Main Icon

باب: سلام کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 858

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ مُدَیِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاھِلِیْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اَ وْلَى النَّاسِ باللهِ مَنْ بَدَاَهُمْ بِالسَّلاَمِ.وَرَوَاهُ التِّرْمِذِي عَنْ اَبِيْ اُمَامَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قِيْلَ: يَارَسُوْلَ اللهِ! الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ اَ يُّهُمَا يَبْدَاُ بِالسَّلاَمِ ؟ قَالَ :اَوْلَاهُمَابِاللهِ تَعَالٰی.

عن ابي امامة مدی بن عجلان الباھلی رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ان ا ولى الناس بالله من بداهم بالسلام.ورواه الترمذي عن ابي امامة رضی اللہ عنہ قيل: يارسول الله! الرجلان يلتقيان ا يهما يبدا بالسلام ؟ قال :اولاهمابالله تعالی.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوامامہ مدی بن عجلان باہلیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”لوگوں میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےنزدیک زیادہ مُقَرَّب وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“حضرت سَیِّدُنا ابوامامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مروی ترمذی کی روایت میں ہے کہ ”بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دو آدمی جب ملاقات کریں تو ان میں کون سلام میں پہل کرے۔ ارشاد فرمایا:”وہ جو ان میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا زیادہ مُقَرَّب ہو۔“

شرح حدیث

بارگاہِ الٰہی میں زیادہ مُقَرَّب:فیض القدیرمیں ہے:”بےشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ومغفرت کامستحق اور اس کی جناب میں زیادہ مقرب وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے کیونکہ یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذکر کی طرف جلدی کرنے والا ہے ۔سلام مسلمانوں کی تحیت اور مُرسَلینعَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت ہے۔ ہرمسلمان کو چاہیے کہ بوقتِ ملاقات سلام میں پہل کر کے مذکورہ فضیلت پانے کی کوشش کرے۔‘‘محبت پیدا کرنے والی چیز:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:جب راستے میں دومسلمانوں کی ملاقات ہو تو سلام کرنا دونوں کا برابر حق ہوتا ہے، اب جو سلام کرنے میں سبقت لے جائے گا فضیلت پالے گا۔ اسی طرح جو کسی کے پاس ملاقات کے لئے جائے تو سلام کرنااسی کا حق ہے۔اگر یہ حق ادا کرے گا توفضیلت کا حق دار ہوگااور اگردوسرے نے پہل کر دی تووہ فضیلت پا جائے گا ۔امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے:تین چیزیں آپس میں محبت پیدا کرتی ہیں:(1)ملاقات کے وقت سلام میں پہل کرنا (2)کسی کواسکے پسندیدہ نا م سے پکارنااور (3)مجلس میں آنے والے کے لئے جگہ کشادہ کرنا۔زائرطیبہ کی خوش بختی:سرکارِابدِقرارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہمیشہ یہ عادت کریمہ رہی کہ سلام میں پہل فرماتے بلکہ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمدارج النبوۃمیں فرماتے ہیں:اب بھی جو خوش نصیب زائر روضَۂ رسول پرحاضر ہوتاہے تواس سےپہلےکہ وہ نبی مکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسلام عرض کرے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے پہلے ہی سلام فرماچکے ہوتے ہیں جیساکہ دُنیاوی زندگی میں سلام میں پہل کرنا آپ کی عادت شریف تھی۔
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت
ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہو ( ذوق نعت)
مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘ کے چار حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بروزِ قیامت
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ومغفرت کا زیادہ مستحق اور اس کی جناب میں زیادہ مُقَرَّب وہ ہوگا جو سلام میں پہل کرے ۔
(2) سلام مسلمانوں کی تحیت اور مُرسَلین
عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنت مبارکہ ہے۔
(3) سلام میں پہل کرنا محبت بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ہے ۔
(4) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجس طرح ظاہری حیاتِ طیبہ میں سلام میں پہل فرماتے اسی طرح آج بھی اپنے زائرین کو سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنتوں پر عمل اور اچھی نیتوں کے ساتھ سلام میں پہل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 858