Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 484

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ اِنِّيْ لَاُحِبُّكَ ، فَقَالَ : اُنْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ، قَالَ : وَاللَّهِ اِنِّيْ لَاُحِبُّكَ ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : اِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَاَعِدَّ

لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا ، فَاِنَّ الفَقْرَ اَسْرَعُ اِلَی مَنْ يُحِبُّنِيْ مِنَ السَّيْلِ اِلَى مُنْتَهَاهُ. ( )

عن عبد الله بن مغفل رضي الله عنه قال : قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله والله اني لاحبك ، فقال : انظر ماذا تقول ، قال : والله اني لاحبك ، ثلاث مرات ، فقال : ان كنت تحبني فاعد

للفقر تجفافا ، فان الفقر اسرع الی من يحبني من السيل الى منتهاه. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن مُغَفلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں عرض کی :یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : دیکھو کیا کہہ رہے ہو ، عرض کی :اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، تین مرتبہ یہی کہا ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہوتو پھر فقر کے لیے زِرَہ تیار کر لو کیونکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے فَقر اس کی جانب سیلاب سے بھی زیادہ رفتار سے بڑھتا ہے ۔ “

شرح حدیث

حضور کی محبت اصلِ ایمان ہے :” آقا ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہ عرض کرنا یا اس حدیث پر عمل ہے کہ ” جس سے تم کو محبت ہو اس سے کہہ دو ۔ “یا اس آیت ِکریمہ پر عمل ہے : (وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱))(پ۳۰ ،الضحی: ۱۱ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو ۔ ‘‘ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبتاللہتعالیٰ کی بڑی سے بڑی نعمت ہے اس کا اظہار وہ بھی حضورِ انور کے سامنے یہ اس نعمت کا شکریہ ہے ورنہ حضور کو تو پتھروں کے دل کا حال معلوم ہے ۔ فرماتے ہیں : ” اُحد ہم سے محبت کرتا ہے ۔ “ ( نیز ) محبت سے مراد بہت ہی محبت ہے ورنہ ہر مؤمن کو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت ہے حضور کی محبت ہی تو اصل ایمان ہے ، حضور کی محبت سے ہی خدا کی محبت ، کلمہ ، قرآن کی محبت اسی محبت سے حاصل ہوتی ہے حضور سے تعلق و محبت ایمان کی اصل ہے ۔ ( فقر کے لئے تیار ہوجاؤ ) فقیری سے مراد دل کی مسکینیت ہے اور دل کا محبتِ مال سے خالی ہو جانا ہے فقیری اور ناداری آفتوں کے برداشت کرنے پر تیار ہوجانایعنی جسےاللہمیری محبت دیتا ہے اس کے دل سے محبت مال وغیرہ یک دم نکال دیتا ہے ۔ لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض صحابہ بلکہ عہد فاروقی میں سارے صحابہ بڑے مالدار تھے تو کیا انہیں حضور سے محبت نہ تھی ضرور تھی ، ان سب کے دل محبت مال سے خالی تھے ۔ “ ( )

¥
صبر کے ذریعے فقر سے بچو :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ اگر تو اپنی محبت کے دعوے میں سچا ہے تو پھر ایسی چیز تیار کر جو تجھے مصیبت کے وقت فائدہ پہنچائے اور وہ چیز صبر ہے اور خاص طورپر فقر پر صبر کر تاکہ تو اپنے یقین کی قوت اور اس صبر کے ذریعے جزع و فزع ، قلتِ قناعت جیسے نقائص کو اپنے دین سے دور کرسکے ۔ حدیث مذکور میں زِرہ کو صبر سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ صبر بھی فقر سے ایسے ہی بچاتا ہے جیسے زِرہ جسم کو تکلیف سے بچاتی ہے ۔ نیز حدیث پاک میں فرمایا گیا کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرنے والے کی طرف فقر سیلاب کی طرح تیزی سے بڑھتا ہے یعنی اس پر بہت جلد اور بہت کثرت کے ساتھ آزمائشیں اورمصیبتیں نازل ہوتی ہیں ، کیونکہ سب سے زیادہ شدید ترین آزمائشیں انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامپر نازل ہوتی ہیں اور پھر درجہ بدرجہ دوسرے لوگوں پر اور حضورعَلَیْہِ السَّلَامسیدالانبیاء ہیں لہٰذا آپ پر نازل ہونے والی آزمائشیں دیگر انبیاء کے مقابلے میں زیادہ شدید ہیں اور اسی طرح جو آپ سے محبت کرتا ہے اس پر بھی شدید آزمائشیں آتی ہیں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’انبیاء ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی محبتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت بڑی نعمت ہے ، یہ محبت ہی اصلِ ایمان ہے ۔
(2) نبی کریم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کئے بغیر کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ، ہرمسلمان کو نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت ضرور ہوتی ہے ۔
(3) آفتوں سے بچنے کے لیے صبر زرہ کی مانند ہے ، صبر انسان کو فقر کی حالت میں شکوہ وشکایت کرنے سے محفوظ رکھتا ہے ۔

(4) دنیا میں سب سے زیادہ مصائب انبیاء کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامپر اور خصوصًا سید الانبیاءصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر آئے اسی لیے آپعَلَیْہِ السَّلَامسے محبت کرنے والے پر بھی کثرت سے مصیبتیں نازل ہوتی ہیں کیونکہ انسان کا حال وہی ہوتا ہے جو اس کے محبوب کا ہوتا ہے ۔
(5) کامل محبت وہی ہوتی ہے جس میں محبوب کی اتباع کی جائے ۔
(6) حضور
عَلَیْہِ السَّلَامسے محبت کا دعوی کرنااور آپ کی اتباع نہ کرنا محبت میں کمی کی علامت ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت عطافرمائے ! اتباعِ سنت کی توفیق عطافرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 484