Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 460

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ اِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ. ( )

عن انس رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : اللهم لا عيش الا عيش الآخرة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اےاللہ(عَزَّ وَجَلَّ) ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے ۔ “

شرح حدیث

حدیث پاک کا پس منظر :مذکورہ حدیث پاک کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ( جنگ اَحزاب میں جب ) مہاجرین و اَنصار خندق کھودنے لگے اورمٹی ہٹانے لگے تو وہ یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جہاد پر بیعت کرلی ہمیشہ کے لیے جب تک کہ ہم باقی رہیں تو نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے : ” اےاللہ! زندگی تو آخرت ہی کی ہے ، پس تو انصارومہاجرین کو بخش دے ۔ “ ( )مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار

خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” اس فرمانِ عالی میں حضراتِ صحابہ کو تسکین دینا ہے کہ یہاں کی مشقت پر نہ گھبراؤ ، اگلی زندگی میں دائمی عیش پاؤ گے ۔ “ ( )
¥
دنیا کی لذتیں فانی ہیں :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” اس حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اپنی اُمت کو اِس بات پر تنبیہ کی ہے کہ دنیا کم تر و حقیر ہے ، اس کی لذتیں بے مزہ اور جلد فنا ہونے والی ہیں ، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی ہے اور اس کی لذتیں کبھی بے مزہ نہ ہوں گی اور وہ ایسی زندگی ہے جس میں نفس اپنی خواہش کے مطابق ہر چیز پائے گااور اس کی نعمتیں آنکھوں کو لذت دیں گی ، ایسی زندگی کے بدلے فانی دنیا میں مشغول ہونے میں کوئی فائدہ نہیں ۔ “ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” جبرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ خندق کھودنے کی وجہ سے مشقت میں پڑ گئے ہیں تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اُنہیں ( تسلی دیتے ہوئے ) فرمایا کہ زندگی تو آخرت ہی کی ہے یعنی انسان کو اِس دنیا میں پہنچنے والی تکلیف پر غمزدہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ تکلیف تو ختم ہونے والی ہے لیکن اس کا اجر دائمی اور باقی رہنے والا ہے ۔ “ ( )
¥
اُخروی سعادت چار چیزوں پر مشتمل ہے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جس طرح دنیا کی زندگی فانی اور بہت جلد ختم ہونے والی ہے ایسے ہی دنیا میں حاصل ہونے والی نعمتیں بھی عارضی ہیں ۔ حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جسے فنا نہیں ، آخرت کی زندگی بھی دائمی ہے اور وہاں کی خوشیاں بھی ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں ۔حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ” اُخروی سعادت چار چیزوں پر مشتمل ہے ۔ ( 1 ) دائمی زندگی ( 2 ) غم سے خالی خوشیوں بھری زندگی ( 3 ) جہالت سے پاک علم سے بھرپور زندگی اور ( 4 ) دائمی مالداری ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’جنت ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1)
صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے حضورعَلَیْہِ السَّلَامسے مرتے دم تک جہاد کرنے پر بیعت کی تھی ۔
(2) دنیا میں حاصل ہونے والی خوشی بہت جلد ختم ہو جاتی ہے لیکن آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتیں اور خوشیاں ہمیشہ رہنے والی ہیں ۔
(3) دنیا میں پہنچنے والی مصیبتوں پر غمزدہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان پر صبر کرنا چاہیے کہ یہ تو ختم ہو جائیں گی لیکن اِن کا اجر باقی رہے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں آخرت کی زندگی کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 460