Main Icon

باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 744

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُما عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْبَـرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيـْهِ وَلَا تَأْكُلُوا مِن وَسَطِهِ.

عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: البـركة تنزل وسط الطعام فكلوا من حافتيـه ولا تأكلوا من وسطه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہےکہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: ”برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے لہٰذاکناروں سے کھاؤ اور درمیان میں سےنہ کھاؤ۔“

شرح حدیث

کناروں سے کھاؤ ، بیچ میں سےنہ کھاؤ!مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”ہر شخص اپنے سامنے والے کنارے سے کھائے بیچ پیالےسے نہ کھائے کیونکہ درمیانِ پیالہ نزولِ رحمت کی جگہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے کھانے کے وقت بھی رحمت باری کا نزول ہوتا ہے خاص کر جبکہ سنت کی نیت سے کھایا جائے۔“عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّؤُوْف مُنَاوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں: ”کناروں سے کھانے کا حکم اِستحبابی اور بیچ میں سے کھانے کی ممانعت تنزیہی ہے۔“یاد رہے کہ بیچ میں سے نہ کھانے سے مراد یہ نہیں کہ بیچ کا حصہ آخر تک نہ کھایا جائے اور یوں ہی چھوڑ دیا جائے بلکہ اِس سے مراد یہ ہے کہ اِسے آخر میں کھایا جائے۔درمیان سےکھانے کی ممانعت کیوں ؟برتن کے بیچ میں سے کھانے سے منع کرنے کی ایک وجہ تو یہی ہے جو حدیثِ مذکور میں وارد ہوئی کہ بیچ میں برکت نازل ہوتی ہے اگر وہی حصہ کھا لیا جائے تو برکت ہرطرف کیونکر سرایت کرے گی۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی وُجوہات ہو سکتی ہیں۔مثلاً:”بیچ سے کھانا حرص کی علامت ہے،ہر شخص کا حق اپنے قریبی کنارے پر ہے اور بیچ کا حصہ قدرِ مشترک ہے۔‘‘ کھانے کو اَطراف سے کھایا جائے اور بیچ میں ہاتھ مارنے سے بچا جائے تو یہ نفاست کے قریب ہے اِس طرح کھانا بچ جانے پر دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتاہے۔برکت بیچ ہی میں کیوں نازل ہوتی ہے؟اگر ہر شخص آداب کا خیال رکھتے ہوئے اپنے سامنے والے کنارے سے کھائے اور بیچ میں ہاتھ مارنے سے بچے تو برکت کھانےکے بیچ میں نازل ہو کر ہر طرف سرایت کرجائے گی۔اور بیچ میں برکت نازل ہونے کا یہ فائدہ ہوگا کہ ہر شخص تک برکت برابرپہنچے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ درمیانی حصہ اَفضل واَعلیٰ ہوتا ہے لہٰذا وہیں نزولِ خیر وبرکت ہوتا ہے۔ہر قسم کا کھانا اپنی طرف سے کھاؤ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’چاہے کھانا شوربے والا ہو یا جامد جیسے ثرید وغیرہ بیچ میں سے نہ کھایا جائے۔“امام غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتےہیں:’’ کنارے علیحدہ کرکے روٹی درمیان سے نہ کھائے بلکہ کناروں سمیت کھائے۔ کھانے والے زیادہ ہوں اور روٹی کم ہو تو روٹی کے ٹکڑے کرلیے جائیں تاکہ کھانے میں آسانی رہے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 744