Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 475

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِِ الْحَارِثِ اَخِىْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ اُمِّ المُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا اَمَةً ، وَلَا شَيْئًا اِلَّابَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِيْ كَانَ يَرْكَبُهَا ، وَسِلَاحَهُ ، وَاَرْضًا جَعَلَهَا لِاِبْنِِ السَّبِيْلِ صَدَقَةً. ( )

عن عمرو بن الحارث اخى جويرية بنت الحارث ام المؤمنين رضي الله عنهما ، قال : ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم عند موته دينارا ، ولا درهما ، ولا عبدا ، ولا امة ، ولا شيئا الابغلته البيضاء التي كان يركبها ، وسلاحه ، وارضا جعلها لابن السبيل صدقة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا جویریہ بنت حارث کے بھائی حضرت عَمرو بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی وفات کے وقت دینار چھوڑے نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی نہ کوئی اور چیز سوائے ایک سفید خچر کے جس پر آپعَلَیْہِ السَّلَامسواری فرمایاکرتے تھے اور سوائے ہتھیار اور زمین کے جسے آپ نے مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا ۔

شرح حدیث

انبیاء کا ترکہ صدقہ ہے :حدیثِ مذکور سے واضح ہوا کہ حضورِ اَقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بَوقتِ وصال کوئی مال و دولت نہیں

چھوڑا جس میں میراث جاری ہوتی کیونکہ جو کچھ آپ کے پاس آتا وہ حاجت مندوں میں تقسیم فرمادیتے تھے ۔ ارشادفرمایا : ”
لَا نُوْرَثُ مَاتَرَکْنَا صَدَقَۃٌیعنی ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گاہم نے جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حضورنے غلاموں کو آزادکردیا تھا :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” حضورِ اَنور کے جو لونڈی غلام تھے یا تو حضور کی حیات شریف میں وفات پا گئے تھے یا حضورِ انور نے انہیں آزاد فرمادیا تھا ، آپ نے کوئی غلام یا لونڈی نہ چھوڑی ۔ “ ( )
حدیث مذکور میں بیان ہوا کہ بوقتِ وِصال حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ملکیت میں تین چیزیں تھیں ۔ ( 1 ) خچر ( 2 ) ہتھیار ( 3 ) اور زمین ۔ چونکہ یہ بڑی چیزیں تھیں اس لئے صرف انہیں بیان کیا گیا ورنہ اان کے علاوہ بھی کچھ عام استعمال کی چیزیں آپ کی ملکیت میں تھیں ۔ بعض محدثین نے ان کی بھی تفصیل بیان فرمائی ہے ، چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس چھ ( 6 ) خچر تھے جن میں دُلْدُل ، فِضّہ ، اور ایلیہ شامل ہیں ۔ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے وِصال کے بعد جو خچر باقی رہا وہ دُلْدُل ہے ، جومقوقس شاہ اسکندریہ نے آپ کو تحفۃً دیا تھا ، یہ کافی عرصے تک زندہ رہا ، پہلے یہ حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس رہا ، ان کے بعد حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس رہا اور حضرت سَیِّدُنَا امیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانے میں اس کا انتقال ہوا ۔ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس ہتھیار بھی تھے ان ہتھیاروں میں دس ( ۱۰ ) تلواریں تھیں ان میں سے ذوالفقار مشہور ہے جو حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بدر کے دن حاصل ہوئی ، یہ تلوار حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی وفات سے قبل حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو عطا فرمادی تھی پھر ان سے یہ تلوار محمد بن حنفیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی طرف منتقل ہوئی اور ان سے محمد بنعبداللہبن حسن بن حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکی طرف منتقل ہوئی ، تلواروں کے علاوہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس پانچ نیزے بھی تھے ۔ “ ( ) حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مِلک میں چار زمینیں تھیں ۔ باغِ فَدَک کا نصف حصہ ، وادیٔ قریٰ کا تہائی ، خیبر کا پانچواں حصہ اور کچھ حصہ بنی نضیرکی زمین کا ، یہ تمام چیزیں وقف ہوگئیں تھیں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’سلام ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکے وصالِ ظاہری کے بعد کسی کو ان کا وارث نہیں بنایا جاتا بلکہ ان کا چھوڑا ہوا مال صدقہ ہے ۔
(2) حضورنبی کریم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے رب کی عطاسے زمین وآسمان کے تمام خزانوں کے مالک ہیں مگر آپ نے مال ودولت کے بجائے فقر کو پسند فرمایا اور اپنے متعلقین کوبھی اسی کی ترغیب دلائی ۔
(3) بوقتِ وصال حضور نبی کریم ، رؤف ورحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ملکیت میں عام استعمال ہونے والی اشیاء کے علاوہ ایک خچر ، کچھ ہتھیار اور زمین کے کچھ حصے تھے ۔
(4) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکی وفات کے بعد آپ کا جو خچر باقی رہا اس کا نام دُلْدُل تھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سچی پکی محبت نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 475