Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 462

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : یُؤْتَى بِاَنْعَمِ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ اَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِاَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا ، مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ مَامَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ ، وَلَا رَاَيْتُ شِدَّةً قَطُّ. ( )

عن انس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : یؤتى بانعم اهل الدنيا من اهل النار يوم القيامة ، فيصبغ في النار صبغة ، ثم يقال : يا ابن آدم هل رايت خيرا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول : لا ، والله يا رب ويؤتى باشد الناس بؤسا في الدنيا ، من اهل الجنة ، فيصبغ صبغة في الجنة ، فيقال له : يا ابن آدم هل رايت بؤسا قط؟ هل مر بك شدة قط؟ فيقول : لا ، والله يا رب مامر بی بؤس قط ، ولا رايت شدة قط. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا کہ جو دنیا میں ناز و نعمت والوں میں سے تھا اور اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا کبھی تونے کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی تھی؟ ‘‘ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے رب ۔ “ اور ( قیامت کے دن ) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سخت تنگ دست تھا ، اُسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے ربّ ! مجھ پر کبھی تنگ دستی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ہے ۔ “

شرح حدیث

جہنم کا ایک غوطہ دنیا کاعیش بُھلا دے گا :حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ قیامت کے دن جہنمیوں میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں

مال و دولت کی بڑی وسعت تھی اور اسے جہنم میں غوطہ دیا جائے گا ۔ ٭
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے یہاں ایسے مالدار کا ذکر فرمایا ہے جو جہنمی ہو جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان اور نیک اعمال کرنے والے مالدار کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا ۔ نیز گناہ گار کو جہنم میں غوطہ دینے کا معاملہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہونے کے بعد ہوگا یعنی جب لوگوں کے جنت اور جہنم میں جانے سے متعلق فیصلہ ہوچکا ہوگا اس وقت یہ معاملہ ہوگا ۔ جب اس شخص کو دوزخ میں غوطہ دے کر نکالا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تونے دنیا میں کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ اور کیا تونے دنیا میں کوئی نعمت پائی تھی؟ تو وہ کہے گا :اللہکی قسم ! نہیں ، اس شخص کا یہ کلام جھوٹ پر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ وہ عذاب کی شدت کی وجہ سے دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کو بھول جائے گا اور ان کا انکار کردے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے مزے کو ایک طرف رکھا جائے اور جہنم میں غوطہ دینے کی تکلیف کو ایک طرف رکھا جائے تو دنیا میں ملنے والی نعمتوں کا مزہ اس ایک غوطے کی تکلیف کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اسی وجہ سے وہ دنیاوی نعمتوں کو ایسے گمان کرے گا گویا وہ تھیں ہی نہیں ۔ “ ( ) ٭مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” پتہ لگا کہ دنیا کے عمر بھر کے عیش و آرام وہاں کے منٹ بھر کے ایک غوطہ پر بھول جائیں گے وہ تو بڑی سخت جگہ ہے دنیا میں کوئی خاص مصیبت پڑے تو سارے عیش فراموش ہوجاتے ہیں ۔ “ ( )
¥
جنت کی نہروں میں غوطہ :پھرایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں بہت تنگی تھی اور اُسے جنت میں غوطہ دیا جائے گا ۔٭عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” یہ غوطہ یا تو جنت کی نہروں میں دیا جائے گا یا حوضِ کوثر میں دیا جائے گا ۔ “ ) ٭مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِرَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہ وہاں کے عیش کی ایک جھلک وہاں کی ہوا کا ایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ، انسان کو چاہیے کہ اس طرف دل لگائے ۔ خیال رہے کہ یہ عرض معروض جھوٹ نہ ہوگی بلکہ واقعی وہ شخص ان مصیبتوں کو بھول ہی جاوے گا اس بنا پر یہ کہے گا ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے دنیا میں جو مصیبتیں دیکھیں وہ درحقیقت مصیبتیں ہی نہ تھیں کیونکہ ان کا انجام یہ نعمتیں تھیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ ان مصیبتوں کو بھول ہی گیا ان نعمتوں کی خوشی میں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’اجمیر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کی لذت جہنم کے ایک غوطے کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جہنم میں ایک غوطہ دنیا کی تمام نعمتوں کے مزے کو مٹادے گا
(2) دنیا کی تکالیف جنت میں ایک غوطے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ، جنت کے عیش کی ایک جھلک ، وہاں کی ہواکاایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ۔
(3) مصیبت زدہ جنتی مسلمان جنت کی نہر یا آب کو ثر میں غوطہ دیا جائے گا ۔
(4) عقلمند وہ ہے جو عارضی خوشیوں اور آسائشوں کی خاطردائمی عیش و آرام کو داؤ پر نہ لگائے بلکہ جو چیز اُخروی دائمی نعمتوں کے حصول میں آڑے آئے اسے ترک کر دے ۔
(5) مصائب میں گھرے ہوئے مسلمان کو یہ ذہن بنانا چاہئے کہ یہ دنیاوی مصائب بہت جلد ختم ہوجائیں گے پھر رحمتِ باری تعالیٰ شامل حال رہی تو جنت کی دائمی نعمتیں مقدر ہونگیں جن کی ایک جھلک دنیا کے تمام غم بھلا دے گی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا میں عافیت عطا فرمائے اور آخرت میں جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 462