Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 487

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : یَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْاَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ. ( )

عن ابی ہريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : یدخل الفقراء الجنة قبل الاغنياء بخمس مائة عام. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖوَسَلَّمنے فرمایا : ” فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔ “

شرح حدیث

اغنیاء کو حساب کے لیے روک لی جائے گا :” فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے کیونکہ مالداروں کو اس مدت میں انہیں ملنے والی مختلف نعمتوں کے حساب کے لئے روک لیا جائے گاکہ یہ نعمتیں کس طرح حاصل کیں اور کہاں خرچ کیں ۔ “ ( )مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” جن امیروں کا قیامت میں حساب ہوگا ان امیروں سے پانچ سو سال پہلے فقیر لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے ۔ لہٰذا ان امیروں میں حضرتِ سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامیا حضرت عثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُداخل نہیں کہ ان کا حساب ہی نہیں پھر پیچھے ہونے کے کیا معنی ۔ ایک حدیث پاک میں چالیس سال پہلے کا ذکر تھا اور یہاں پانچ سو سال کا ذکر ہے کیونکہ فقراء بعضے امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے ، بعض سے پانچ سو سال پہلے ، جیسا امیر ویسا اس کا حساب اتنی ہی اس کے لیے دیر ۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہ دیر حساب کی وجہ سے نہ ہوگی رب تعالیٰ سارے عالم کا حساب بہت جلد لے گا یہ ان فقراء کی شان دکھانے کے لیے ہوگی کہ امیروں کو حساب کے نام پر روک لیا گیا اور فقیروں کو جنت کی طرف چلتا کردیا گیا ۔ “ ( )
¥
قیامت کا دن کتنا طویل ہوگا؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” صبر کرنے والے فقراء شکر کرنے والے مالداروں سے پانچ سو سال یعنی آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے کیونکہ آخرت کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر طویل ہوگا ۔ اور کفار کے لیے یہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، مگر یہی دن نیک لوگوں کے لیے ایک ساعت کے برابر ہوگا ۔ “ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص دنیا میں جس قدر زیادہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا آخرت میں

اسے حساب بھی اتنا ہی زیادہ دینا ہوگا اور اور ایسے شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت بھی تاخیر سے ملے گی ۔ نیز جو انسان دنیا میں جس قدر نعمتیں پاتا ہے موت کے وقت اسے ان کی جدائی کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ
حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” مرتے وقت جو بھی چیز تم پیچھے چھوڑو گے موت کے بعد تمہیں اس پر ضرور حسرت ہوگی ، اب تمہاری مرضی ہے کہ تم مال کی کثرت چاہو یا کمی اگر تم مال کی کثرت چاہوگے تو تمہاری حسرت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا اور اگر تم مال کی کمی چاہوگے تو تمہاری پیٹھ پر بوجھ بھی اتناہی ہلکا ہوگا ، وہ مالدار جو اُخروی زندگی کے مقابلے میں دنیاوی زندگی پسند کرتے ہیں ، اس پر خوش ہوتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں تو ان کی قبروں میں سانپ بچھو بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ “ ( ) منقول ہے کہ بندے کو جب بھی کوئی دُنیاوی چیز دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا : ” اسے تین چیزوں کے بدلے لے لو مصروفیت ، غم اور طویل حساب ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’فقراء ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
فقراء مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔
(2) فقراء ان مالداروں سے پہلے جنت میں جائیں گے جن سے حساب لیا جائے گا اور جن ہستیوں سے حساب ہی نہیں لیا جائے گا وہ اس حکم میں داخل نہیں ۔
(3) قیامت کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہے اور کفار پر یہ دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا جبکہ نیک لوگوں کے لیے یہی دن ایک ساعت جتنا ہوگا ۔
(4) جو دنیا میں جتنی نعمتیں پاتا ہے موت کے وقت اسے ان کے جدا ہونے کا غم بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔
(5) بندے کو جب بھی کوئی دنیاوی چیز دی جاتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اسے مصروفیت ، غم اور

طویل حساب کے بدلے میں لے لو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ایسی مالداری سے بچائے جو آخرت میں خسارے کا باعث ہو ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 487