Main Icon

باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 745

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِلنّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ، يَحْمِلُهَا اَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلمَّا اَضْحَوا وَسَجَدُوا الضُّحٰى اُتِيَ بتِلْكَ الْقَصْعَةِ، يَعْنِيْ وَقَدْ ثُرِدَ فِيْهَا، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، فَقالَ اَعْرابيٌّ: ما هٰذِهِ الْجِلْسَةُ؟ قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: اِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، ولَمْ يجْعَلْنِي جَبّارًا عَنِيْداً، ثمَّ قَالَ رَسولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا، وَدَعُوْا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيْهَا.

عن عبد الله بن بسر رضي الله عنه قال: كان للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يقال لها: الغراء، يحملها اربعة رجال، فلما اضحوا وسجدوا الضحى اتي بتلك القصعة، يعني وقد ثرد فيها، فالتفوا عليها، فلما كثروا جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال اعرابي: ما هذه الجلسة؟ قال رسول صلى الله عليه وسلم: ان الله جعلني عبدا كريما، ولم يجعلني جبارا عنيدا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلوا من حواليها، ودعوا ذروتها يبارك فيها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہبِن بُسْررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک پیالہ تھا جسےغَرّاءکہا جاتا تھا، اسے چار آدمی اٹھاتے تھے۔ جب چاشت کا وقت ہوا اور نمازِ چاشت پڑھ لی گئی تو وہ پیالہ لایا گیا، اس میں ثَرید تھا، لوگ اس پر جمع ہوگئے، پھر جب زیادہ ہوگئے تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھٹنوں کے بل (دو زانو) بیٹھ گئے۔ایک اَعرابی نے عرض کی: یہ کس طرح کا بیٹھنا ہے؟ تو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اللّٰہتعالیٰ نے مجھے کرم والا بندہ بنایا ہے اور مجھے سرکش متکبر نہیں بنایا۔‘‘پھر فرمایا :’’اس کے کناروں سے کھاؤ اور درمیان کو چھوڑ دو اس میں برکت دی جائے گی۔“

شرح حدیث

درمیان سے کھانے کی ممانعت:مذکورہ حدیث پاک میں بھی یہی مذکور ہے کہ جب کھانا کھایا جائے تو درمیان سے نہیں کھانا چاہیے بلکہ کناروں سے کھانا چاہیے کہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے اور پھر وہ اَطراف میں پھیل جاتی ہے، اگر درمیان سے کھایا جائے گا تو اس سے برکت اٹھالی جائے گی۔حدیث سے ماخوذ دیگر مسائل:*قَصْعَةیہ بڑا پیالہ تھا جیسا کہ آجکل بڑے کَڑھے یا کڑہائیاں ہوا کرتی ہیں۔ثَر یداس کھانے کوکہتے ہیں جوروٹی کے ٹکڑوں کو شوربے وغیرہ میں ملا کر بنایا جائے۔*اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب جگہ تنگ ہو تو دوزانو(گھٹنوں کے بل) بیٹھنا مستحب ہے۔مدنی گلدستہ’’یارب! کرم کر‘‘کے9حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(6) برتن کے درمیان میں سے کھانا بے برکتی کا سبب ہے۔
(7) برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے۔
(8) مسلمانوں کے کھانے کے وقت بھی رحمت باری کا نزول ہوتا ہے۔
(9) برتن کے بیچ میں سے کھانا حرص کی علامت ہے۔
(10) روٹی کو بھی ابتداءً وسط سے نہ کھایا جائے بلکہ اسے کناروں کی گولائی سے کھایا جائے۔
(11) برکت والی چیز کو باقی رکھا جائے اور اُسے زائل ہونے سے بچایا جائے۔
(12) ہر قسم کا کھانا درمیان سے نہ کھایا جائے چاہے شوربے والا ہویا بغیر شوربے کا۔
(13) برتن کا بھی کوئی نام رکھا جا سکتا ہےجبکہ خلافِ شرع نہ ہو۔
(14) سرکشی وتکبر اچھی چیز نہیں، بندگی وعاجزی ہی میں عظمت و بزرگی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 745