Main Icon

باب: سلام کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 857

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِيْ عَلَى الْقَاعِدِوَالقَلِيْلُ عَلَى الْكَثِيْرِ.وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِي:وَالصَّغِيْرُ عَلَى الْكَبِيْرِ .

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال:يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعدوالقليل على الكثير.وفي رواية للبخاري:والصغير على الكبير .

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’سوار پیدل کو،چلنے والا بیٹھے ہوئے کواورتھوڑے زیادہ کو سلام کریں۔‘‘بخاری کی روایت میں ہے کہ ”چھوٹا بڑے کوسلام کرے ۔ “

شرح حدیث

چھوٹے کا بڑے کو سلام کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ اَبُوالْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذی الْجَلَالفرماتے ہیں:حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سکھائےگئےآداب میں سے یہ بھی ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے،چونکہ چھوٹے پربڑے کا حق ہوتا ہے اِس لئےاُسے تعظیم وتوقیراورعاجزی کےاِظہار کا حکم دیا گیا ۔گزرنے والا بیٹھےہوئے کوسلام کرے کہ یہ کسی قوم پر داخل ہونے والے کی طرح ہے لہٰذا اسے سلام سے ابتدا کرنی چاہیے۔تھوڑے زیادہ کو سلام کریں کیونکہ کثیر کاحق زیادہ ہوتاہے۔حضرت سَیِّدُنَا آدمعَلَیْہِ السَّلَامجب فرشتوں کی جماعت کے پاس تشریف لائے توانہیں خودسلام کیا کیونکہ آپعَلَیْہِ السَّلَاماکیلے تھے اورفرشتوں کی پوری جماعت تھی۔سوار کو چاہیے کہ پیدل کو سلام کرے تاکہ اپنی سواری کی وجہ سے پیدل چلنے والے پرغروروتکبرمیں مبتلا نہ ہوجائے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے:جب کوئی شخص کسی جماعت سے ملاقات کے لئے جائےتو اس کا جماعت میں سے چندمخصوص اَفراد کو سلام کرنا مکروہ ہےکیونکہ سلام سے مقصودمحبت و اُلفت کااظہار ہوتاہے جبکہ یہ عمل باعثِ وَحشت ہے ۔سلام میں اِظہارِ عجزونیاز ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:جب سوار اور پیدل مسلمان ملیں تو سوار کو چاہیے کہ پیدل کو سلام کرے کیونکہ سوار پیدل سے اعلیٰ حالت میں ہے اور سلام میں اِظہار عجزونیازہے اس لیے وہ ہی اظہار نیازکرے جو بظاہر افضل ہومگر یہ افضلیت کا ذکر ہے، اس کے برعکس بھی جائز ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص کسی بیٹھے ہوئے کے پاس یا مجمع میں آئے یا ان کے پاس سے گزرے تو اہل مجمع اسے سلام نہ کریں بلکہ یہ آنے والا سلام کرے کہ ملاقات یہ کررہا ہے اورسلام ملاقات کرنے والے کے لیے ہے۔ جب دو طرفہ مسلمان آرہے ہوں اور دونوں یکساں حالت میں ہوں کہ یا دونوں سوار ہوں یا دونوں پیادہ ہوں تو قانون یہ ہے کہ تھوڑے آدمی بہت سوں کو سلام کریں تاکہ چھوٹی جماعت بڑی جماعت کا احترام کرے ممکن ہے کہ اس بڑی جماعت میںاللّٰہوالے زیادہ ہوں، بڑی جماعت کا بڑا احترام ہے۔مدنی گلدستہ’’جبلِ نور ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جو کسی سے ملاقات کے لئے جائے اسے ہی سلام میں پہل کرنی چاہیے کیونکہ یہ اسی کا حق ہے ۔
(2) سلام میں پہل کرنا عاجزی وانکساری اور تکبر سے بَری ہونے کی علامت ہے۔
(3) جو شخص تلاوت میں مشغول ہے یا درس و تدریس یا علمی گفتگو یا سبق کی تکرار میں مصروف ہے تو اس کو سلام نہ کیا جائے۔
(4) جسے اوروں پر کوئی ظاہری فضیلت حاصل ہو اسے عاجزی و انکساری کااظہار زیادہ کرنا چاہیےتاکہ غرور وتکبر سے حفاظت رہے ۔
(5) پوری جماعت میں سے چندمخصوص افراد کو سلام کرنا بقیہ کوچھوڑ دینا مکروہ ہے۔
(6) مسلمانوں کی جماعت جتنی زیادہ ہوگی ان کا ادب واحترام بھی اتنا ہی زیادہ بڑھ جائے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سلام میں پہل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور غرور وتکبر سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 857