- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- زھد و فقر کی فضیلت
- حدیث نمبر 470
زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 470
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ. ( )
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “
شرح حدیث
شہوات کوترک کرنے والا قید میں ہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” مؤمن کے لیے دنیا قید خانہ اس وجہ سے ہے کہ مؤمن اپنے نفس کو لذتوں سے دُور رکھ کر اسے سختیوں میں مبتلا کرتا ہے تو دنیا اس کے لیے قید خانہ بن جاتی ہے اور کافر اپنے نفس کی تمام خواہشات پوری کرتا ہے تو یہ دنیا ہی اس کے لیے جنت کی طرح ہے ۔ “
قاضی فُضَیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” جس نے دنیا کی لذتوں اور اس کی شہوات کو ترک کیا وہ تو قید میں ہے لیکن جو دنیا کی لذتوں کو ترک نہیں کرتا اور اُن سے لطف اندوز ہوتا ہے وہ کونسی قید میں ہے ؟“ ( یعنی جس کے لیے دنیا قید نہیں اس کے لیے آخرت قید ہے ) مزیدفرماتے ہیں : ” اس قید کی مختلف صورتیں ہیں اور انسان کی حالت بدلنے کے ساتھ اس قید کی صورت بھی بدل جاتی ہے ۔ اس قید خانے میں انسان کو تکلیف پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان کو فرائض و واجبات ادا کرنے اور حرام مال سے اجتناب کرنے کا پابند کیا گیا ہے اس پابندی سے جو پریشانی ہوتی ہے وہ اس قید کی ایک صورت ہے ۔ اسی طرح انسان کو گرمی اور سردی سے ، مصیبتوں کے نازل ہونے سے ، مہنگائی سے ، اہل محبت کی وفات سے اور دُشمنوں کے غالب آنے سے جو تکلیف ہوتی ہے وہ اسی قید کا حصہ ہے ۔ اور اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ماں کے رحم میں نطفے کی تخلیق ہونے پھر اس کے مختلف مراحل سے گزرنے سے لے کر جھولے میں آنے تک انسان کو جو تکلیف ہوتی ہے یہ بھی دنیا کے قید خانے کی ایک صورت ہے اور اس تکلیف کے بارے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ(۴))(پ۳۰ ،البلد: ۴ ) (ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا ۔ ) یعنی وہ ہمیشہ بڑی مشقت میں رہتا ہے اور اس مشقت کی ابتدا ماں کے تنگ و تاریک رحم سے ہوتی ہے اور اس کی انتہاء موت پر ہوتی ہے ۔ دنیا کی اس قید سے چھٹکارا پانے کے بعد دو صورتیں ہیں : یا تو بندے کو بادشاہی لباس پہنا کر ہمیشہ کے لیے جنت کے اعلیٰ درجوں میں ٹھہرا دیا جائے گا یا پھر وہ غضب الٰہی کا شکار ہوگااور اسے جہنم میں دھکیلنے والے فرشتوں کے حوالے کردیا جائے گا اور وہ اسے دنیا کی عارضی اور معمولی قید سے نکال کر ہمیشہ رہنے والی سخت قید میں ڈال دیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اس سے پناہ عطا فرمائے ۔ ( )
¥دنیاکافر کے لیے جنت ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام میں ہو مگر اس کے لیے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے جس میں وہ دل نہیں لگاتا ۔ جیل اگرچہ اے کلاس ہو پھر بھی جیل ہے اور کافر خواہ کتنے ہی تکالیف میں ہوں مگر آخرت کے
عذاب کے مقابلہ اس کے لیے دنیا باغ اور جنت ہے وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے ، لہذا حدیث شریف پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض مؤمن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں اور بعض کافرتکلیف میں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورِ اَنور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا : اے ابو ذَر ! دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ ، جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے ، موت اس کی پکڑ کا دن اور دوزخ اس کا ٹھکانا ۔ “ ( ) منقول ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہوا تو غیب سے آواز آئی داؤد جیل سے رہا ہوگیا ۔ ( )
¥مؤمن دنیامیں تنگدست کیوں ہوتاہے ؟منقول ہے کہ حضرتِ سیدنا موسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عر ض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیرا مؤمن بندہ دنیا میں تنگدست کیوں ہوتاہے ؟ تو موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا گیا جب انہوں نے اس کی نعمتیں ملاحظہ کرلیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ” اے موسیٰ ! یہ وہ نعمتیں ہيں جنہیں میں نے اپنے مؤمن بندے کے لیے تیار کیا ہے ۔ “ اس پر موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیری عزت وجلال کی قسم ! اگر تیرا بندہ پیدائشی طور پر ٹُنڈااورلولا لنگڑا ہو اور جب سے تو نے اسے پیدا کیا اس وقت سے لے کر قیامت تک اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے جبکہ اس کا ٹھکانا یہی ہوتوگویااس نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی“ پھر موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” تیرے کافر بندے کے لیے دنیا اتنی کشا دہ کیوں ہوتی ہے ؟ تو آپعَلَیْہِ السَّلَامپر جہنم کا ایک دروازہ کھولا گیا اور فرمایا گیاکہ اے موسیٰ ! میں نے اس کے لیے یہ عذاب تیار کیا ہے تو موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیری عزت وجلال کی قسم ! جس دن سے تو نے اسے پیدا فرمایا ہے اگر وہ اس دن سے قیامت تک دنیا میں خوشحال رہے جبکہ اس کا ٹھکانہ یہ ہو توگویا اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’شیرِخدا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)مومن دنیا میں اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کرتا ہے اسی لیے دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے اور کافر دنیا میں اپنی تمام خواہشات پوری کرتا ہے اسی لیے دنیا اس کے لیے جنت ہے ۔
(2) دنیا کے قید خانے میں اِنسان کو مختلف صورتوں میں تکلیف پہنچتی ہے جیسے بیمار ہونا ، دوست اَحباب کی وفات ہونا ، دشمنوں کی طرف سے تکلیف پہنچنا یہ سب اسی قید کا حصہ ہے ۔
(3) مسلمان کو دنیا میں پہنچنے والی تکلیف آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جبکہ کافر کو دنیا میں جو نعمتیں ملتی ہیں وہ آخرت میں ملنے والے عذاب کے سامنے کچھ نہیں ۔
(4) دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ ، جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے ، موت اس کی پکڑ کا دِن اور دوزخ اس کا ٹھکانا ۔
(5) جب داؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا وِصال ہوا تو غیب سے آواز آئی ، داؤد جیل سے رہا ہوگیا ۔
(6) مسلمان اگر دنیا میں خوشحال زندگی بسر کرے تو بھی آخرت کی نعمتوں کے اعتبار سے یہ دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے اور اگر کافر دنیا میں پریشان حال ہو تب بھی یہ دنیا اس کے لیے جنت ہے کیونکہ اُسے آخرت میں جو عذاب ملنے والا ہے اس کے مقابلے میں یہ دنیا کی پریشانی جنت کی مانند ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 470