Main Icon

باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 582

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ اِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ:اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَ اَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِاَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ.

عن عائشة رضي الله عنها قالت: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم کلما كان ليلتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم یخرج من آخر الليل الى البقيع فيقول:السلام عليكم دار قوم مؤمنين و اتاكم ما توعدون غدا مؤجلون وانا ان شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:جس رات رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ہاں قیام فرماتے تو رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور فرماتے: ”اے مؤمن قوم کے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، تمہارے پاس وہ چیز آچکی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا، تمہیں (مقررہ وقت تک) مہلت دی گئی اوراِنْ شَآءَاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہم بھی تم سے ملنے والے ہیں، اےاللّٰہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما۔“

شرح حدیث

روزانہ قبرستان مدینہ کی زیارت:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِانے فرمایا کہ جس رات حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا قیام اُن کے ہاں ہوتا اس رات کے آخری حصے میں آپعَلَیْہِ السَّلَامجنت البقیع تشریف لے جاتے۔مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزانہ آخری شب میں بقیع یعنی قبرستانِ مدینہ کی زیارت فرماتے تھے، (حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِا) اپنی باری کا ذکر اس لیے فرماتی ہیں کہ آپ کے علم میں یہ ہی آیا۔“بقیع غرقدکاتعارف:بقیع مدینہ منورہزَادَھا اللّٰہ شَرَفًا وَّتَعْظِیماًکا قبرستان ہے اس میں اہل مدینہ کی قبور ہیں، بقیع درخت والے میدان کو کہتے ہیں چونکہ یہاں غَرقَد نامی درخت ہوا کرتے تھے اس لیے اس کا نام بقیع غرقد ہو گیا۔بقیع کی زیارت سنت ہے، اس قبرستان میں قریب دس(10) ہزار صحابہ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُممدفون ہیں اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔حدیث پاک میں اس قبرستان میں مدفون حضرات کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّروزِ قیامت اس بقیع اوراس حرم سے ستر ہزار شخص ایسے اٹھائے گا جو بے حساب جنت میں جائیں گے اوران میں ہر ایک ستر ہزار کی شفاعت کرے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔“اَعمال کا ثواب قیامت میں ملےگا:حضورعَلَیْہِ السَّلَامجب بقیع تشریف لے جاتے تو فرماتے:’’اے مؤمنین کی قوم! تم پر سلامتی ہو، تمہارے پاس وہ چیز آچکی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا،تمہیں (مقررہ وقت تک) مہلت دی گئی۔‘‘ مرآۃ المناجیح میں ہے:یعنی تمہارا وعدۂ موت پورا ہوچکا اور تم کو موت آچکی، اَعمال کا ثواب کل قیامت میں ملے گاہماری ابھی موت بھی باقی ہے اور اجر وثواب بھی۔حضور کی اہل بقیع کےلیےدعا:مذکورہ حدیث پاک کے آخری حصہ میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اہل بقیع کو دعا دیتے ہوئے فرمایا: ” اےاللّٰہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما۔“ اس دعا کی وجہ سے بعض مومن بقیع میں دفن ہونے کی تمنا کرتے ہیں تاکہ اس خصوصی دعا میں وہ بھی شامل ہوجائیں۔دعا یہ ہے کہ الٰہی تمام بقیع والے مدفونوں کی مغفرت فرما۔ رب تعالیٰ اس پاک سرزمین میں دفن ہونا نصیب کرے۔ آمیناِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”حدیثِ مذکورمیں اس بات پر دلیل ہے کہ قبروں کی زیارت کرنا، اہل قبور کو سلام کرنا، ان کے لیے دعا کرنا اور ان کے لیے رحمت و مغفرت طلب کرنا مستحب ہے۔“مَزاراتِ اولیاء کی برکتیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامروزانہ جنت البقیع تشریف لے جاتے تھے لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ زیارتِ قبور کو اپنا معمول بنائیں کیونکہ زیارتِ قبور سے فکر آخرت پیدا ہوتی ہے، بندہ نیک اَعمال کی کوشش کرتا ہے۔قبروں اوراولیاء اللّٰہکے مزارات کی حاضری سے اطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے، دینی اور دنیاوی حاجات پوری ہوتی ہیں، انسان شرو فساد سے امن میں رہتا ہے بلکہ جس جگہ ان پاکباز ہستیوں کے مَقابِر ہوتے ہیں وہ جگہیں بھی فتنہ و فساد سے محفوظ رہتی ہیں۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا احمد بن عباسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :” میں بغداد سے نکلاتو ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جس پر عبادت کے آثار نمایاں تھے۔ اُس نے پوچھا: ”آپ کہاں سے آرہے ہیں؟“ میں نے جواب دیا: ”بغداد سے بھاگ کر آرہاہوں کیونکہ میں نے وہاں فساد دیکھا ہے،مجھے خوف ہے کہ کہیں اہلِ بغداد کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے۔“اُس بزرگ نے فرمایا: ”آپ واپس چلے جائیے اور ڈریئے مت، کیونکہ بغداد میں چار ایسے اولیائے کرامرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ مْ اَجْمَعِیْنکی قبریں ہیں جن کی برکت سے اہلِ بغداد تمام بلاؤں اور مَصائب سے محفوظ ہیں۔“میں نے پوچھا:”وہ کون ہیں؟“جواب دیا: ”وہ حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبل،حضرت سیِّدُنا معروف کرخی، حضرت سیِّدُنا بشرحافی اورحضرت سیِّدُنامنصور بن عماررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ مْ اَجْمَعِیْنہیں۔“چنانچہ میں واپس آ گیااور ان مردانِ حق کی قبروں کی زیارت کی اور اس سال بغدادمعلیٰ سے باہر نہ گیا۔“مدنی گلدستہ’’بقیع ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم،
رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثر رات کے آخری پہر جنت البقیع تشریف لے جاتے تھے۔
(2) جنت البقیع میں تقریبًا 10 ہزار صحابہ کرام
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماور بے شمار اولیائے عظام مدفون ہیں۔
(3) جنت البقیع میں مدفون حضرات کے لیے حضور
عَلَیْہِ السَّلَامنے مغفرت کی دعا فرمائی ہے۔
(4) قبروں کی زیارت کرنا، اہل قبور کو سلام کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا مستحب ہے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبروں کی زیارت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت البقیع میں مدفن نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 582