Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 481

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ كَعْبِ بْنِِ عِيَاضٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اِنَّ لِكُلِّ اُمَّةٍ فِتْنَةً وَفِتْنَةُ اُمَّتِيْ اَلْمَالُ. ( )

عن كعب بن عياض رضي الله عنه قال : سمعت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقول : ان لكل امة فتنة وفتنة امتي المال. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا کعب بن عِیاضرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ” ہر اُمّت کے لیے ایک فتنہ ہے اور میری اُمّت کا فتنہ مال ہے ۔ “

شرح حدیث

مختلف طریقوں سے آزمائش :مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے الفاظ

” میری امت کا فتنہ مال ہے ۔ “ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” گزشتہ اُمّتوں کی آزمائشیں مختلف چیزوں سے ہوئیں ، میری اُمَّت کی سخت آزمائش مال سے ہوگی ، ربّ تعالیٰ مال دے کر آزمائے گا کہ یہ لوگ اب میرے رہتے ہیں یا نہیں ، اکثر لوگ اس امتحان میں ناکام ہوں گے کہ مال پا کر غافل ہوجائیں گے ۔ اس کا تجربہ برابر ہورہا ہے ، اکثر قتل ، غارت ، غفلت مال کی وجہ سے ہوتا ہے ، ستّر فیصدی گناہ مال کی بنا پر ہوتے ہیں ۔ “ ( )
عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیحدیثِ مذکور کامطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” یعنی میری اُمّت مال کی وجہ سے کھیل کود میں مبتلاء ہو گی کیونکہ وہ مال ان کے دل کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت بجالانے سے غافل کردے گا اور وہ آخرت کو بھول جائیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ(پ۲۸ ،التغابن: ۱۵ )ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے مال اور تمہارے بچّے جانچ ہی ہیں ۔
اس آیت میں اس بات پر دلیل ہے کہ مال فتنہ ہے پس جو شخص مال کے ذریعے غنا حاصل کرتا ہے وہ فتنے میں ضرور مبتلا ہوتا ہے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں کہ جنہیں یہ فتنہ پہنچا ہو اور وہ اس کے اثر سے اپنے دین کو سلامت رکھنے میں کامیاب ہوئے “ ( )
مدنی گلدستہ
’’مَطَاف ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
ہر اُمَّت کے لیے ایک فتنہ ہوتا ہے اس امت کا فتنہ مال ہے ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں کو مختلف چیزوں سے آزماتا ہے کبھی جان و مال سے ، کبھی پھلوں کی کمی سے اور کبھی بھوک اور ڈر کے ذریعے اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے ۔
(3) مال ایسا فتنہ ہے جو بندے کو کھیل کود میں مشغول کرکے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت سے غافل کردیتا ہے ۔

(4) دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ جنہیں مال کا فتنہ پہنچا ہو اور وہ اس فتنے کے اثر سے اپنے دین کو سلامت رکھنے میں کامیاب ہوئے ہوں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں مال کے فتنے سے محفوظ فرمائے اور ہمیں قناعت کی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 481