- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- زھد و فقر کی فضیلت
- حدیث نمبر 462
زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 462
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : یُؤْتَى بِاَنْعَمِ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ اَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِاَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا ، مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ مَامَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ ، وَلَا رَاَيْتُ شِدَّةً قَطُّ. ( )
عن انس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : یؤتى بانعم اهل الدنيا من اهل النار يوم القيامة ، فيصبغ في النار صبغة ، ثم يقال : يا ابن آدم هل رايت خيرا قط؟ هل مر بك نعيم قط؟ فيقول : لا ، والله يا رب ويؤتى باشد الناس بؤسا في الدنيا ، من اهل الجنة ، فيصبغ صبغة في الجنة ، فيقال له : يا ابن آدم هل رايت بؤسا قط؟ هل مر بك شدة قط؟ فيقول : لا ، والله يا رب مامر بی بؤس قط ، ولا رايت شدة قط. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا کہ جو دنیا میں ناز و نعمت والوں میں سے تھا اور اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا کبھی تونے کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی تھی؟ ‘‘ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے رب ۔ “ اور ( قیامت کے دن ) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سخت تنگ دست تھا ، اُسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے ربّ ! مجھ پر کبھی تنگ دستی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ہے ۔ “
شرح حدیث
جہنم کا ایک غوطہ دنیا کاعیش بُھلا دے گا :حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ قیامت کے دن جہنمیوں میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں
مال و دولت کی بڑی وسعت تھی اور اسے جہنم میں غوطہ دیا جائے گا ۔ ٭عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے یہاں ایسے مالدار کا ذکر فرمایا ہے جو جہنمی ہو جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل ایمان اور نیک اعمال کرنے والے مالدار کے ساتھ ایسا نہیں کیا جائے گا ۔ نیز گناہ گار کو جہنم میں غوطہ دینے کا معاملہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہونے کے بعد ہوگا یعنی جب لوگوں کے جنت اور جہنم میں جانے سے متعلق فیصلہ ہوچکا ہوگا اس وقت یہ معاملہ ہوگا ۔ جب اس شخص کو دوزخ میں غوطہ دے کر نکالا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تونے دنیا میں کبھی کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ اور کیا تونے دنیا میں کوئی نعمت پائی تھی؟ تو وہ کہے گا :اللہکی قسم ! نہیں ، اس شخص کا یہ کلام جھوٹ پر مشتمل نہیں ہوگا بلکہ وہ عذاب کی شدت کی وجہ سے دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کو بھول جائے گا اور ان کا انکار کردے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کے مزے کو ایک طرف رکھا جائے اور جہنم میں غوطہ دینے کی تکلیف کو ایک طرف رکھا جائے تو دنیا میں ملنے والی نعمتوں کا مزہ اس ایک غوطے کی تکلیف کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اسی وجہ سے وہ دنیاوی نعمتوں کو ایسے گمان کرے گا گویا وہ تھیں ہی نہیں ۔ “ ( ) ٭مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” پتہ لگا کہ دنیا کے عمر بھر کے عیش و آرام وہاں کے منٹ بھر کے ایک غوطہ پر بھول جائیں گے وہ تو بڑی سخت جگہ ہے دنیا میں کوئی خاص مصیبت پڑے تو سارے عیش فراموش ہوجاتے ہیں ۔ “ ( )
¥جنت کی نہروں میں غوطہ :پھرایک ایسے جنتی کو لایا جائے گا جس پر دنیا میں بہت تنگی تھی اور اُسے جنت میں غوطہ دیا جائے گا ۔٭عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” یہ غوطہ یا تو جنت کی نہروں میں دیا جائے گا یا حوضِ کوثر میں دیا جائے گا ۔ “ ) ٭مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہ وہاں کے عیش کی ایک جھلک وہاں کی ہوا کا ایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ، انسان کو چاہیے کہ اس طرف دل لگائے ۔ خیال رہے کہ یہ عرض معروض جھوٹ نہ ہوگی بلکہ واقعی وہ شخص ان مصیبتوں کو بھول ہی جاوے گا اس بنا پر یہ کہے گا ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے دنیا میں جو مصیبتیں دیکھیں وہ درحقیقت مصیبتیں ہی نہ تھیں کیونکہ ان کا انجام یہ نعمتیں تھیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ ان مصیبتوں کو بھول ہی گیا ان نعمتوں کی خوشی میں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’اجمیر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتوں کی لذت جہنم کے ایک غوطے کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جہنم میں ایک غوطہ دنیا کی تمام نعمتوں کے مزے کو مٹادے گا
(2) دنیا کی تکالیف جنت میں ایک غوطے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ، جنت کے عیش کی ایک جھلک ، وہاں کی ہواکاایک جھونکا عمر بھر کے دنیاوی غموں تکلیفوں کو بھلا دے گا ۔
(3) مصیبت زدہ جنتی مسلمان جنت کی نہر یا آب کو ثر میں غوطہ دیا جائے گا ۔
(4) عقلمند وہ ہے جو عارضی خوشیوں اور آسائشوں کی خاطردائمی عیش و آرام کو داؤ پر نہ لگائے بلکہ جو چیز اُخروی دائمی نعمتوں کے حصول میں آڑے آئے اسے ترک کر دے ۔
(5) مصائب میں گھرے ہوئے مسلمان کو یہ ذہن بنانا چاہئے کہ یہ دنیاوی مصائب بہت جلد ختم ہوجائیں گے پھر رحمتِ باری تعالیٰ شامل حال رہی تو جنت کی دائمی نعمتیں مقدر ہونگیں جن کی ایک جھلک دنیا کے تمام غم بھلا دے گی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا میں عافیت عطا فرمائے اور آخرت میں جنت کی دائمی نعمتیں عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 462