Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 463

جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ. ( )

وعن المستورد بن شداد رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما الدنيا في الآخرة الا مثل ما يجعل احدكم اصبعه في اليم ، فلينظر بم يرجع. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “

شرح حدیث

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی بہت تنگ ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت خود بھی دائمی ہے اور اس کی نعمتوں کو بھی دوام حاصل ہے لہذا اگر اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں وہی ہے جو انگلی پر لگنے والے پانی کی حیثیت سمندر کے مقابلے میں ہوتی ہے ۔ “ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” یہ بھی فقط سمجھانے کے لیے ہے ورنہ فانی اور متناہی کو باقی ، غیر فانی ، غیر متناہی سے ( وہ ) وجہ نسبت بھی نہیں جو بھیگی انگلی کی تری کو سمندر سے ہے ۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جواللہسے غافل کر دے ، عاقل عارف کی دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے اس کی دنیا بہت ہی عظیم ہے ۔ غافل کی نماز بھی دنیا ہے جو وہ نام نمود کے لیے کرتا ہے ۔ عاقل کا کھانا پینا ، سونا جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دِین ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے ۔ مسلمان اس لیے کھائے پئے سوئے جاگے کہ یہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتیں ہیں ۔حَیَاۃُ الدُّنْیَااور چیز ہے ،حَیٰوۃٌ فِی الدُّنْیَااورحَیَاۃٌ لِلدُّنْیَاکچھ اور یعنی دنیا کی زندگی ، دنیا میں زندگی ، دنیا کے لیے زندگی ، جو زندگی دنیا میں ہو مگر آخرت کے لیے ہو دنیا کے لیے نہ ہو وہ مبارک ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں شعر
آب در کشتی ہلاک کشتی است آب اندر زیر کشتی پشتی است

کشتی دریا میں رہے تو نجات ہے اور اگر دریا کشتی میں آجاوے تو ہلاک ہے ۔ مؤمن کا دل مال و اولاد میں رہنا چاہیے مگر دل میں
اللہو رسول کے سوا کچھ نہ رہنا ضرو ری ہے ۔ “ ( )
¥
دنیا سے زیادہ آخرت کی تیاری کرو :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” دنیا کی عزت و دولت کمانے کے لیے خوب محنت و مشقت کرنا بے کار ہے کہ یہ سب چیزیں فانی اور جلد ختم ہونے والی ہیں لہذا کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان چیزوں کی وسعت پر خوش ہو اور غرور کرے اور نہ ہی یہ مناسب ہے کہ دنیا کی تنگی پر شکوہ شکایت کرے بلکہ وسعت و تنگی دونوں حالتوں میں یہی کہے کہ زندگی تو آخرت کی زندگی ہے “ ( ) ( اور ہمیشہ آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کی سعی کرتا رہے ) ۔مدنی گلدستہ
’’آخرت ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
دنیا کی زندگی کی مثال آخرت کے مقابلے میں یوں ہے جیسے سمندر میں انگلی ڈبو کر واپس نکالی جائے تو جو پانی انگلی پر لگ جائے وہ دنیا ہے اور سمندر آخرت ۔
(2)
اللہوالوں کی دنیاداری بھی آخرت ہے کہ وہ ہر کاماللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے کرتے ہیں اور غافل کی نماز بھی دنیا ہے کہ وہ دکھاوے کے لیے پڑھتا ہے ۔
(3) دنیا میں رہ کر زندگی گزارنے میں نقصان نہیں دل میں دنیا بسا کر زندگی گزارنا ہلاکت کا باعث ہے ۔
(4) عقلمند وہ نہیں جو صرف دنیا کی ترقی پر خوش ہو اور اس کی تنگی پر غمزدہ ہو بلکہ عقلمند وہ ہے جو آخرت کے لیے کیے جانے والے اعمال پر خوش ہو اور جس کام میں آخرت کا خسارہ ہو اس پر پریشان ہو ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں فانی دنیا کے عیش و آرام کے لیے جدو جہد کرنے کے بجائے آخرت میں کامیابی کے

لیے جدو جہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 463