Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 473

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَااَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : لَقَدْ رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِيْ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَاُ بِهِ بَطْنَهُ. ( )

عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما قال : ذكر عمر بن الخطاب رضي الله عنه مااصاب الناس من الدنيا ، فقال : لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم یظل اليوم يلتوي ما يجد من الدقل ما يملا به بطنه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس چیز کا ذکر کیا جولوگوں نے دنیا سے حاصل کی پھر فرمایا : ” میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دن بھر ( بھوک کی وجہ سے ) بے قرارہوتے دیکھتا اور آپ کو ردی کھجوریں بھی پیٹ بھر میسر نہ ہوتیں ۔ “

شرح حدیث

حضور کافقر اختیاری تھا :حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ بھوک اِختیاری تھی ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ زہد اور فقر مجبوری کے طورپر نہ تھا ۔ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے فقراختیاری ہونے پر کئی احادیث دلالت کرتی ہیں ۔ چنانچہ

نبی کریم رؤف ورحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عظمت نشان ہے : ” میرے رب نے مجھ پر مکہ کی ایک وادی کو پیش کیا کہ وہ اسے میرے لیے سونا بنادے تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگارعَزَّ وَجَلَّمیں تو یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں ۔ ‘‘ یاعرض کی : ’’تین دن کھاؤں اور تین دن بھوکا رہوں ، جب بھوکا رہوں گا تو تیرے حضور گریہ و زاری اور تیراذکرکروں گا اور جب کھاؤں گاتو تیرا شکر ادا کروں گا اور تیری حمد وثنا ء بجالاؤں گا ۔ “ ( )مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں……دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میںصحابہ کرام کا زُہد :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حدیثِ مذکور میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دن بھر فاقہ فرمایا حالانکہ بھوک کی شدت کی وجہ سے آپعَلَیْہِ السَّلَامپر کمزوری کے آثار ظاہر تھے ۔ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی عیش و عشرت سے کنارہ کشی اختیار کرتے ، فقر و فاقے کی صعوبتیں اُٹھاتے اور نفس کو شہوات سے دور کر کے مشقت برداشت کرنے پر مجبور کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا حسنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں تم سے بہتر لباس پہن سکتا ہوں ، اچھا کھانا کھا سکتا ہوں اور آسائش والی زندگی گزار سکتا ہوں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں سینے کے گوشت ، گھی ، آگ پر بھنے ہوئے گوشت ، چٹنی اور چپاتیوں سے ناواقف نہیں ہوں لیکن ( انہیں اس لیے استعمال نہیں کرتا کہ ) میں نے سنا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے نعمت و آسائش پانے والی قوم کو عار دِلائی ہے ۔ جیساکہ اِرشادِ خداوندی ہے :اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ(پ۲۶ ،الاحقاف: ۲۰ )ترجمۂ کنزالایمان: ان سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور انہیں برت چکے ۔ ( )
مذکورہ حدیث پاک کے علاوہ اور کئی احادیث ہیں جن میں کم کھانے اور زہد اختیار کرنے کی ترغیب

دلائی گئی ہے ۔ حقیقت ہے کہ زبان کی وقتی لذت اور نفس کی ہوس مٹانے کے لیے زیادہ کھانے میں بہت نقصان ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ زیادہ کھانے والا عبادت میں سستی کا شکار ہو جاتا ہے اس کے برعکس بھوک کی مشقت برداشت کرنے والے لوگ عبادت پر زیادہ کمر بستہ ہوتے ہیں ۔
مدنی گلدستہ
’’صدیق ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
نبی کریم ، رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فقر مجبوری کے طورپر نہ تھا بلکہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خودفقر اختیار کیا اور اپنے لیے بھوک کو پسند فرمایا ۔
(2) بھوک سے دل نرم و صاف ہوتا ہے ، عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے ، خواہشات کم ہوجاتی ہیں ، نیند کم آتی ہے ، رِزق فراخ ہوتا ہے ، جسم تندرست رہتا ہے ، علم و عمل کی قوت ملتی ہے اور صدقہ و ایثار کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حالات پر ہر وقت نظر رکھتے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ پر دِل وجان سے عمل کیا کرتے تھے ۔
(4) جس کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہو تو اسے چاہئے کہ بزرگوں کی سیرت پر نظر رکھے اس طرح اسے مال ودولت کے وبال سے بچنے میں مدد ملے گی ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سیرتِ طیبہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 473