Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 490

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ : اَلَا كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلُ. ( )

عن ابی ہريرة رضي الله عنه ، عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : اصدق كلمة قالها شاعر كلمة لبيد : الا كل شىء ما خلا الله باطل. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہو وہ لَبِید کی بات ہے ( وہ یہ ہے ) ” سنو !اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز فانی ہے ۔ “

شرح حدیث

حضرت لبید بن ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:دلیل الفالحین میں ہے : ” حدیثِ مذکور میں جس شعر کے متعلق بیان ہوا وہ حضرت سَیِّدُنَا لَبِیْد بن ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا شعر ہے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایک وفد کے ساتھ بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اسلام میں بہت ا چھا وقت گزارا ۔ آپ زمانۂ جاہلیت میں بھی مُکَرَّم تھے اور زمانۂ اسلام میں بھی ۔ آپ کا شمارزمانۂ جاہلیت کے عظیم شعراء میں ہوتا تھا ، قبول ِاسلام کے بعد آپ نے کوئی شعر نہیں کہا ۔ آپ فرماتے تھے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اشعار کے بدلے قرآن عطا فرمادیا ہے ۔ ایک دن امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے شعر سنانے کا کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی : ”اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے ”سورۂ بقرۃ“ اور ”سورۂ آلِ عمران“ سکھا دی ہے اس لئے میں نے شاعری ترک کر دی ہے ۔ “ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان کے وظیفہ میں پانچ سو کا اضافہ فرما دیا ۔ آپ نے 157سال کی عمر میں حضرت سَیِّدُنَا امیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانۂ خلافت میں وفات پائی ۔ “ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” حدیث پاک میں بیان کردہ شعر میں کہا گیا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز فانی ہے یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز زوال پذیر ہے نیز مذکورہ شعر کو سب سے سچا کہا گیا کیونکہ کہ یہ شعر سب سے سچے کلام کے موافق ہے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶)(پ۲۷ ،الرحمٰن: ۲۶ )ترجمۂ کنزالایمان: زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے ۔
اور یہ اس آیت مبارکہ کے بھی موافق ہے جس میں حق تعالیٰ فرماتا ہے :
كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ(پ۲۰ ،القصص: ۸۸ )ترجمۂ کنزالایمان: ہرچیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے ۔
حدیث پاک میں جو شعر بیان کیا گیا وہ مکمل شعر یوں ہے :
اَلَا كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللّٰهَ بَاطِلٌ
وَ كُلُّ نُعَيْمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ
نَعِيمُكَ فِي الدُّنْيَا غُرُوْرٌ وَحَسْرَةٌ
وَ عَيْشُكَ فِي الدُّنْيَا مُحَالٌ وَبَاطِلُ
ترجمہ : سنو !اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز فانی ہے ، اور بلاشبہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے ، دنیا میں تمہاری نعمتیں دھوکہ اور پچھتاواہیں اور دنیا میں تمہاری زندگی مشکل اور بیکار ہے ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’کریم ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا ہر چیز فانی ہے ، بقا صرف اسی کی ذات کو ہے ۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا لبید
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسلام لانے کے بعد کبھی کوئی شعر نہیں کہا ، فرماتے ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے اشعار کے بدلے قرآن سکھا دیا ہے ۔
(3) حدیث پاک میں بیان کردہ شعر کو سب سے سچا شعر اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب سے سچے کلام یعنی قرآنِ مجید کی آیت کے موافق ہے ۔
(4) بلاشبہ دنیا کی نعمتیں زائل ہونے والی ہیں جواِن سے دل لگاتاہے اسے دھوکے اورپچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دِین و دنیاکی بھلائیاں عطا فرمائے ، دنیا کی فانی نعمتوں میں مشغول رہنے کے بجائے اُخروی نعمتوں کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 490