Main Icon

زھد و فقر کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 470

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “

شرح حدیث

شہوات کوترک کرنے والا قید میں ہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ” مؤمن کے لیے دنیا قید خانہ اس وجہ سے ہے کہ مؤمن اپنے نفس کو لذتوں سے دُور رکھ کر اسے سختیوں میں مبتلا کرتا ہے تو دنیا اس کے لیے قید خانہ بن جاتی ہے اور کافر اپنے نفس کی تمام خواہشات پوری کرتا ہے تو یہ دنیا ہی اس کے لیے جنت کی طرح ہے ۔ “

قاضی فُضَیل بن عیاض
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ” جس نے دنیا کی لذتوں اور اس کی شہوات کو ترک کیا وہ تو قید میں ہے لیکن جو دنیا کی لذتوں کو ترک نہیں کرتا اور اُن سے لطف اندوز ہوتا ہے وہ کونسی قید میں ہے ؟“ ( یعنی جس کے لیے دنیا قید نہیں اس کے لیے آخرت قید ہے ) مزیدفرماتے ہیں : ” اس قید کی مختلف صورتیں ہیں اور انسان کی حالت بدلنے کے ساتھ اس قید کی صورت بھی بدل جاتی ہے ۔ اس قید خانے میں انسان کو تکلیف پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان کو فرائض و واجبات ادا کرنے اور حرام مال سے اجتناب کرنے کا پابند کیا گیا ہے اس پابندی سے جو پریشانی ہوتی ہے وہ اس قید کی ایک صورت ہے ۔ اسی طرح انسان کو گرمی اور سردی سے ، مصیبتوں کے نازل ہونے سے ، مہنگائی سے ، اہل محبت کی وفات سے اور دُشمنوں کے غالب آنے سے جو تکلیف ہوتی ہے وہ اسی قید کا حصہ ہے ۔ اور اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ماں کے رحم میں نطفے کی تخلیق ہونے پھر اس کے مختلف مراحل سے گزرنے سے لے کر جھولے میں آنے تک انسان کو جو تکلیف ہوتی ہے یہ بھی دنیا کے قید خانے کی ایک صورت ہے اور اس تکلیف کے بارے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ(۴))(پ۳۰ ،البلد: ۴ ) (ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا ۔ ) یعنی وہ ہمیشہ بڑی مشقت میں رہتا ہے اور اس مشقت کی ابتدا ماں کے تنگ و تاریک رحم سے ہوتی ہے اور اس کی انتہاء موت پر ہوتی ہے ۔ دنیا کی اس قید سے چھٹکارا پانے کے بعد دو صورتیں ہیں : یا تو بندے کو بادشاہی لباس پہنا کر ہمیشہ کے لیے جنت کے اعلیٰ درجوں میں ٹھہرا دیا جائے گا یا پھر وہ غضب الٰہی کا شکار ہوگااور اسے جہنم میں دھکیلنے والے فرشتوں کے حوالے کردیا جائے گا اور وہ اسے دنیا کی عارضی اور معمولی قید سے نکال کر ہمیشہ رہنے والی سخت قید میں ڈال دیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اس سے پناہ عطا فرمائے ۔ ( )
¥
دنیاکافر کے لیے جنت ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ” مؤمن دنیا میں کتنا ہی آرام میں ہو مگر اس کے لیے آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا جیل خانہ ہے جس میں وہ دل نہیں لگاتا ۔ جیل اگرچہ اے کلاس ہو پھر بھی جیل ہے اور کافر خواہ کتنے ہی تکالیف میں ہوں مگر آخرت کے

عذاب کے مقابلہ اس کے لیے دنیا باغ اور جنت ہے وہ یہاں دل لگا کر رہتا ہے ، لہذا حدیث شریف پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض مؤمن دنیا میں آرام سے رہتے ہیں اور بعض کافرتکلیف میں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضورِ اَنور (
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا : اے ابو ذَر ! دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ ، جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے ، موت اس کی پکڑ کا دن اور دوزخ اس کا ٹھکانا ۔ “ ( ) منقول ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَا داؤد طائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا انتقال ہوا تو غیب سے آواز آئی داؤد جیل سے رہا ہوگیا ۔ ( )
¥
مؤمن دنیامیں تنگدست کیوں ہوتاہے ؟منقول ہے کہ حضرتِ سیدنا موسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عر ض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیرا مؤمن بندہ دنیا میں تنگدست کیوں ہوتاہے ؟ تو موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا گیا جب انہوں نے اس کی نعمتیں ملاحظہ کرلیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ” اے موسیٰ ! یہ وہ نعمتیں ہيں جنہیں میں نے اپنے مؤمن بندے کے لیے تیار کیا ہے ۔ “ اس پر موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیری عزت وجلال کی قسم ! اگر تیرا بندہ پیدائشی طور پر ٹُنڈااورلولا لنگڑا ہو اور جب سے تو نے اسے پیدا کیا اس وقت سے لے کر قیامت تک اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے جبکہ اس کا ٹھکانا یہی ہوتوگویااس نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی“ پھر موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” تیرے کافر بندے کے لیے دنیا اتنی کشا دہ کیوں ہوتی ہے ؟ تو آپعَلَیْہِ السَّلَامپر جہنم کا ایک دروازہ کھولا گیا اور فرمایا گیاکہ اے موسیٰ ! میں نے اس کے لیے یہ عذاب تیار کیا ہے تو موسیٰعَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کیا : ” یا ربعَزَّ وَجَلَّ! تیری عزت وجلال کی قسم ! جس دن سے تو نے اسے پیدا فرمایا ہے اگر وہ اس دن سے قیامت تک دنیا میں خوشحال رہے جبکہ اس کا ٹھکانہ یہ ہو توگویا اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔ “ ( )
مدنی گلدستہ
’’شیرِخدا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
مومن دنیا میں اپنی نفسانی خواہشات کو ترک کرتا ہے اسی لیے دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے اور کافر دنیا میں اپنی تمام خواہشات پوری کرتا ہے اسی لیے دنیا اس کے لیے جنت ہے ۔
(2) دنیا کے قید خانے میں اِنسان کو مختلف صورتوں میں تکلیف پہنچتی ہے جیسے بیمار ہونا ، دوست اَحباب کی وفات ہونا ، دشمنوں کی طرف سے تکلیف پہنچنا یہ سب اسی قید کا حصہ ہے ۔
(3) مسلمان کو دنیا میں پہنچنے والی تکلیف آخرت میں ملنے والی نعمتوں کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی جبکہ کافر کو دنیا میں جو نعمتیں ملتی ہیں وہ آخرت میں ملنے والے عذاب کے سامنے کچھ نہیں ۔
(4) دنیا مؤمن کی جیل ہے اور قبر اس کے چھٹکارے کی جگہ ، جنت اس کے رہنے کا مقام ہے اور دنیا کافر کے لیے جنت ہے ، موت اس کی پکڑ کا دِن اور دوزخ اس کا ٹھکانا ۔
(5) جب داؤد طائی
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا وِصال ہوا تو غیب سے آواز آئی ، داؤد جیل سے رہا ہوگیا ۔
(6) مسلمان اگر دنیا میں خوشحال زندگی بسر کرے تو بھی آخرت کی نعمتوں کے اعتبار سے یہ دنیا اس کے لیے قید خانہ ہے اور اگر کافر دنیا میں پریشان حال ہو تب بھی یہ دنیا اس کے لیے جنت ہے کیونکہ اُسے آخرت میں جو عذاب ملنے والا ہے اس کے مقابلے میں یہ دنیا کی پریشانی جنت کی مانند ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 470