Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 467

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُنْظُرُوْا اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوْا اِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَهُوَ اَجْدَرُ اَنْ لَا تَزْدَرُوْا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃِ الْبُخَارِيْ : اِذَا نَظَرَ اَحَدُكُمْ اِلٰی مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْهُ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : انظروا الی من هو اسفل منكم ولا تنظروا الى من هو فوقكم ، فهو اجدر ان لا تزدروا نعمة الله عليكم. ( ) وفی روایۃ البخاري : اذا نظر احدكم الی من فضل عليه في المال والخلق فلينظر الی من هو اسفل منه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھو اپنے سے زیادہ حیثیت والے پر نظر نہ رکھو ، بے شک یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کو حقیر نہ جانو ۔ “اوربخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے بندے کو دیکھے جسے مال اور خوبصورتی میں اس پر فضیلت دی گئی ہو تو چاہیے کہ اپنے سے کم درجے والے کی طرف نظر کرے ۔ “

شرح حدیث

تنگدست کی حالت پر غورو فکر کرو :حدیثِ مذکور میں شکر گزر اری و زُہد وقناعت اختیار کرنے اور ناشکری سے بچنے کا بہترین نسخہ بیان کیا گیاہے کہ جب اِنسان دنیاوی لحاظ سے اپنے سے بہتر کسی شخص کو دیکھے توچاہیے کہ اپنے سے کم حیثیت والے پر نظر کرلے کہ یہ عمل ناشکری سے بچانے اورمقدر پر راضی رہنے میں اس کا معاون ثابت ہوگا ۔اِمَام طَبرِیْعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” یہ حدیث تمام بھلائیوں کی جامع ہے کیونکہ کوئی تنگ دست شخص جب اپنے سے کم حیثیت والے شخص کو دیکھے گا اور اس کے بارے میں غور وفکر کرے گا تو اس پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتیں آشکار ہو جائیں گی اور اسے معلوم ہو جائے گا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے جونعمتیں عطا کی ہیں ان سے بہت سے لوگ محروم ہیں ۔ اس طرح ( غور و فکر ) کرنے سے وہ نعمتوں پر شکر ادا کرے گا ( اور ناشکری سے بچے گا ) ۔ “ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دُنیاوی اُمور میں اپنے سے کم درجے والے پر اور دینی اُمور اپنے سے اعلیٰ ، عبادت میں بہترین اور اِستقامت یافتہ شخص پرنظر رکھے ۔ حدیث پاک میں ہے : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس بندے پر رحم فرماتا ہے جس نے دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کراللہتعالیٰ کی حمد کی اور اُس کا شکر بجا لایا اور اُس آدمی پر بھی رحم فرماتا ہے جس نے دِین کے معاملے میں اپنے سے بلند کو دیکھا تواللہتعالیٰ کی حمد کی اور عبادت میں بھرپور کوشش کی ۔ “ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” حدیثِ مذکور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ معاشرے کہ اکثر افراد معتدل حالت پر ہوتے ہیں ، اگر انسان اپنے ارد گرد کے ماحول میں نظر دوڑائے اور اپنے سے نیچے طبقے والوں کی طرف دیکھے تو اسے اس بات کا احساس ہوگا کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہے ۔ اگر بالفرض کوئی ایسا انسان ہے جسے تمام لوگوں میں اپنے اوپر کوئی دکھائی نہیں دیتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سے نیچے والوں کی طرف نہ دیکھے کہ اس صورت میں یہ غرور و تکبر ، خودپسندی اور فخر کرنے کے فعل بد میں مبتلا ہو سکتا ہے لہٰذا اس پر لازم ہے کہ یہ ہمیشہ ان نعمتوں پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرے اور بالفرض اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ

وہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقر و تنگدستی کا شکار ہے تو اسے چاہیے کہ وہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرے کہاللہتعالیٰ نے اسے کثرت مال کے ذریعے دنیا کے فتنے میں مبتلا نہیں فرمایا ۔ اسی لیے حضرت شبلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب کسی دنیادار کو دیکھتے تو ( مالِ دنیا کے وبال سے بچنے کے لیے ) فرماتے : ”اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْاَلُكَ الْعَفُوَّ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبٰىیعنی اےاللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں درگزر اور عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’ابوبکر ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم حیثیت اَفراد پر نظر رکھنی چاہئے اور دینی معاملات میں اپنے سے بہترپر ۔
(2) دنیا وی معاملات میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھنے سے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناشکری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔
(3) دِین کے معاملے میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھنے سے زیادہ عبادت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرماتا ہے جو دنیاوی معاملات میں اپنے سے کم تر کو دیکھ کر شکرِ الٰہی بجا لائے ۔
(5) مالدار لوگوں کے پاس کم جانا چاہیے کہ اُن کی دولت دیکھ کر بندہ اپنی نعمتوں کو کم خیال کرتا ہے اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناشکری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
(6) حرص کم کرنے کے لئے ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہئے جو دنیاوی مال و دولت کے حریص نہ ہو ں بلکہ نیکیوں کے حریص ہوں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں مال ودولت کی حرص سے بچائے اور قناعت کی نعمت سے مالا مال فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 467