Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 478

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : اَلَا اِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُوْنَةٌ مَلْعُوْنٌ مَا فِيْهَا اِلَّا ذِكْرَ اللَّهِ تَعَاليَ وَمَا وَالَاهُ وَعَالِمًا وَ مُتَعَلِّمًا. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : الا ان الدنيا ملعونة ملعون ما فيها الا ذكر الله تعالي وما والاه وعالما و متعلما. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” سنو ! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر ، اس کی محبوب اَشیا ء ، عالِم اور طالبِ عِلم کے ۔ “

شرح حدیث

دنیا سے کیا مراد ہے ؟مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّتحضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” جو چیزاللہورسول سے غافل کردے وہ دنیاہے ، یا جواللہورسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے ۔ بال بچوں کی پرورش ، غذا ، لباس ، گھر وغیرہ ( شریعت کی نافرمانی سے بچتے ہوئے ) حاصل کرنا سنّتِ اَنبیاءِکرام ہے یہ دنیا نہیں ۔ “ ( )
¥
ذکرِالہٰی کی اہمیت :حدیثِ مذکورمیں جن چار چیزوں کے علاوہ دنیا کی ہر شئے کو ملعون کہا گیا ہے ، اُن میں سب سے پہلی شئےذِکراللہہے ۔ ” حدیث پاک میں ہے : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر ہر عبادت و سعادت کی اصل ہے بلکہ جس طرح بدن کے لیے جان اور انسان کے لیے روح ضروری ہے ایسے ہی مومن کے لیےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر ضروری ہے ۔ دنیا کی بقاء اور آسمان و زمین کا قیاماللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذِکر ہی سے ہے ۔ حدیث پاک میں ہے :

” جب تک
اللہ اللہکہنے والا ایک شخص بھی باقی ہے اُس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ۔ “ ( )
¥
اللہعَزَّ وَجَلَّکی محبوب چیزیں :حدیث پاک میں بیان ہوا کہ وہ چیزیں جواللہ عَزَّ وَجَلَّکو محبوب ہیں وہ ملعون نہیں ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبوب چیزوں سے مراد ، نیک کام اور وہ افعال ہیں جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے قرب کا ذریعہ بنیں ۔ یا وہ چیزیں جوذکراللہکی مانند ہوں یعنی ذکرِ خیر اوراللہ عَزَّ وَجَلَّنے جن اعمال کا حکم دیا ہے وہ بجالانا اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے باز رہنا ۔ “ ( )
¥
عالِم اور طالبِ علم کی شان” حدیث پاک میں جن چار چیزوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ ملعون نہیں ، ان میں عالِم اور طالبِ عِلم ہے ۔ ویسے تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبوب چیزوں میں یہ بھی شامل ہیں مگرفضلیت کے پیشِ نظر انہیں بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ یہاں عالِم اور طالبِ علم سے مراد وہ ہیں جو اپنے علم پر عمل بھی کرتے ہوں ۔ لہٰذاجاہل ، بے عمل عالم اورصرف دنیوی علوم جاننے والااس فضیلت کا حق دار نہیں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’یارِغار ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
دنیا اور اس کی ہر وہ چیز جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غفلت کا سبب بنے وہ قابل مذمت ہے ۔
(2) اولاد کی پرورش ، غذا ، لباس ، گھر وغیرہ کے لئے کمانا دنیا نہیں بلکہ دِین کا حصہ ہے ۔
(3) مومن دنیاکو زادِراہ سمجھتا ہے ، منافق اسے زینت سمجھتا ہے اور کافر اُس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذِکر ہر عبادت و سعادت کی اصل ہے ۔

(5) جو چیز
اللہورسول سے غافل کردے وہ دنیاہے ، یا جواللہو رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے ۔
(6) جب تک دنیا میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرنے والاایک شخص بھی موجود ہے قیامت قائم نہ ہوگی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے ، علمِ نافع اور عمل صالح کی دولت سے مالا مال فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 478