Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 488

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِطَّلَعْتُ فِیْ الْجَنَّةِ فَرَاَيْتُ اَكْثَرَ اَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ، وَاطَّلَعْتُ فِیْ النَّارِ فَرَاَيْتُ اَكْثَرَ اَهْلِهَا النِّسَاءَ. ( )

عن ابن عباس ، وعمران بن حصين رضي الله عنهم عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : اطلعت فی الجنة فرايت اكثر اهلها الفقراء ، واطلعت فی النار فرايت اكثر اهلها النساء. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس اور حضرت سَیِّدُنَا عمران بن حُصَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میں نے جنت کا مشاہدہ کیا تو اس میں اکثر فقراء کو دیکھا اور جہنم کا مشاہدہ کیا تو اس میں عورتوں کی کثرت دیکھی ۔ “

شرح حدیث

جنت میں فقراء کی تعداد زیادہ کیوں ہوگی؟فقراء کی تعداد جنت میں اس لیے زیادہ ہوگی کہ انہیں اتنا مال میسر نہیں ہوتا جس کے سبب وہ بداعمالیوں کی طرف مائل ہو سکیں کیونکہ عموماً مال کی کثرت ہی گناہوں کا سبب بنتی ہے اور عام طورپر یہی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر غریب لوگ ہی دین پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں ۔مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” ( جنت میں فقراء زیادہ ہونگے ) کیونکہ حضرات انبیاءِ کرام کی اطاعت کرنے والے اکثر فقراء ہی رہے ، آج بھی دیکھ لو کہ علماء ، حفاظ ، وقت پڑنے پر غازی شہید اکثر غریب لوگ ہی ہوتے ہیں ، اب بھی مسجدیں ، دینی مدرسے غریبوں کے دم سے آباد ہیں ، امیروں کے لیے کالج ، سینما ، کھیل تماشے ہیں فرمان پاک بالکل درست ہے ۔ “ ( )

¥
جہنم میں عورتوں کی کثرت کیوں؟” ( جہنم میں عورتوں کی کثرت ہوگی کیونکہ ) عورتیں ناشکری ، بے صبری زیادہ ہیں ۔ عورت بگڑ کر سارے گھر کو بگاڑ دیتی ہے اور سنبھل کر سارے گھر کو سنبھال لیتی ہے ، بچہ کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے ۔ ( )
عمدۃ القاری میں ہے : عورتیں دوزخ میں اس لیے کثرت سے ہوں گی کہ ان پر خواہشات کا بہت زیادہ غلبہ ہوتا ہے اور وہ دنیاوی زیب و زینت کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ آخرت کے لیے نیک عمل کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں اور عبادات سے اعراض کرتی ہیں اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عورتیں ایسے بے عمل لوگوں کے دھوکے میں بہت جلد پھنس جاتی ہیں جو انہیں اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور جو انہیں آخرت اور نیک اَعمال کی طرف بلائے اس کی بات پر کان تک نہیں دھرتیں ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’غارِحرا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
جنت میں فقراء کی اور جہنم میں عورتوں کی کثرت ہوگی ۔
(2) مال کی زیادتی گناہوں کی طرف مائل کرتی ہے ۔
(3) فقر وہ اچھا ہے جس پر صبر کیا جائے ، جو فقر بے صبری اور شکوہ شکایت کا سبب بنے وہ نقصان دہ ہے ۔
(4) عام طورپر دیکھایہی جاتا ہے کہ اکثر غریب لوگ ہی دِین پر زیادہ عمل کرتے ہیں ۔ نیز انبیاء کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکا ساتھ دینے والے بھی زیادہ تر فقراء ہی ہوا کرتے تھے ۔
(5) جہنم میں عورتوں کی کثرت اس وجہ سے ہو گی کہ ان میں ناشکری ، شہوات کا غلبہ اور زیب و زینت کا بہت زیادہ میلان جیسی برائیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں ۔

(6) عورت ہی پر سارے گھر کا دار و مدار ہے اگر عورت سنبھل جائے تو سارا گھر سنبھل جاتا ہے اور اگر عورت بگڑ جائے تو سارا گھر بگڑ جاتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں جہنم کی ہولناکیوں سے بجائے اور جنت الفردوس میں اپنے محبوب بندوں کا پڑوس عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 488