- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- زھد و فقر کی فضیلت
- حدیث نمبر 472
زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 472
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ اَحَبَّنِيَ اللهُ وَاَحَبَّنِيَ النَّاسُ ، فَقَالَ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا یُحِبَّكَ اللهُ ، وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ. ( )
عن ابي العباس سهل بن سعدن الساعدي رضي الله عنه قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله دلني على عمل اذا عملته احبني الله واحبني الناس ، فقال : ازهد في الدنيا یحبك الله ، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوالعباس سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تواللہتعالیٰ بھی مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں“ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” دنیا سے بے رغبت رہواللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے محبت فرمائے گا اور جوکچھ لوگوں کے پاس ہے اسں سے بے رغبت ہو جاؤ ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔ “
شرح حدیث
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہواللہکی رحمت ہے ، محبتِ خلق محبت ِخالق کی علامت ہے ، لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ، حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنے دعا کی تھی کہ مولیٰ )وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴)( (پ۱۹ ،الشعراء: ۸۴ ) آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما ، لہٰذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے ۔ “ ( )
¥دنیا سے بے رغبتی” دنیا سے بے رغبتی کے رکن تین ہیں : محبت دنیا سے علیحدگی ، زائد دنیا سے پرہیز ، آخرت کی تیاری ، ایسے شخص سےﷲتعالیٰ محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہاللہکے دُشمن سے محبت نہیں کرتا دُشمن کا دُشمن بھی دوست ہوتا ہے ۔ نیز جو دنیا سے بے رغبت ہوگا وہ گناہ کم کرے گا نیکیاں زیادہ اور ایسا بندہ ضروراللہتعالیٰ کو پیارا ہے ۔ “ ( )اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” زُہد سےاللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت پیدا ہوتی ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ زُہد بہت اعلیٰ اور افضل عمل ہے کیونکہ اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا سبب بنایا گیا ہے اور دنیا کی محبتاللہتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔ “ ( )
¥لوگوں کے ا موال سے بے رغبتی میں عزت کیوں؟عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت فطری طورپر رکھی گئی ہے اور یہ محبت ان کے دلوں پر نقش ہوگئی ہے تو جو کوئی انسان سے اس کی پسندیدہ چیز میں جھگڑتا ہے تو انسان اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی انسان کی پسندیدہ چیز میں اس کے معارض نہیں آتا انسان اس سے محبت کرتا ہے اور اسے عزت دیتا ہے ۔ اسی لیے مشہور تابعی حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ” لوگ آدمی کے عزت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ ان کی دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے تو وہ اُسے حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں ۔ “ منقول ہے کہ اہل بصرہ میں سے کسی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : ” حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ“ پوچھنے والے نے کہا ” انہیں تمہارے نزدیک یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہے ؟ اس نے کہا : ” ہم ان کے علم سے دلیل پکڑتے ہیں اور وہ ہماری دنیا سے بے نیاز ہیں ۔ “ ( )مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” دنیا کا
دستور ہے کہ جو اس کی طرف دوڑتا ہے تو وہ اس سے بھاگتی ہے اور جو اس سے بے نیاز ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف آتی ہے ۔ جو شخص لوگوں سے تمنا رکھے گا تو خواہ مخواہ ان کی خوشامد کرے گا اور لوگ اس سے نفرت کریں گے اور جو لوگوں سے بے نیاز ہوگا تو لوگ خوامخواہ اس کی طرف آئیں گے ۔ “ ( )
¥مال سے محبت کی جائز ومحمود صورتعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” مال و دولت اور دنیا کی ایسی محبت مذموم ہے جو شہواتِ نفسانی کی تکمیل کے لیے ہو کیونکہ ایسی محبت انسان کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل کردیتی ہے ۔ بہرحال بھلائی کے کام کرنے ، محتاج کی حاجت روائی کرنے ، ستم رسیدہ کی مدد کرنے ، تنگدست کو کھانا کھلانے کے لیے مال سے محبت کرنا عبادت ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : اچھا ( یعنی حلال ) مال نیک مرد کے لیے بہت ہی اچھا ہے کہ وہ اس مال کے ذریعے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرتا ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’محبتِ الٰہی ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)دنیا میں زُہد اختیار کرنے والااللہ عَزَّ وَجَلَّکامحبوب بندہ بن جاتاہے ۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کی محبت جو قدرتی طورپر ہو وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ۔
(3) جو محبتِ دنیا سے باز رہے ، زائد دنیاوی اشیاء سے پرہیزکرے ، آخرت کی تیاری میں مشغول رہے وہی زاہد وقانع ہے ۔
(4) زُہد بہت افضل و اعلیٰ عمل ہے کیونکہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا سبب ہے ۔
(5) اگر بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے ، یتیموں کی کفالت کرنے ، مسکینوں کی مدد کرنے ، محتاجوں کو
کھانا کھلانے کے لیے مال سے محبت ہو تو ایسی محبت جائز ومحمود ہے ۔
(6) دنیا سے محبت کرنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّناراض ہو جاتا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت دنیا سے نفرت کرنے میں ہے ۔
(7) ایک دل میں دنیا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔
(8) بندے کا زُہد اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب دہ دنیا پر قدرت رکھنے کے باوجود اسے ترک کرے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 472