- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- زھد و فقر کی فضیلت
- حدیث نمبر 461
زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 461
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ : اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ ، وَیَبْقٰی وَاحِدٌ ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ. ( )
عن انس رضي الله عنه عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : یتبع المیت ثلاثۃ : اہلہ ومالہ وعملہ ، فیرجع اثنان ، ویبقی واحد ، یرجع اہلہ ومالہ ویبقی عملہ. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، اس کے گھر والے ، اس کا مال اور اس کاعمل ، پس اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کا عمل اسکے ساتھ باقی رہتاہے ۔
شرح حدیث
قبر جنت کا باغ یا جہنم کا گڑھا :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ مال و دولت ، عزیز و اقارب ، دوست اَحباب کا
ساتھ صرف رہتی دنیا تک ہے ، موت آتے ہی سب کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے ، مرنے کے بعد کام آنے والی چیز صرف نیک اعمال ہیں جو ہمیشہ ساتھ رہیں گے ، اسی لیے انسان کو چاہیے کہ مال و دولت کی محبت دل سے نکال کر یادِ الٰہیعَزَّ وَجَلَّسے اپنے دِل کو منور کرے اور کثرت سے نیک اَعمال کرنے میں مشغول ہو جائے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” میت کے ساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہے ، دو مُردے کو تنہا چھوڑ کر واپس اپنی جگہ آجاتی ہیں اور ایک چیز مُردے سے کبھی جدا نہیں ہوتی ۔ دو چیزیں جو میت کو چھوڑ کرواپس پلٹ جاتی ہیں اُن میں سے ایک میت کے گھر والے ہیں یعنی اُس کی اولاد ، عزیز و اَقارب ، دوست اَحباب اور جان پہچان والے لوگ جو اسے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اور دوسری چیز اس کا مال ہے یعنی اس کے غلام ، کنیزیں ، چوپائے وغیرہ ۔ ایک چیز جو ہمیشہ مُردے کے ساتھ رہتی ہے وہ اس کا عمل ہے جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتا اور قبر میں بھی اس کے ساتھ باقی رہتا ہے اور اسی عمل کے مطابق میت کو سزا و جزا دی جاتی ہے ۔ اگر اس کا عمل اچھا ہوتا ہے تو اسے ثواب ملتا ہے یعنی اسے قبر میں راحت و سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر اس کا عمل بُرا ہوتا ہے تو اسے سزا دی جاتی ہے ۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قبر عمل کا صندوق ہے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔ “ ( )
¥قبرسے اَعمال بندے کے ساتھ نکلیں گے :عَلَّامَہ اَبُوْ الفَرَجْ عَلِیْ بِنْ مُحَمَّدْ اِبْنِ جَوْزِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” جب انسان اپنی قبروں سے نکلیں گے تو اُن کے ساتھ قبروں سے وہ اَعمال بھی باہر آئیں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے کیونکہ ہر اِنسان کا عمل ہی قبر میں اُس کا ساتھی ہوتا ہے ۔ پھر اگر وہ بندہ اپنے ربّ کا فرماں بردار ، نیک اَعمال کرنے والا تھا اور نیک اَعمال دنیا میں اُسے اُنس پہنچاتے تھے تو حشر کے دن قبر سے نکلتے وقت بھی اُس آدمی کو اُنس پہنچائیں گے اور قیامت کی ہولناکیوں ، مصیبتوں اور سختی سے ہونے والی وحشت دور کریں گے ۔ جب بھی وہ بندۂ مؤمن جہنم کی طرف دیکھے گا اور اس کی سختیوں اور ہولناکیوں سے خوفزدہ ہوگا تو اُس کا عمل اُس سے کہے گا کہ اے میرے دوست ! یہ مصیبتیں نہ تیرے لیے ہیں اور نہ ان لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نےاللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کی بلکہ یہ سختیاں تو اُن کے لیے ہیں جنہوں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی ، پھر اُس کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اپنی خواہشات کی پیروی کی اور تو تو اپنے رب کا اِطاعت گزار بندہ تھا ، خواہشات نفس کو ترک کرکے اپنے نبی کی اِتباع کرنے والا تھا ۔ آج کے دن تجھ پر کوئی خوف ہے نہ کوئی غم یہاں تک کہ تو جنت میں داخل ہو جا ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ” بیان کیا گیا ہے کہ جب گناہ گار شخص اپنی قبر سے نکلے گا تو اپنے بُرے اَعمال کو ایک گٹھڑی کی صورت میں پائے گا اور عذاب کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھی اُس کے پاس کھڑا ہوگا ۔ جب بندہ اپنے گناہوں کی طرف دیکھے گا تو فرشتہ اُس سے کہے گا : ” اےاللہکے دُشمن اپنے اَعمال اٹھا اور انہیں اپنی پیٹھ پر رکھ جیساکہ تو اُن سے دنیا میں لذت حاصل کیا کرتا تھا اور اپنے ربّ کے اَحکامات پر عمل نہیں کرتا تھا حالانکہ تو یہ جانتا تھا کہ وہ تیرے عمل پر مطلع ہے اور تجھے دیکھ رہا ہے ۔ “ جب وہ ذلیل شخص اُس گٹھڑی کو اُٹھا کر اپنی پیٹھ پر رکھے گا تو اُس کا بوجھ دنیا کے پہاڑوں سے زیادہ محسوس کرے گا اور آگ اُسے اس کے ٹھکانے کی طرف ہانک رہی ہوگی اور فرشتہ اُس پر سختی کرے گا اور اسے ہانکتا ہوا جہنم کی طرف لے جائے گا ۔ “ ( )
نوٹ : اس حدیث کی تفصیلی شرح کیلئے ” فیضان ریاض الصالحین“ جلد 2 کی حدیث نمبر104 کا مطالعہ کیجئے ۔مدنی گلدستہ
” اسلام“کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)اَعمال ہمیشہ بندے کے ساتھ رہیں گے اور سب چیزیں ساتھ چھوڑ جائیں گی ۔
(2) نیک عمل قبر میں نیک مرد کی صورت میں اور بُرا عمل بُری شکل میں آتا ہے ۔
(3) نیک اَعمال بندے سے قبر و حشر کی وَحشت دور کریں گے ۔
(4) نیک اعمال کے سبب بندے کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے یا برے اعمال کے سبب جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔
(5) قیامت کے دن گناہ گار کی پیٹھ پر اُس کے گناہوں کا بوجھ لاد کر اُسے جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مال و دولت کی ناجائز محبت سے ہماری حفاظت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 461