Main Icon

باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 953

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:لَا يَمُوْتُ لِاَحَدٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الوَلَدِ لَاتَمَسُّهُ النَّارُ اِلاَّ تَحِلَّةَ القَسَم.

عن ابي هريرة رضي اللہ عنه قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد لاتمسه النار الا تحلة القسم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوجائیں اُسے آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری ہونے کے لیے۔“

شرح حدیث

قسم پوری ہونے سے مراد:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:قسم پوری ہونے سے مراداللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمان ہے:﴿وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-﴾(پ۱۶،مریم:۷۱) ترجمہ ٔکنز الایمان:’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو۔‘‘گزرنے سے مراد پل صِراط کو پار کرنا ہےجوکہ جہنم کے اوپر نَصب ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اس سے عافیت عطا فرمائے۔حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: یہاں حقیقی قسم مراد نہیں مگر جیسے قسم کھانے والا قسم کھاکر اپنے اوپر وہ بات لازم کر لیتا ہے جو اُس پر لازم نہیں ہوتی۔ اسی طرحاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ہر شخص کو جہنم پر گزارے گا حالانکہ اس پر کچھ لازم نہیں اس لیے اسے ”تَحِلَّةَ القَسَم“ سے تعبیر کیا۔ یا ”تَحِلَّةَ القَسَم“ سے مراد تھوڑی دیر ہے جتنی دیر میں قسم پوری ہوتی ہے وہ محض ایک آن ہے کسی نے قسم کھائی میں آج فلاں کے گھر جاؤں گا تو جس آن گھر کے اندر داخل ہوا قسم پوری ہوگئی اگر چہ گھر میں جاتے ہی فورا ًواپس ہوجائے چند سیکنڈ بھی نہ ٹھہرے مراد یہ ہے کہ ایک آن کے لیے۔جہنم سے گزرنے سے کیا مراد ہے؟صحیح اور راجح امام حسن بصری اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ پل صراط پر گزرنا مراد ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے :”ہر ایک کو دوزخ میں وارِد ہونا ہے کیونکہ محشر سے جاتے ہوئے جنت کے راستہ میں دوزخ پڑتی ہے یعنی ایسا صابر دوزخ سے گزرے گا تو ضرور مگر صرف اس قسم کو پورا کرنے نہ کہ عذاب پانے کے لیے۔“مدنی گلدستہ’’قسم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(6) جو اپنی نابالغ اولاد کی موت پر صبر کرے تو وہ دوزخ سے گزرے گا تو ضرور مگر صرف ربّ تعالیٰ کی قسم کو پورا کرنے کے لیے نہ عذاب پانے کے لیے۔
(7) ہر شخص کو پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔
(8) کسی نے قسم کھائی میں آج فلاں کے گھر جاؤں گا تو جیسے ہی گھر کے اندر داخل ہوا قسم پوری ہوگئی۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پل صراط سے عافیت کے ساتھ گزار ے اور ہمیں بلا حساب وکتاب بخش دے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 953