Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 457

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الاَنْصَارِىِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَعَثَ اَبَا عُبَيْدَةَ ابْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اِلَى الْبَحْرَيْنِ يَاْتِي بِجِزْيَتِهَا ، فَقَدِمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِ اَبِيْ عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلاَةَ الفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْصَرفَ ، فَتَعَرَّضُوْا لَهُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ رَآهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : اَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ

اَنَّ اَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ؟ فَقَالُوْا : اَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَالَ : اَبْشِرُوْا وَاَمِّلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ ، فَوَاللهِ مَا الفَقْرَ اَخْشٰى عَلَيْكُمْ وَ لٰکِنِّیْ اَخْشٰى اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا ، فَتُهْلِكَكُمْ كَمَااَهْلَكَتْهُمْ. ( )

عن عمرو بن عوف الانصارى رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا عبيدة ابن الجراح رضي الله عنه الى البحرين ياتي بجزيتها ، فقدم بمال من البحرين ، فسمعت الانصار بقدوم ابي عبيدة فوافوا صلاة الفجر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف ، فتعرضوا له ، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين رآهم ، ثم قال : اظنكم سمعتم

ان ابا عبيدة قدم بشيء من البحرين؟ فقالوا : اجل يا رسول الله ، فقال : ابشروا واملوا ما يسركم ، فوالله ما الفقر اخشى عليكم و لکنی اخشى ان تبسط الدنيا عليكم كما بسطت علی من كان قبلكم ، فتنافسوها كما تنافسوها ، فتهلككم كمااهلكتهم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عَمرو بن عوف انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیدہ بن جَرّاحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، جب وہ بحرین سے ( جزیہ کا ) مال لے کر واپس آئے اورانصار نے ان کی آمدکی خبرسنی تو سب نے فجر کی نماز حضورنبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اداکی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوئے اور رُخِ انور پھیرا توانصار سامنے آگئے ، آپعَلَیْہِ السَّلَامانہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : ” میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابو عُبَیْدَہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) بحرین سے کچھ مال لے کر آیا ہے ؟“ انہوں نے عرض کی : ” جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! “آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ اور اُس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! مجھے تم پر فَقر ( غربت ) کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلائی گئی تھی ، پھر تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو ، اور وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کرے جیسے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا ۔ “

شرح حدیث

صحابہ کرام حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے نام سے لذت پاتے :حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ جب نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز فجر سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکودیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا : ” میرا خیال ہے کہ تم ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سن کر آئے ہو؟“ صحابہ نے عرض کی : ” جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !۔ “عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس مقام پر بہت نفیس شرح بیان کی ہے ، فرماتے ہیں : ” صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا جواب میں صرف ” جی ہاں“ کہہ دینابھی کافی تھا مگر انہوں نے لذت وسرور حاصل کرنے کے لیے جواب

میں
یارسولَ اللہبھی عرض کیا ۔ “ ( )
¥
حضور کی صحابہ پر شفقت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بارگاہ میں تنگدستی کی وجہ سے مال لینے کے لیے حاضر ہوئے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ان کی حاجت پوری کرتے ہوئے انہیں مال عطا فرمااورساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرما دیا کہ مجھے تم پر غربت کا خوف نہیں مگر اس بات کا خوف ہے کہ تم پر دنیا پھیلا دی جائے گی جیساکہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلا دی گئی تھی ۔عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ” ممکن ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بتا دیا گیا ہو کہ عنقریب مسلمانوں پر دنیا کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور وہ مالی طورپر غنی ہو جائیں گے اسی لیے آپ نے اس اندیشے کا اظہار فرمایا ۔ اور آپعَلَیْہِ السَّلَامکا کسی چیز کے واقع ہونے سے پہلے اس کی خبر دینا یہ ایسی صفت ہے جو علامات نبوت میں شمار ہوتی ہے ۔ نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ ارشاد انتہائی شفقت پر مبنی ہے ، کیونکہ شفیق باپ دنیا سے جاتے وقت اپنی اولاد کے لیے مال کا اہتمام کرتا ہے تاکہ اولاد کو تنگی نہ ہو اور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنے صحابہ پر شفقت کے معاملے میں باپ کی طرح ہیں لیکن آپ کا معاملہ دنیاوی باپ کے برعکس ہے کہ دنیاوی باپ تو اپنی اولاد کے دنیاوی طورپر غریب ہونے کے حوالے سے فکر مند ہوتا ہے جبکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی امت پر دینی نقصان کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ کہیں میری اُمت وُسعتِ مال کی وجہ سے فتنے میں نہ پڑ جائے ۔ “ ( )
¥
بادشاہت میں غربت :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” حضور انور کا یہ فرمان حضرات صحابہ کو ڈرانے اور احتیاط برتنے کے لیے ہے ۔اللہتعالیٰ نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کُفرو طُغیان سے محفوظ رکھا ، وہ حضرات بادشاہ و امیر ہوکر بھی دنیا میں پھنسے نہیں ۔ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس اپنی خلافت کے زمانہ میں ایک ہی کرتہ تھا جسے دھو دھو کر

