Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 465

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ اَمْشِيْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حَرَّةٍ بِالْمَدِيْنَةِ ، فَاسْتَقْبَلَنَا

اُحُدٌ فَقَالَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَارَسُوْلَ اللهِ ! فَقَالَ : مَا يَسُرُّ نِيْ اَنَّ عِنْدِيْ مِثْلَ اُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا تَمْضِيْ عَلَيَّ ثَلاَثَةُ اَيَّامٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ دِيْنَارٌ اِلَّا شَيْءٌاُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ اِلَّا اَنْ اَقُوْلَ بِهِ فِيْ عِبَادِ اللهِ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا عَنْ يَمِيْنِهِ وعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ سَارَ ، فَقَالَ : اِنَّ الْاَ كْثَرِيْنَ هُمُ الْاَقَلُّوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِاِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا عَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَقَلِيْلٌ مَّاهُمْ ثُمَّ قَالَ لِيْ : مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ فيِْ سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا ، قَدِ ارْتَفَعَ فَتَخَوَّفْتُ اَنْ يَّكُوْنَ اَحَدٌ عَرَضَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَرَدْتُ اَنْ آتِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ : لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ فَلَمْ اَبْرَحْ حَتَّى اَتَانِيْ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : وَهَلْ سَمِعْتَهُ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَاكَ جِبْرِيْلُ اَتَانِيْ فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ؟ قَالَ : وَ اِنْ زَنٰی وَ اِنْ سَرَقَ. ( )

عن ابي ذر رضي الله عنه قال : كنت امشي مع النبی صلى الله عليه وسلم في حرة بالمدينة ، فاستقبلنا

احد فقال : يا ابا ذر ! قلت : لبيك يارسول الله ! فقال : ما يسر ني ان عندي مثل احد هذا ذهبا تمضي علي ثلاثة ايام وعندي منه دينار الا شيءارصده لدين الا ان اقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله ومن خلفه ، ثم سار ، فقال : ان الا كثرين هم الاقلون يوم القيامةالا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا عن يمينه وعن شماله ومن خلفه وقليل ماهم ثم قال لي : مكانك لا تبرح حتى آتيك ثم انطلق في سواد الليل حتى توارى ، فسمعت صوتا ، قد ارتفع فتخوفت ان يكون احد عرض للنبي صلى الله عليه وسلم فاردت ان آتيه فذكرت قوله : لا تبرح حتى آتيك فلم ابرح حتى اتاني ، فقلت : لقد سمعت صوتا تخوفت منه ، فذكرت له ، فقال : وهل سمعته؟ قلت : نعم ، قال : ذاك جبريل اتاني فقال : من مات من امتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ، قلت : وان زنی وان سرق؟ قال : و ان زنی و ان سرق. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ مدینہ طیبہ کی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا کہ اُحد پہاڑ ہمارے سامنے آیا ، حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا : ” اے ابو ذر ! میں نے عرض کی : ”لَبَّیْک یَارَسُوْلَ اللہ! آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تین دن اس حال میں گزر جائیں کہ سوائے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھی ہوئی رقم کے اُس پہاڑ میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی ہو مگر یہ کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں اُسے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں ، بائیں اور پیچھے خرچ کردوں ۔ “ پھر آپ چل پڑے اور ارشاد فرمایا : ” بے شک مالدار لوگ قیامت کے دن مفلس ( یعنی کم اجر والے ) ہوں گے سوائے اس شخص کے جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں ، بائیں اور پیچھے خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ “ پھر مجھ سے فرمایا : ” اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور میرے واپس آنے تک کہیں نہ جانا ۔ “ پھر آپعَلَیْہِ السَّلَامرات کے اندھیرے میں چل پڑے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہوگئے ، پھر میں نے ایک بہت اونچی آواز سُنی ، میں خوف زدہ ہوا کہ کہیں حضور سے کسی نے تعرض نہ کیا ہو ، پس میں نے آپ کے پاس جانے کا اِرادہ کیا لیکن مجھے آپ کی بات یاد آگئی کہ ” میرے آنے تک یہاں سے نہ جانا“ لہٰذا میں وہیں رُکا رہا

یہاں تک کہ آپ واپس تشریف لے آئے ، میں نے عرض کی : ” میں نے ایک بلند آواز سُنی تھی جس سے میں ڈر گیا ۔ ‘‘ پس میں نے آپ سے اس کا ذکر کیاتو آپ
عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” کیا تم نے وہ آواز سُنی تھی؟ ‘‘ میں نے عرض کی : ” جی ہاں ۔ “ فرمایا : ” وہ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) تھے جو میرے پاس آئے اور کہا کہ ” آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘‘ میں نے کہا : ” اگرچہ وہ زناکار یا چور ہو؟ ‘‘ فرمایا : ’’ اگرچہ وہ زناکار یا چور ہو ۔ “

شرح حدیث

حدیثِ مذکورسے معلوم ہواکہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس بات کو پسند فرماتے کے ضرورت سے زیادہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کوئی چیز نہ ہو ، یہ بھی معلوم ہواکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو راہ ِ خدا میں مال خرچ کرنا بہت محبوب تھا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیکی کے کاموں میں جلدی فرماتے ، دنیاوی مال اپنے پاس رکھنا پسند نہ فرماتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بھی نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 465