Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 458

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ : اِ نَّ مِمَّا اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِيْ ، مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَ ةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا. ( )

عن ابي سعيدن الخدري رضي الله عنه قال جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر ، وجلسنا حوله ، فقال : ا ن مما اخاف عليكم من بعدي ، ما يفتح عليكم من زهر ة الدنيا وزينتها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر اقدس پر جلوہ افروز تھے اور ہم آپ کے ارد گردحاضر تھے ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” بے شک ! مجھے تم پر اپنے بعد جن چیزوں کا ڈر ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ تم پر دنیا کی زیب و زینت کا دروازہ کھول دیا جائے گا ۔ “

شرح حدیث

غربت میں یادِخُدا ، وُسعت میں غفلت :حدیثِ مذکور میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اِس خدشے کا اظہار فرمایا ہے کہ میری وفات کے بعد تمہارے

لیے دنیا کی زیب و زینت اور مال و متاع ظاہر کیا جائے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم دنیا کے اس ظاہری حسن کے فریب میں پھنس جاؤ ۔ ٭
مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ارشاد کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” یعنی میری وفات کے بعد تم پر دنیا کی دولت ، فتوحات ، عزت و جاہ کے دروازے کُھل جائیں گے اُن کا مجھے خطرہ ہے کہ تم اُن میں پھنس کراللہتعالیٰ سے غافل نہ ہوجاؤ ، غریبی میں خدا یاد رہتاہے اور امیری میں بھول جاتا ہے ۔ “ ( ) ٭عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامکااپنی امت کے معاملے میں اندیشے کا اظہار کرنا اس وجہ سے تھا کہ کہیں دنیا کی محبت ان کے دل میں نہ بیٹھ جائے اور دنیا کی خوبصورتی نگاہ کو اپنی طرف کھینچ نہ لے اور پھر وہ ان اسباب میں مبتلا ہو جائیں جو دین میں بگاڑ کی طرف لے جانے والے ہوں ۔ “ ( ) ٭عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے ارشاد کا معنی یہ ہے کہ میں تم پر اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ ملکوں اور شہروں کو فتح کرنے کی وجہ سے تمہارے مال میں جو کثرت ہوگی کہں وہ تمہیں اعمالِ صالحہ سے نہ روک دے اور تمہیں علوم نافعہ ( یعنی قرآن و حدیث اور فقہ کے علم ) سے غافل نہ کردے اور تمہارے اندر تکبر ، خود پسندی ، غرور ، مال و جاہ کی محبت جیسے اخلاق مذمومہ پیدا نہ کردے کہ جس کی وجہ سے تم موت اور آخرت کے احوال کی تیاری سے غافل ہو جاؤ ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’مدينه ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
کثرت مال کی وجہ سے عموماً بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل ہو جاتا ہے ۔
(2) غربت و پریشانی میں انسان کو خدا یاد رہتا ہے لیکن مالداری و خوشحالی میں عموماً انسان خدا کو بھول جاتا ہے ۔

(3) دنیا کی محبت انسان کو دینی علوم سے دُور کردیتی ہے ۔
(4) مال و دولت کی محبت انسان میں غرور و تکبر جیسی برائیاں پیدا کردیتی ہے ۔
(5) دنیا کی محبت میں بندہ موت اور آخرت کی تیاری سے غافل ہو جاتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا کی محبت سے محفوظ فرمائے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 458