پہنتے تھے ، حضرت ابوبکر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کفن کے لیے گھر میں کپڑا نہ تھا ، پہنے ہوئے کپڑے دھو کر انہیں میں آپ کو کفن کردیا گیا ، حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے زمانۂ خلافت میں فرمایا کہ میں اپنی تلوار فروخت کرنا چاہتا ہوں کہ آج گھر کا خرچ چلا سکوں ۔ وہ حضرات امیری میں فقیری کرگئے ۔ “ ( )
¥
مال کی کثرت اورمسلمانوں کی موجودہ حالت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیثِ مذکور میں مال کے فتنے کو بیان کیا گیا ہے ، واقعی مال کا فنتہ بہت بڑا فتنہ ہے ، مسلمانوں کے پاس جس قدر مال کی کثرت ہوئی اتنے ہی فتنے بھی بڑھ گئے ہیں ۔ آج اُمتِ مسلمہ قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے ، مگرہمارا سرمایہ ، مال و ولت ، طاقت و قوت اور صلاحیت دنیا کے حصول میں صرف ہورہا ہے ۔ عیش کوشیوں ، حرص ، طمع ، لالچ ، مال و دولت کی محبت ، عہدوں اور خواہشات نفس کی اتباع میں ایسا انہماک ہے کہ گویاآخرت کی یاد سے بالکل غافل ہو چکے ہیں ۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب مسلمان فاقے سے ہوا کرتے تھے اور کئی کئی دنوں تک پیٹ بھر کھانا میسر نہ آتا تھا ایسی حالت میں بھی کفار ان کے مقابل آنے کی جرأت نہ کرتے تھے ۔ جبکہ آج ہمیں ہر طرح کی نعمت میسر ہے پھر بھی ہر دوڑ میں پیچھے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے راہ ِ سنت کو چھوڑدیا ، اغیار کے فیشن میں ایسے مست ہوئے کہ سلف صالحین کی سیرت کو بھول گئے ، ہمارا سرمایہ و صلاحیت صرف حصولِ دنیا میں خرچ ہونے لگا ، کاش ! اے کاش ! ہم پھر سے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں ، نفس وشیطان کی راہ کو چھوڑ کر راہ سنت پر گامزن ہوجائیں ، ہمارا قیمتی سرمایہ مساجدو مدارس کی تعمیر ، غرباء و فقراء کی اِمداد اور دِینی مقاصد کے حصول میں صرف ہونے لگے تو کچھ بعید نہیں کہ ہمارا کھویا ہوا وقارہمیں واپس مل جائے اور پھر سے ہر طرف سنت کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمینمدنی گلدستہ
’’صحابہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت محبت کرتے تھے اور آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا نام مبارک لینے میں انہیں لذت محسوس ہوتی تھی ۔
(2) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکو بتا دیا گیا تھا کہ مسلمانوں پر مال و دولت کی فراوانی ہوگی ۔
(3) غیب کی خبریں دینا حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکی نبوت کی علامات میں سے ہے ۔
(4) نبی کریم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے صحابہ پر بہت شفقت فرماتے تھے اور اُن کے دِین کے حوالے سے بہت فکر مند رہا کرتے تھے ۔
(5)
اللہتعالیٰ نے حضور کے صحابہ کو دنیاوی ناجائز رغبت اور ہلاکت یعنی کُفرو طُغیان سے محفوظ رکھا ، وہ حضرات بادشاہ و امیر ہوکر بھی دنیا میں پھنسے نہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّمال و دولت کے فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 457