Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 486

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيْرٍ فَقَامَ وَقَدْ اَثَّرَ فیِْ جَنْبِهِ ، قُلْنَا : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً؟ فَقَالَ : مَا لِيْ وَلِلدُّنْيَا؟ مَا اَنَا فِي الدُّنْيَا اِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا. ( )

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : نام رسول الله صلى الله عليه وسلم على حصير فقام وقد اثر فی جنبه ، قلنا : يا رسول الله لو اتخذنا لك وطاء؟ فقال : ما لي وللدنيا؟ ما انا في الدنيا الا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک چٹائی پر آرام فرمارہے تھے ، بیدار ہوئے تو پہلو مبارک پر چٹائی کے نشان تھے ۔ ہم نے عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا ہم آپ کے لیے بچھونا نہ بنا دیں ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” مجھے دنیا سے کیا سروکار میں دنیا میں اُس سوار کی طرح ہوں جو درخت کے سائے میں ( کچھ دیر ) ٹھہرا پھر اسے چھوڑکر چلا گیا ۔ “

شرح حدیث

حضور کے جسم مبارک کی نزاکت :چٹائی پر لیٹنے سے جسم نازنین پر نشانات پڑ گئے تھے یہ اس لئے تھا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا جسم مبارک ریشم سے بھی زیادہ نرم و نازک تھا ۔ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں نے حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم کسی باریک اور موٹے ریشم کو نہیں چھوا“ تو جب حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی مبارک ہتھیلیوں کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ جو مستقل طورپر کام کاج میں استعمال ہوا کرتی تھیں تو پھر آپ کے باقی بدن شریف کی نزاکت کا عالم کیا ہوگا؟مرآۃ المناجیح میں ہے : ” اُس وقت جسم اطہر پر قمیص بھی نہ تھی صرف تہبند مبارک زیب تن فرمائے ننگی چٹائی پر آرام فرمایا تھا ۔ جب حضرتِ سَیِّدُنَاعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورِ اَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسم مبارک پر یہ نشانات ملاحظہ کیے تو عرض کی کہ حضور ! اگر آپ اجازت عطا فرمائیں تو ہم آپ کے لیے ایک بسترا بنادیتے ہیں یعنی کاش کہ حضور ہم غلاموں کو اجازت دے دیتے تو ہم ہر قسم کے آرام کا انتظام حضور کے لیے کردیتے ۔ اعلیٰ لباس ، بہترین نرم بستر حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ سادگی ہم غلاموں سے دیکھی نہیں جاتی ۔ “ ( )
¥
دنیا سے بے رغبتی کا عالَم :جب آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بستر کی پیشکش کی گئی تو فرمایا : ” مجھے دنیا سے کیا سروکار ، میں تو اس سوار کی طرح ہوں جو درخت کے سائے میں کچھ دیر ٹھہرے اورپھرسفرپر روانہ ہوجائے ۔ “مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کے تحت فرماتے ہیں : ” جیسے یہ سوار اتنی دیر آرام کے لیے اپنا بستر وغیرہ نہیں کھولتا بلکہ زمین پر ہی لیٹ کر دھوپ ڈھل جانے پر چل دیتا ہے ایسے ہی ہمارا حال ہے کہ ہم کونین کے مالک ہیں مگر اپنے لیے کچھ نہیں رکھتے ۔ لہٰذا حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پردہ فرمانے کے بعد دنیا کو اور اپنی امت کو چھوڑ دیا ، ان سب سے بے تعلق ہوگئے ، اگر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم کو چھوڑ دیں تو ہم ہلاک ہوجائیں ، سورج دنیا کو چھوڑ دے تو دنیا اندھیری ہوجاوے ، روح بدن کو چھوڑ دے توبدن مر جاوے ، جڑ درخت کو چھوڑ دے تو درخت سوکھ جاوے ، اگر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدنیا کو چھوڑ دیں تو کوئیاللہاللہکہنے والا نہ رہے ۔ “ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ اس لیے فرمایا کہ دنیا نہ تو ٹھہرنے کی جگہ ہے اور نہ ہی رہائش گاہ بنانے کا مقام ہے بلکہ یہ تو ایسا گھر ہے جسے میدان آخرت کی طرف چلنے والا عبور کرکے ختم کررہا ہے ۔ انسان کی حالت اس دنیا میں اس مسافر کی طرح ہے کہ جو دورانِ سفر سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے درخت کے نیچے سایہ لینے کے لیے ٹھہرتا ہے اور جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو وہاں سے چل پڑتا ہے ۔ “ ( )
حضرت سَیِّدُنَا عیسیٰ
عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” اے حواریوں کی جماعت ! تم میں سے کون سمندر کی موجوں پر گھر بنانے کی استطاعت رکھتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ” اےرُوحُ اللہ! اس پر کون

قدرت رکھ سکتا ہے ؟ فرمایا : ” تو پھر دنیا سے بچو اور اسے گھر نہ بناؤ ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’بغداد ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
حضورعَلَیْہِ السَّلَامنرم و ملائم بستر پر آرام نہ فرماتے بلکہ چٹائی پر آرام فرمایا کرتے تھے ۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا جسم مبارک ریشم سے بھی زیادہ نرم و نازک ہے ۔
(3) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامکونین کے مالک ہونے کے باوجود اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے آپ کو اس دنیا میں مسافر کی طرح خیال فرماتے تھے ۔
(4) حضور انور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پردہ فرمانے کے بعد بھی دنیا کو اور اپنی اُمت کو نہیں چھوڑا ، اگر حضورعَلَیْہِ السَّلَاماس دنیا کو چھوڑ دیں تو دنیا میں کوئیاللہاللہکہنے والا نہ رہے ۔
(5) دنیا رہائش گاہ بنانے کی جگہ نہیں بلکہ یہ تو ایسا راستہ ہے جسے آخرت کی طرف چلنے والا عبور کررہا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 486