Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 471

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : اَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبَيَّ ، فَقَالَ : کُنْ فِي الدُّنْيَا کَاَنَّكَ غَرِيبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا یَقُوْلُ : اِذَا اَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَاِذَا

اَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. ( )
قَالُوْا فِيْ شَرْحِ هٰذَا الْحَدِيْثِ مَعَنَاهُ : لَا تَرْكَنْ اِلَى الدُّنْيَا وَلَا تَتَّخِذْهَا وَطَنًا ، وَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِطُوْلِ الْبَقَاءِ فِيْهَا ، وَلَا بِالْاِعْتِنَاءِ بِهَا ، وَلَا تَتَعَلَّقْ مِنْهَا اِلَّا بِمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ الْغَرِيْبُ فِيْ غَيْرِ وَطَنِهِ ، وَلَا تَشْتَغِلْ فِيْهَا بِمَا لَا يَشْتَغِلُ بِهِ الْغَرِيْبُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الذَّهَابَ اِلَى اَهْلِهِ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. ( )

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنكبي ، فقال : کن في الدنيا کانك غريب او عابر سبيل ، وكان ابن عمر رضي الله عنهما یقول : اذا امسيت فلا تنتظر الصباح ، واذا

اصبحت فلا تنتظر المساء وخذ من صحتك لمرضك ، ومن حياتك لموتك. ( )
قالوا في شرح هذا الحديث معناه : لا تركن الى الدنيا ولا تتخذها وطنا ، ولا تحدث نفسك بطول البقاء فيها ، ولا بالاعتناء بها ، ولا تتعلق منها الا بما يتعلق به الغريب في غير وطنه ، ولا تشتغل فيها بما لا يشتغل به الغريب الذي يريد الذهاب الى اهله ، وبالله التوفيق. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے کندھے پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” دنیا میں یوں رہو گویا کہ تم مسافر یا راستہ طے کرنے والے ہو ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرمایا کرتے تھے کہ ” جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرلو تو شام کے منتظر نہ رہو اور حالت صحت میں بیماری کے لیے اور زندگی میں موت کے لیے تیاری کرلو ۔ “
امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلامحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ” مطلب یہ ہے کہ دنیا کی طرف مائل نہ ہو ، دنیا کو وطن نہ بناؤ ، نفس کو لمبی زندگی کی امید نہ دلاؤ اور دنیا کی طرف متوجہ نہ ہو ، اس سے صرف اتنا تعلق رکھو جتنا گھر کی طرف لوٹنے والا مسافر دوسرے وطن سے رکھتا ہے ۔ “

شرح حدیث

دنیا منزل ہے اورآخرت وطن :حدیث مذکور میں بیان ہواکہ نبی کریم ، رؤوف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے پیارے صحابی حضرت سیدناعبد اللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکا کندھا پکڑکرانہیں نصیحت فرمائی ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” کندھا پکڑنا قلبی فیض دینے کے لیے تھا قلبی فیض کے بغیر نصیحت اثر نہیں کرتی ۔ زبان سے قال دیا جاتا ہے نگاہ سے حال عطا کیا جاتا ہے ، صرف قال بغیر حال مفید نہیں ۔ نیز مسافر اس شخص کو کہتے ہیں جو سفر پر نکلے اگرچہ کسی جگہ چند دن ٹھہر جائے مگر راہ گیر وہ ہے جو کسی جگہ دوپہری گزارنے کے لیے بیٹھ جائے یہ دونوں سفر اور جنگل میں دل نہیں لگاتے تم بھی دنیا میں دل نہ لگاؤ ، مسافروں کی طرح اگلی منزل کے لیے تیار رہو ، دنیا منزل

ہے آخرت وطن ، منزل پر کچھ دیر آرام کرلو مگر غافل ہو کر سو نہ جاؤ سفر کا سامان باندھے تیار رہو ، جب موت کی ریل آئے تمہیں تیار پائے ہر وقت اس کے منتظر رہو ۔ “ ( ) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : ” جیسے مسافر منزل اور وہاں کی زیب و زینت سے دل نہیں لگاتاکیونکہ اسے آگے جانا ہوتاہے ایسے ہی تم یہاں کے انسان اور سامان سے دل نہ لگاؤ ، ورنہ مرتے وقت ان کے چھوٹنے سے بہت تکلیف ہوگی ۔ “ ( )
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ” حدیثِ مذکور میں مسافر کی طرح زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ مسافر کی لوگوں سے جان پہچان بہت کم ہوتی ہے اسی وجہ سے اس میں حسد ، عداوت ، کینہ ، نفاق اور مخالفت نہیں ہوتی اور یہ تمام رذائل لوگوں سے میل جول رکھنے کی بنا پر ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ اسی طرح مسافر کے پاس وہ چیزیں بھی نہیں ہوتیں جو اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل کریں جیسے مال ، مکانات ، باغات ، کھیتی اور اہل و عیال وغیرہ ۔ اسی وجہ سے حدیث پاک میں مسافر کی طرح زندگی گزارنے کا کہا گیا ہے کہ نہ وہ خود بُری صفات کا حامل ہوتا ہے اور نہ اس کے پاس وہ چیزیں ہوتی ہیں جو اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی یاد سے غافل کریں ۔ “ ( )مدنی گلدستہ
’’ حُسین ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
دنیا اور اس کے مال سے دل نہیں لگانا چاہیے ورنہ مرتے وقت ان کے چھوٹنے پر تکلیف ہوگی ۔
(2) مسلمان کو اپنی زندگی ایسے گزارنی چاہیے کہ لوگوں سے ضرورت کی حد تک میل ملاپ رکھے ، اپنے دل کو حسد ، کینہ اور بغض جیسے امراض سے پاک رکھے اور غفلت والے کاموں سے بچتے ہوئے نیک اعمال میں مصروف رہے ۔
(3) جو شام کرلے وہ صبح تک زندہ رہنے کی امید نہ رکھے اور جو صبح کرلے وہ شام تک زندہ رہنے کی امیدنہ رکھے بلکہ ہر وقت موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے ۔

(4) لمبی امیدوں سے بچنا چاہیے کہ جو شخص طویل زندگی کی امید کرتا ہے وہ نیک اعمال میں سستی کا شکار ہوجاتا ہے ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت ترک کردیتا ہے اور دنیا میں مشغول ہو جاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا وآخرت میں اپنی حفظ و امان میں رکھے ، لمبی امیدوں سے بچائے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطافرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 471