Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 466

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ كَانَ لِيْ مِثْلُ اُحُدٍ ذَهَبًا ، لَسَرَّنِيْ اَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ شَيْءٌ اِلَّا شَيْءٌ اُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه ، عن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم قال : لو كان لي مثل احد ذهبا ، لسرني ان لا تمر علي ثلاث ليال وعندي منه شيء الا شيء ارصده لدين. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اگر میرے پاس اُحد پہاڑجتنا سونا ہو تو میں پسند کروں گا کہ تین راتیں گزرنے سے پہلے پہلے میرے پاس اس میں سے کچھ بھی نہ ہو سوائے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھے ہوئے سونے کے ۔ “

شرح حدیث

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” مؤمن کو کثرت مال کی خواہش نہیں کرنی چاہیے ۔ ہاں نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں مال خرچ کرنے کے لیے مال کی خواہش کرنے میں حرج نہیں ۔ اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اَعمال میں سُستی کرنے کے بجائے جلدی کرنی چاہیے ، دیکھو ! حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اس بات کو پسند فرمایا کہ اُحد پہاڑ جتنا

سونا تین دن کے اندر خیرات کردیں ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامقرض لیا کرتے تھے کیونکہ آپ اپنے اور اپنے عیال کے لیے غذا کا اہتمام فرماتے ، حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے اور محتاجوں کے لئے ایثار فرماتے ، نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکم پر راضی رہتے ، تنگی پر صبر فرماتے اور یہی انبیاء و صالحین کی سیرت مبارکہ ہے ۔ “ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ” اس حدیث پاک میں بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا میں زُہد اختیار کرنے کے بہت بلند درجے پر فائز ہیں کہ آپ کو یہ پسند نہیں کہ دنیا کی کوئی چیز آپ کے پاس باقی رہے مگر یہ کہ آپ اسے مستحق افراد میں خرچ کردیں ۔ “ ( )
¥
مالدار قیامت میں مفلس ہوں گے :فرمایا کہ مالدار قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوائے اُن کے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں ۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” مالدار لوگوں کی نیکیاں قیامت کے دن کم ہوں گی یعنی مالداروں نے اگر اپنے مال کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں خرچ نہ کیا ہوگا تو یہ مال کی کثرت قیامت میں ان کے لیے نیکیوں میں کمی کا باعث ہوگی اور اگر مالدار نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں مال خرچ کیا تھا تو قیامت کے دن وہ نیکیوں میں بھی غنی ہوگا ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’قناعت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممستحق افراد پر صدقہ کرنے کو پسند فرماتے اور اس بات کو ناپسند فرماتے کہ دنیا کی کوئی زائد چیز آپ کے پاس رہے ۔

(2) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامقرض لے کر محتاجوں اور تنگدستوں کی امداد فرمایا کرتے تھے ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے قیامت کے دن مالدار لوگوں کی نیکیاں کم ہوں گی ، جو مالدار اپنا مالاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرے گا وہ قیامت کے دن غنی ہوگا ۔
(4) صدقہ وخیرات کرنے میں جلدی کرنی چاہئے ۔
(5) جس کے پاس مال موجود نہ ہو اور وہ نیت کرے کہ اگرمیں پاس مال ہوتا تو میں اسے راہِ خدا میں خرچ کرتا تو اسے اس اچھی نیت پر ثواب ملے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی راہ میں صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 466