Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 482

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ عَمْرٍو ، وَيُقَالُ : اَبُوْعَبْدِ اللهِ ، وَیُقَالُ : اَبُوْ لَيْلٰی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لِاِبْنِ آدَمَ حَقٌّ فِیْ سِوَى هٰذِهِ الخِصَالِ : بَيْتٌ يَسْكُنُهُ ، وَثَوْبٌ يُوَارِيْ عَوْرَتَهُ ، وَ جِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ. ( )

عن ابي عمرو ، ويقال : ابوعبد الله ، ویقال : ابو ليلی عثمان بن عفان رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : ليس لابن آدم حق فی سوى هذه الخصال : بيت يسكنه ، وثوب يواري عورته ، و جلف الخبز والماء. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو عمرو عثمان بن عفانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجن کی کنیت ابوعبداللہاور ابو لیلیٰ بھی ہے ان سے مروی ہے کہ نبی کریم ، رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” ( دنیا میں ) ان چیزوں کے علا وہ انسان کا کسی چیز میں حق نہیں : رہنے کے لیے مکان ، سَتْر چھپانے کے لئے کپڑا ، خشک روٹی اور پانی ۔ “

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” جو چیزیں بدن انسانی کے لئے ضروری ہیں اور اس کے دین پر مددگار ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے بندوں پر لازم کی گئی ہیں وہ صرف یہ ہیں : رہنے کے لیے ایسا گھر جو گرمی سردی سے محفوظ رکھ سکے ، پہننے کے لیے اتنا کپڑا جس سے ستر پوشی ہوجائے ، بھوک مٹانے کے لیے خشک و موٹی روٹی اور پینے کے لیے ضرورت کے مطابق پانی ۔ جب یہ اشیاء حلال طریقے سے حاصل کی جائیں تو آخرت میں ان پر حساب نہ ہو گا کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں ۔ البتہ ان سے زیادہ کے بارے میں سوال ہوگا ۔ “ ( )مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : حدیث پاک میں بیان کردہ اشیاء کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت نہیں آخرت میں ان کا

حساب نہ ہوگا اور ان کے سوا دوسری چیزوں کا حساب دینا ہوگا ۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (
ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸))(پ۳۰ ،التکاثر: ۸ )ترجمۂ کنزالایمان: پھر بے شک ضرور اُس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی ۔ یہاں نعمتوں سے مراد عیش و عشرت کی چیزیں ہیں ۔ خیال رہے کہ شخصی زندگی فانی ہے قومی اور دینی زندگی باقی ہے لہٰذا مسلمان اپنی شخصی زندگی کے لیے معمولی سامان اختیار کرے ، قومی و دینی زندگی کے لیے قیامت تک کا انتظام کرے ۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دِین اور قوم کے لیے ممالک فتح کیے مگر اپنی ذات کے لیے آرام دہ مکان بھی نہ بنایا یہاں شخصی زندگی اورشخصی حالتوں کا ذکر ہے نیز گھر میں بقدرِ ضرورت گھر کا سامان داخل ہے ، روٹی میں سالن شامل ہے ، پانی میں دودھ لسی وغیرہ داخل ہیں جن کی کبھی ضرورت پڑتی ہے ، حضور انور نے دودھ لسی وغیرہ ملاحظہ فرمائی ہیں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’کعبہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
زندگی گزار نے کے لیے ضرورت کے مطابق مکان ، کپڑا ، روٹی اور پانی کافی ہے ۔
(2) مذکورہ بالا چاروں چیزیں اگر حلال طریقے سے حاصل کی جائیں اور بقدرِ ضرورت ہوں تو آخرت میں ان کے بارے میں سوال نہیں ہوگا ۔
(3) حدیث مذکور میں جو چار اشیاء بیان کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری چیزوں کے بارے میں حساب ہوگا ۔
(4) انسان کو خود اپنے لیے معمولی سامان اختیار کرنا چاہیے اور دین و قوم کی خاطر وسیع انتظام کرنا چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہماری بلا حساب مغفرت وجنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 482