Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 472

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ اَحَبَّنِيَ اللهُ وَاَحَبَّنِيَ النَّاسُ ، فَقَالَ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا یُحِبَّكَ اللهُ ، وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ. ( )

عن ابي العباس سهل بن سعدن الساعدي رضي الله عنه قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله دلني على عمل اذا عملته احبني الله واحبني الناس ، فقال : ازهد في الدنيا یحبك الله ، وازهد فيما عند الناس يحبك الناس. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوالعباس سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تواللہتعالیٰ بھی مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں“ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” دنیا سے بے رغبت رہواللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے محبت فرمائے گا اور جوکچھ لوگوں کے پاس ہے اسں سے بے رغبت ہو جاؤ ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔ “

شرح حدیث

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” معلوم ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کی محبت جو قدرتی طور سے ہواللہکی رحمت ہے ، محبتِ خلق محبت ِخالق کی علامت ہے ، لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ، حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامنے دعا کی تھی کہ مولیٰ )وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ(۸۴)( (پ۱۹ ،الشعراء: ۸۴ ) آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری فرما ، لہٰذا ان صاحب کا یہ سوال بالکل برحق ہے ۔ “ ( )

¥
دنیا سے بے رغبتی” دنیا سے بے رغبتی کے رکن تین ہیں : محبت دنیا سے علیحدگی ، زائد دنیا سے پرہیز ، آخرت کی تیاری ، ایسے شخص سےتعالیٰ محبت اس لیے کرتا ہے کہ وہاللہکے دُشمن سے محبت نہیں کرتا دُشمن کا دُشمن بھی دوست ہوتا ہے ۔ نیز جو دنیا سے بے رغبت ہوگا وہ گناہ کم کرے گا نیکیاں زیادہ اور ایسا بندہ ضروراللہتعالیٰ کو پیارا ہے ۔ “ ( )اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” زُہد سےاللہ عَزَّوَجَلَّکی محبت پیدا ہوتی ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ زُہد بہت اعلیٰ اور افضل عمل ہے کیونکہ اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا سبب بنایا گیا ہے اور دنیا کی محبتاللہتعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔ “ ( )
¥
لوگوں کے ا موال سے بے رغبتی میں عزت کیوں؟عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت فطری طورپر رکھی گئی ہے اور یہ محبت ان کے دلوں پر نقش ہوگئی ہے تو جو کوئی انسان سے اس کی پسندیدہ چیز میں جھگڑتا ہے تو انسان اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی انسان کی پسندیدہ چیز میں اس کے معارض نہیں آتا انسان اس سے محبت کرتا ہے اور اسے عزت دیتا ہے ۔ اسی لیے مشہور تابعی حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ” لوگ آدمی کے عزت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ ان کی دنیا کا خواہشمند ہوتا ہے تو وہ اُسے حقیر سمجھتے ہیں اور اس کی بات کو بھی ناپسند کرتے ہیں ۔ “ منقول ہے کہ اہل بصرہ میں سے کسی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : ” حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ“ پوچھنے والے نے کہا ” انہیں تمہارے نزدیک یہ مقام و مرتبہ کیوں حاصل ہے ؟ اس نے کہا : ” ہم ان کے علم سے دلیل پکڑتے ہیں اور وہ ہماری دنیا سے بے نیاز ہیں ۔ “ ( )مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” دنیا کا

دستور ہے کہ جو اس کی طرف دوڑتا ہے تو وہ اس سے بھاگتی ہے اور جو اس سے بے نیاز ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف آتی ہے ۔ جو شخص لوگوں سے تمنا رکھے گا تو خواہ مخواہ ان کی خوشامد کرے گا اور لوگ اس سے نفرت کریں گے اور جو لوگوں سے بے نیاز ہوگا تو لوگ خوامخواہ اس کی طرف آئیں گے ۔ “ ( )
¥
مال سے محبت کی جائز ومحمود صورتعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” مال و دولت اور دنیا کی ایسی محبت مذموم ہے جو شہواتِ نفسانی کی تکمیل کے لیے ہو کیونکہ ایسی محبت انسان کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل کردیتی ہے ۔ بہرحال بھلائی کے کام کرنے ، محتاج کی حاجت روائی کرنے ، ستم رسیدہ کی مدد کرنے ، تنگدست کو کھانا کھلانے کے لیے مال سے محبت کرنا عبادت ہے ۔ حدیث پاک میں ہے : اچھا ( یعنی حلال ) مال نیک مرد کے لیے بہت ہی اچھا ہے کہ وہ اس مال کے ذریعے صلہ رحمی اور حسن سلوک کرتا ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’محبتِ الٰہی ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)
دنیا میں زُہد اختیار کرنے والااللہ عَزَّ وَجَلَّکامحبوب بندہ بن جاتاہے ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کی محبت جو قدرتی طورپر ہو وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے لہٰذا لوگوں کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنا ممنوع نہیں ۔
(3) جو محبتِ دنیا سے باز رہے ، زائد دنیاوی اشیاء سے پرہیزکرے ، آخرت کی تیاری میں مشغول رہے وہی زاہد وقانع ہے ۔
(4) زُہد بہت افضل و اعلیٰ عمل ہے کیونکہ یہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا سبب ہے ۔
(5) اگر بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے ، یتیموں کی کفالت کرنے ، مسکینوں کی مدد کرنے ، محتاجوں کو

کھانا کھلانے کے لیے مال سے محبت ہو تو ایسی محبت جائز ومحمود ہے ۔
(6) دنیا سے محبت کرنے والے سے
اللہ عَزَّ وَجَلَّناراض ہو جاتا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت دنیا سے نفرت کرنے میں ہے ۔
(7) ایک دل میں دنیا اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت جمع نہیں ہوسکتی ۔
(8) بندے کا زُہد اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب دہ دنیا پر قدرت رکھنے کے باوجود اسے ترک کرے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 472