Main Icon

باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 952

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ : قَال رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَا مِنْ مُسْلِـمٍ يَمُوْتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ اِلَّا اَدْخَلَهُ اللہُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ اِيَّاهُمْ.

عن انس رضي اللہ عنه قال : قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم:ما من مسلـم يموت له ثلاثة لم يبلغوا الحنث الا ادخله اللہ الجنة بفضل رحمته اياهم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس مسلمان کے تین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوجائیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُن بچوں پر رحمت کی وجہ سے اُس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“

شرح حدیث

اولاد کی موت پر صبر کرنے پر جنت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حدیث اِس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب کسی مسلمان کےتین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوجائیں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فضل و کرم سے اُن بچوں پر رحمت کی وجہ سے اُس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا کیونکہ چھوٹے بچوں سے محبت اور اُلفت زیادہ ہوتی ہے جب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو یہ محبت و شفقت کم ہوجاتی ہےلہٰذا جب کسی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید کرتے ہوئے صبر کرے تواُس کے لیےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے یہ اِنعام ہے کہ وہ داخلِ جنت ہوگا۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے بڑی خوشخبری ہےجن کے تین چھوٹے بچے فوت ہوگئے ہوں اور وہ اس پر ملنے والے اجر پر نظر رکھتے ہوئے صبر کریں تو اُن کے لیے یہ فوت شدہ بچے جنت میں جانے کا ذریعہ بن جائیں گے۔نابالغ اولاد کی موت پر بشارت کی وجہ:یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بشارت صرف نابالغ بچوں کی موت پر ہی کیوں ہے اولاد تو اولاد ہے چاہے چھوٹی ہو یا بڑی۔ ماں باپ کے لیے تو دونوں ہی برابر ہیں؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:حدیث میں خاص نابالغ بچوں کی موت پر جنت میں داخلے کی بشارت دی گئی کیونکہ ماں باپ کی شفقت ان پر زیادہ ہوتی ہے اور وہ بڑی اولاد کی نسبت ان سے محبت زیادہ کرتے ہیں ۔اس لئے ان کے فوت ہوجانے سے ان کو صدمہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا اس پر اجروثواب بھی زیادہ ہونا چاہیے اگرچہ مُطْلَقا ً اولاد کے فوت ہونے پر ماں باپ کو ثواب ملتا ہے۔اولاد کی اولاد اس بشارت میں داخل نہیں کیونکہ ایک روایت میں صُلبی (حقیقی)اولاد کی صراحت موجود ہے۔کفر کی حالت میں کسی کا نابالغ بچہ فوت ہوجائے پھر وہ مسلمان ہوجائے تو وہ اِس بشارت میں داخل نہیں ۔ایسا بچہ جو جنون اور پاگل پن کی حالت میں بالغ ہوا اور اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ اس کا انتقال ہوگیا تو ظاہر یہ ہےکہ وہ بھی اس بشارت میں داخل ہےکیونکہ جس طرح نابالغ شریعت کا مُخاطَب نہیں اسی طرح وہ بھی شریعت کا مخاطب نہیں۔ایک یا دو بچوں کی موت پر۔۔۔حدیث میں تین بچوں کا ذکر ہے کہ جس کے تین بچے فوت ہوجائیں تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّمحض اپنے فضل سے اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کے دو یا ایک ہی بچہ فوت ہوا ہو تو کیا اُس کے لیے یہ بشارت نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں بلکہ اسی باب کی آخری حدیث میں دو بچوں کا بھی ذکر ہے کہ جس کے دو بچے فوت ہو جائیں اس کے لیے بھی جنت کی بشارت ہے جبکہ بعض احادیث میں ایک بچے کے فوت ہونے پر بھی یہ بشارت دی گئی ہے۔ چنانچہعَلَّامَہ اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں: ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جس کا ایک بیٹا فوت ہوجائے تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا: جب میں اپنے بندے سے اُس کی قیمتی چیز لے لوں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا صرف اور صرف جنت ہے۔“اور بیٹے سے قیمتی چیز کوئی نہیں۔حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جب کسی مومن بندے کا بیٹا مرجاتا ہے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی؟ وہ عرض کرتے ہیں: ہاں۔تو فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا۔ عرض کرتے ہیں :ہاں ۔پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:(اس مصیبت پر)میرے بندے نے کیا کہا؟تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ تیر ی تعریف کی اوراِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھا تواللّٰہعَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے: میرے اس بندے کیلئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام ”بَیْتُ الْحَمْد“رکھو۔مدنی گلدستہ’’بقیع‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جس کے تین چھوٹے نابالغ بچے فوت ہوجائیں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُسے اپنے فضل سے داخلِ جنت فرمائے گا۔
(2) جس کی نابالغ اولاد فوت ہوجائے اسے چاہیے کہ اس پر ملنے والے انعام(جنت) پرنظررکھےاورصبر کرے۔
(3) جو اپنی اولاد کی موت پر
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کرے اوراِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنپڑھے تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور اس کا نامبَیْتُ الْحَمْدرکھے گا۔
(4) جس کا ایک بچہ بھی فوت ہوجائے اُس کے لیے بھی جنت کی بشارت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر مصیبت پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جسے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اس کی اولاد کو اس کے لیے ذریعہ ٔنجات بنائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 952