،ان کے وعدے پورے کرو۔ (3) تیسرے یہ کہ والد کے دوستوں اور والدہ کی سہیلیوں کو اپنا باپ و ماں سمجھو اور ان کی خدمت کرو۔“مُردے کوتکلیف دینا حرام ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی والدین یا کسی عزیز کی قبر پر ایصال ثواب فاتحہ یا دعائے مغفرت وغیرہ کے لیے جانے کی سعادت نصیب ہو تو وہاں دیگر قبور پر چلنے، ان پر پاؤں رکھنے، بیٹھنے یا سونے وغیرہ سے سختی سے بچیے اور دوسروں کو بھی بچائیےکیونکہ قبر پر چلنا، بیٹھنا اور سونا حرام ہے کہ یہ مُردوں کی ایذا رسانی کا سبب ہے اور مسلمان کو ایذا دینا ناجائز وحرام ہے۔ حدیث پاک میں قبر پر چلنے اور بیٹھنے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:(1)”مجھے آگ کی چِنگاری پر یا تلوار پر چلنا یا میرا پاؤں جُوتے میں سِی دیا جانا زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں کسی مسلمان کی قَبرپر چلوں۔“(2)”تم میں سے کسی ایک آدمی کا آگ کی چنِگاری پر بیٹھے رہنا یہاں تک کہ وہ اس کے کپڑے کو جَلا کر اس کی کھال تک پہنچ جائے ، یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قَبرپر بیٹھے۔‘‘جب بھینس کا پاؤں قبر پر پڑا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب قبر والوں کو کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو بعض اوقات وہ اس کا اظہار بھی کردیتے ہیں۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت،امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے اپنے پیر بھائی حضرتِ ابوالحسن نوریرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے ایک واقعہ نقل فرمایا ہے، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے شہر ”مارہرہ مُطَہَّرہ“(ہند)کے قریب ایک جنگل میں ایک بڑی قبر ہے جس میں بہت سارے شہید مدفون ہیں، ایک شخص اپنی بھینس کو اس اجتماعی قبر کے اوپر سے لے جارہا تھا، ایک جگہ زمین نرم تھی، یکا یک بھینس کاپاؤں زمین میں چلا گیا، معلوم ہوا یہاں قبر ہے، اسی اثنا میں قبر سے آواز آئی: ”اے شخص! تونے مجھےتکلیف دی، تیری بھینس کا پاؤں میرے سینے پر پڑا۔“
اعلیٰ حضرت،امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنقبرستان میں جانے کے احکام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”قبر پر نہ بیٹھے، نہ کسی قبر پر پاؤں رکھ کر وہاں (یعنی کسی عزیز کی قبر تک) پہنچناہو، اور اگر بے اس کے (یعنی قبر پر پاؤں رکھے بِغیر) وہاں تک نہ جاسکے تو قَبْرکے نزدیک تِلاوت کے لیے جانا حرام ہے، بلکہ کَنا رے ہی سے جہاں تک بے کسی قَبْرکو روندے جاسکتا ہے، تِلاوت کرے۔“نیز (قبرِستان میں قبریں مِٹا کر) جونیا راستہ نکالا گیا ہو اُس پر چلنا حرام ہے۔بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔اولیاء و شہداء کرام کے مزار پر سلام کا طریقہ:حدیث پاک کےآخری حصےمیں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنےفرمایا:”اَسْاَلُ اللّٰہ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ“ یعنی ہماللّٰہتعالیٰ سےاپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”عوام مسلمین کی قبروں پر بعد سلام یہ الفاظ کہے جائیں (یعنیاَسْاَلُ اللّٰہ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَاولیاء اللّٰہکے مزارات پر یوں عرض کرے:سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا کَسَبْتُم فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِاور شہداء کے مزارات پر یوں عرض کرے:سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ۔“مدنی گلدستہ”اولیاء اللّٰہ “کے10حروف کی نسبت سے حدیث مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) جو شخص کسی جاننے والے کی قبر کے پاس سے گزرے تواسے سلام کرے کہ وہ قبر والا اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
(2) قبر والا اپنی قبر پر آنے والے کو دیکھتا بھی ہے اور پہچانتا بھی ہے۔
(3) اہل قبورکو اپنے والدین بہن بھائیوں اور دوست احباب کی طرف سے ایصالِ ثواب کا انتظار رہتا ہے اور جب انہیں ایصالِ ثواب پہنچتا ہے تو انہیں دنیا بھر کی نعمت پاجانے سے بڑھ کر خوشی حاصل ہوتی ہے۔
(4) جو ہر جمعہ کو اپنے ماں باپ کی قبر کی زیارت کرے گا اس کی مغفرت کی بشارت ہے۔
(5) جو شخص کسی مجبوری کی وجہ سے اپنے والدین کی قبر پر حاضر نہیں ہو سکتا اسے چاہیے کہ ہر جمعہ کو ان کے لیے ایصال ثواب کیا کرے۔
(6) جو اپنے والدین کا نافرمان تھا اوراسکے والدین وفات پاگئے تو اسے چاہیےکہ فوراًتوبہ کرے اور ان کے لیے ہمیشہ دعا و استغفار کرتا رہے امید ہے کہ رحمتِ الٰہی سے اس کا نافرمانی والا گناہ معاف ہوجائے گا اور وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا لکھا جائے گا۔
(7) مسلمان کی قبر پر چلنا، بیٹھنا، سونا اور پیشاب وغیرہ کرنا حرام ہے۔
(8) اگر کسی رشتہ دار کی قبر تک جانے کے لیے دوسری قبروں پر سے گزرنا پڑے تو وہاں جانا حرام ہے اُسےچاہیے کہ قبروں پر چلے بغیر جس قدر قریب جاسکتا ہے جائے اور وہیں سے فاتحہ خوانی کرے۔
(9) قبرستان میں قبریں مٹاکر جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس پر چلنا حرام ہے بلکہ اگر نئے راستے کا گمان بھی ہو تب بھی اُس پر چلنا جائزنہیں۔
(10) جب بھی قبرستان جائیں قبر والوں کے ساتھ ساتھ اپنے لیے بھی دعا کریں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں قبروں کی زیارت کرنے اور اپنے والدین و عزیز و اقارب کی قبروں پر جانے اور ان کے لیے ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 583