Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 480

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : مَرَّ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : مَا هَذَا؟ فَقُلْنَا : قَدْ وَهٰی ، فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ ، فَقَالَ : مَا اَرَی الْاَمْرَ اِلَّا اَعْجَلَ مِنْ ذٰلِكَ. ( )

عن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : مر علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نعالج خصا لنا ، فقال : ما هذا؟ فقلنا : قد وهی ، فنحن نصلحه ، فقال : ما اری الامر الا اعجل من ذلك. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عَمرو بن عَاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس سے گزرے ، ہم اپنی جھونپڑی درست کررہے تھے ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : یہ کمزور ہو گئی ہے اس لیے ہم اسے ٹھیک کررہے ہیں ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” میں موت کو اس سے بھی زیادہ جلدی دیکھ رہا ہوں ۔ “

شرح حدیث

گھربنانے سے پہلے موت کی تیاری کرو :حدیث مذکورمیں اِس بات کا بیان ہے کہ ” موت بہت جلد آنے والی ہے ۔ “ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ مکانات کی بے جا تعمیر و تزیین میں وقت ضائع کرنے کے بجائے موت کی تیاری میں مشغول رہے ۔ حدیث مذکور میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشاد فرمایا کہ ” میں موت کو اِس گھر سے بہت جلدی دیکھ رہا ہوں“ مطلب یہ کہ تم گھر کی مرمت میں اپنا وقت صرف کررہے ہو یہ سوچ کر کہ کہیں ہمارے مرنے سے پہلے یہ گھر

منہدم نہ ہو جائے جبکہ بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو گھر کے منہدم ہونے سے پہلے ہی موت آجاتی ہے ، لہٰذا انسان کے لیے گھر کی مرمت سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنے اَعمال کی اِصلاح کرے اور فانی دنیا کو ترک کرکے آخرت کی تیاری میں مصروف عمل رہے کہ موت کسی بھی وقت اُسے اپنی گرفت میں لے سکتی ہے ۔
عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ میں موت کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہاہوں کہ انسان اپنے لیے عمارت بنائے اور اُسے ضرورت سے زیادہ پختہ کرے ، حضرت سَیِّدُنَا نوحعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بانس کی لکڑی سے گھر تعمیر کیا ، آپ سے عرض کی گئی کہ آپ نے اپنے لیے پختہ عمارت کیوں نہ بنائی؟ فرمایا : ” جسے مرنا ہے اُس کے لیے یہی بہت ہے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَاسلیمانعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے عرض کی گئی کہ آپ اپنے لیے گھر کیوں نہیں بناتے ؟ فرمایا : ” غلام کے لیے گھر بنانے کا کیا فائدہ ( کیونکہ غلام کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا ) پس جب وہ آزا کیا جائے گا ( یعنی مر جائے گا ) تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم اس کے لیے ( جنت میں ) ایسا محل ہے جو کبھی فنا نہیں ہوگا ( تو اسے اس محل کے لیے کوشش کرنی چاہیے ) ۔ “ ( )
¥
ہم دنیامیں مسافرکی طرح ہیں :اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” ہم اس دنیا میں مسافر یا اس سوار کی طرح ہیں جو درخت کے سائے میں ٹھہر کر تھوڑی دیر کے لیے آرام کرتا ہے لہٰذا تیرے عمارت بنانے میں مشغول ہونے سے بہتر یہ ہے کہ تو تیز چل کر اپنا سفر طے کر ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’مُرتَضٰی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
انسان یہ سوچ کر گھر کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے مرنے سے پہلے گھر منہدم نہ

ہو جائے لیکن اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گھر منہدم ہونے سے پہلے موت آجاتی ہے لہٰذا گھر بنانے سے زیادہ اہم اَعمال کی اصلاح کرنا ہے تاکہ آخرت کا گھر سنور جائے ۔
(2) ہم اس دنیا میں مسافر کی طرح ہیں اس لیے بے جا مضبوط گھر وں کی تعمیر میں مصروف ہونے کے بجائے اپنے سفر پر دھیان دینا چاہیے ۔
(3) عقلمند دنیا میں اَعمالِ صالحہ کے ذریعے کاشت کاری کرتا ہے اور آخرت میں اس کاشت کاری کا نفع حاصل کرے گا ۔
(4) حدیث پاک میں ہے : ”
اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْاٰخِرَۃِ“ یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔
(5) کوئی بھی کا م کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ اس میں آخرت کا نقصان تو نہیں اگر وہ کام آخرت کے لئے نقصان دہ ہو تو اس سے باز رہنے ہی میں دنیا وآخرت کی بھلائی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا کی بے جا مصروفیت سے بچائے اور آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 480