Main Icon

باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 869

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِذَاانْتَهٰی اَحَدُكُمْ اِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ فَاِذَااَرَادَ اَنْ يَّقُومَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْاُوْلٰی بِاَحَقَّ مِنَ الْاٰخِرَ ةِ.

عن ابی هريرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اذاانتهی احدكم الى المجلس فليسلم فاذااراد ان يقوم فليسلم فليست الاولی باحق من الاخر ة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل عموماً آتے جاتے وقت سنت کے مطابق سلام نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی کسی محفل، اجتماع یا مجلس وغیرہ میں آکرسلام کربھی دے توبوقتِ رخصت سلام نہیں کرتا بلکہ”میں چلتا ہوں،خدا حافظ،اچھا،بائے بائے“ وغیرہ کلمات کہے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ حدیث پر عمل کرتے ہوئے محفل میں آتے وقت بھی اور جاتے وقت بھی سنت کے مطابق سلام کرنا چاہئے کیونکہ جس طرح محفل میں آتے وقت سلام کرنا سنت ہے اسی طرح وہاں سے رخصت ہوتے وقت بھی سلام کرنا سنت ہے ۔پہلا سلام دوسرےسلام سے بہتر نہیں:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:مجلس میں آتے وقت بھی سلام کیا جائے اورجاتے وقت بھی، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں۔ کسی کامحفل میں پہنچ کر سلام کرنا اہلِ محفل کو اس با ت کی خبر دیناہے کہ تم میری موجودگی میں میری طرف سے امن میں رہو گے۔ اسی طرح واپسی پر سلا م کرنابھی اس بات کی خبردیناہے کہ میرے جانے کے بعد بھی تم میری طرف سے سلامتی اور امن میں رہو گے۔چنانچہ پہلا سلام دوسرے سلام سے اہم نہیں بلکہ دوسرا اہم ہے کیونکہ غیر موجود گی میں سلامتی کی خبر موجودگی میں سلامتی کی خبر سے بہتر ہوتی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”معلوم ہوا کہ آنے والا بیٹھے ہوؤں کو سلام کرے۔ پھر اگر محفل میں بیٹھنا ہو جب بھی سلام کرےاور اگر صرف گزرنا ہو تب بھی سلام کرے ۔ گزرنے والا صرف ایک بار سلام کرے اور مجلس میں کچھ دیر ٹھہرنے والادو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کاکہ پہلا سلام دوسرے سے اہم نہیں۔ یعنی سلامِ لِقا اور سلامِ وَداع دونوں سنت ہونے میں برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں ۔لہٰذا یہ دونوں سلام سنت ہیں۔“مدنی گلدستہ’’رحمت ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جب کوئی کسی کوسلام کرتاہے توگویا اسے یہ خبر دیتاہے کہ میری طرف سے تمہاری جان ،مال، عزت آبرو سب محفوظ ہیں۔
(2) جب کوئی محفل میں آئے تو اسے چاہیے کہ اہلِ محفل کو سلام کرے۔
(3) مسلمانوں کی تشویش وپریشانی دور کرنا کارِ ثواب ہے ۔ اسی لئے تو حکم دیا گیا کہ محفل میں آتے وقت بھی اور جاتے وقت بھی سلام کیاجائےکیونکہ اگر سلام کئے بغیر جائے گا تو اہلِ محفل کو تشویش ہوسکتی ہے کہ شاید ناراض ہو کر گیا ہے ۔
(4) جس طرح محفل میں آتے وقت سلام کرناچاہیےاسی طرح جاتے وقت سلام کرنا چاہیے۔ پہلے کو سلامِ لِقا اور دوسرے کو سلامِ وَداع کہتے ہیں اور یہ دونوں سنت ہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ملتے وقت اور رخصت ہوتےوقت سلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 869