Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 461

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ : اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ ، وَیَبْقٰی وَاحِدٌ ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ. ( )

عن انس رضي الله عنه عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : یتبع المیت ثلاثۃ : اہلہ ومالہ وعملہ ، فیرجع اثنان ، ویبقی واحد ، یرجع اہلہ ومالہ ویبقی عملہ. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، اس کے گھر والے ، اس کا مال اور اس کاعمل ، پس اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کا عمل اسکے ساتھ باقی رہتاہے ۔

شرح حدیث

قبر جنت کا باغ یا جہنم کا گڑھا :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ مال و دولت ، عزیز و اقارب ، دوست اَحباب کا

ساتھ صرف رہتی دنیا تک ہے ، موت آتے ہی سب کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے ، مرنے کے بعد کام آنے والی چیز صرف نیک اعمال ہیں جو ہمیشہ ساتھ رہیں گے ، اسی لیے انسان کو چاہیے کہ مال و دولت کی محبت دل سے نکال کر یادِ الٰہی
عَزَّ وَجَلَّسے اپنے دِل کو منور کرے اور کثرت سے نیک اَعمال کرنے میں مشغول ہو جائے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” میت کے ساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہے ، دو مُردے کو تنہا چھوڑ کر واپس اپنی جگہ آجاتی ہیں اور ایک چیز مُردے سے کبھی جدا نہیں ہوتی ۔ دو چیزیں جو میت کو چھوڑ کرواپس پلٹ جاتی ہیں اُن میں سے ایک میت کے گھر والے ہیں یعنی اُس کی اولاد ، عزیز و اَقارب ، دوست اَحباب اور جان پہچان والے لوگ جو اسے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور دوسری چیز اس کا مال ہے یعنی اس کے غلام ، کنیزیں ، چوپائے وغیرہ ۔ ایک چیز جو ہمیشہ مُردے کے ساتھ رہتی ہے وہ اس کا عمل ہے جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا اور قبر میں بھی اس کے ساتھ باقی رہتا ہے اور اسی عمل کے مطابق میت کو سزا و جزا دی جاتی ہے ۔ اگر اس کا عمل اچھا ہوتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے یعنی اسے قبر میں راحت و سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر اس کا عمل بُرا ہوتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قبر عمل کا صندوق ہے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔ “ ( )
¥
قبرسے اَعمال بندے کے ساتھ نکلیں گے :عَلَّامَہ اَبُوْ الفَرَجْ عَلِیْ بِنْ مُحَمَّدْ اِبْنِ جَوْزِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” جب انسان اپنی قبروں سے نکلیں گے تو اُن کے ساتھ قبروں سے وہ اَعمال بھی باہر آئیں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے کیونکہ ہر اِنسان کا عمل ہی قبر میں اُس کا ساتھی ہوتا ہے ۔ پھر اگر وہ بندہ اپنے ربّ کا فرماں بردار ، نیک اَعمال کرنے والا تھا اور نیک اَعمال دنیا میں اُسے اُنس پہنچاتے تھے تو حشر کے دن قبر سے نکلتے وقت بھی اُس آدمی کو اُنس پہنچائیں گے اور قیامت کی ہولناکیوں ، مصیبتوں اور سختی سے ہونے والی وحشت دور کریں گے ۔ جب بھی وہ بندۂ مؤمن جہنم کی طرف دیکھے گا اور اس کی سختیوں اور ہولناکیوں سے خوفزدہ ہوگا تو اُس کا عمل اُس سے کہے گا کہ اے میرے دوست ! یہ مصیبتیں نہ تیرے لیے ہیں اور نہ ان لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نےاللہعَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی بلکہ یہ سختیاں تو اُن کے لیے ہیں جنہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ، پھر اُس کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور تو تو اپنے رب کا اِطاعت گزار بندہ تھا ، خواہشات نفس کو ترک کرکے اپنے نبی کی اِتباع کرنے والا تھا ۔ آج کے دن تجھ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم یہاں تک کہ تو جنت میں داخل ہو جا ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ” بیان کیا گیا ہے کہ جب گناہ گار شخص اپنی قبر سے نکلے گا تو اپنے بُرے اَعمال کو ایک گٹھڑی کی صورت میں پائے گا اور عذاب کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھی اُس کے پاس کھڑا ہوگا ۔ جب بندہ اپنے گناہوں کی طرف دیکھے گا تو فرشتہ اُس سے کہے گا : ” اےاللہکے دُشمن اپنے اَعمال اٹھا اور انہیں اپنی پیٹھ پر رکھ جیساکہ تو اُن سے دنیا میں لذت حاصل کیا کرتا تھا اور اپنے ربّ کے اَحکامات پر عمل نہیں کرتا تھا حالانکہ تو یہ جانتا تھا کہ وہ تیرے عمل پر مطلع ہے اور تجھے دیکھ رہا ہے ۔ “ جب وہ ذلیل شخص اُس گٹھڑی کو اُٹھا کر اپنی پیٹھ پر رکھے گا تو اُس کا بوجھ دنیا کے پہاڑوں سے زیادہ محسوس کرے گا اور آگ اُسے اس کے ٹھکانے کی طرف ہانک رہی ہوگی اور فرشتہ اُس پر سختی کرے گا اور اسے ہانکتا ہوا جہنم کی طرف لے جائے گا ۔ “ ( )
نوٹ : اس حدیث کی تفصیلی شرح کیلئے ” فیضان ریاض الصالحین“ جلد 2 کی حدیث نمبر104 کا مطالعہ کیجئے ۔
مدنی گلدستہ
” اسلام“کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
اَعمال ہمیشہ بندے کے ساتھ رہیں گے اور سب چیزیں ساتھ چھوڑ جائیں گی ۔
(2) نیک عمل قبر میں نیک مرد کی صورت میں اور بُرا عمل بُری شکل میں آتا ہے ۔
(3) نیک اَعمال بندے سے قبر و حشر کی وَحشت دور کریں گے ۔
(4) نیک اعمال کے سبب بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا برے اعمال کے سبب جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔
(5) قیامت کے دن گناہ گار کی پیٹھ پر اُس کے گناہوں کا بوجھ لاد کر اُسے جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مال و دولت کی ناجائز محبت سے ہماری حفاظت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 461