Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 464

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوْقِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ اَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَتَنَاوَلَهُ فَاَخَذَ بِاُذُنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اَيُّكُم يُحِبُّ اَنْ يَكُوْنَ هٰذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ فَقَالُوْا : مَا نُحِبُّ اَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ؟ ثُمَّ قَالَ : اَتُحِبُّوْنَ اَنَّهُ لَكُمْ؟ قَالُوْا : وَاللهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا اِنَّهُ اَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ ! فَقَالَ : فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا اَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هٰذَا عَلَيْكُمْ. ( )

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بالسوق والناس كنفتيه ، فمر بجدي اسك ميت ، فتناوله فاخذ باذنه ، ثم قال : ايكم يحب ان يكون هذا له بدرهم؟ فقالوا : ما نحب انه لنا بشيء وما نصنع به؟ ثم قال : اتحبون انه لكم؟ قالوا : والله لو كان حيا كان عيبا انه اسك فكيف وهو ميت ! فقال : فوالله للدنيا اهون على الله من هذا عليكم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبازار سے گزرے اور لوگ آپ کی دونوں طرف تھے ، پس آپ بکری کے ایک مرے ہوئے بچے کے پاس سے گزرے جس کے کان چھوٹے تھے ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے کان سے پکڑتے ہوئے فرمایا : ” تم میں سے کون پسند کرے گا کہ اسے یہ ایک درہم کے بدلے لے ؟ ‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ” ہم اسے کسی چیز کے عوض نہیں لینا چاہتے اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے ؟ ‘‘ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” کیا تم یہ چاہتے ہو کہ یہ بِلا عوض تمہیں مل جائے ؟ ‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : ”اللہکی قسم ! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی عیب دار تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں ( ہم اسے تب بھی نہ لیتے ) اور جبکہ یہ مرا ہوا ہے تو ہم اسے لینا کیسے پسند کر سکتے ہیں ۔ ‘‘ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ”اللہکی قسم !اللہتعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے ۔

شرح حدیث

اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں :مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ، جس دنیا کے لیے اِنسان مارا مارا پھرتا ہےاللہتعالیٰ کے نزدیک یہ بکری کے مردار بچے سے بھی زیادہ

حقیر و ذلیل ہے ۔
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” اِس حدیث پاک سے مقصود یہ ہے کہ دنیا میں زُہد اختیار کیا جائے ( یعنی دنیا کو ترک کیا جائے ) اور آخرت میں رغبت کی جائے کیونکہ دنیا کی محبت ہر بُرائی کی جڑ ہے جیساکہ دنیا کو ترک کرنا ہر عبادت کی اصل ہے اور یہ اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ دنیا سے محبت کرنے والا اگر کسی دینی کام میں بھی مشغول ہو پھر بھی اس کے اعمال میں اغراض فاسدہ شامل ہوتی ہیں جبکہ دنیا کو ترک کرنے والا اگر کسی دنیاوی کام میں بھی مشغول ہو تب بھی وہ آخرت کی بہتری کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ اسی لیے صوفیاءِ کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ” دنیا سے محبت کرنے والے کو تمام جہان کے مرشد بھی ہدایت نہیں دے سکتے اور دنیا ترک کرنے والے کو تمام جہان کے شیاطین بھی گمراہ نہیں کرسکتے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’مکہ ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1)
دنیااللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بکری کے مردار اوربے قیمت حقیربچے سے بھی زیادہ ذلیل ہے ۔
(2) دنیا کی محبت ہر بُرائی کی جڑ اور ترکِ دنیا ہر عبادت کی اصل ہے ۔
(3) دنیا سے محبت کرنے والا شیطان کے جال میں پھنس جاتاہے جبکہ دنیا ترک کرنے والا شیطان کے ہتھکنڈوں سے محفوط رہتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا کی محبت سے بچائے اور فکر آخرت نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 464